اسلام آباد۔19اپریل (اے پی پی):حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر74 فیصد اورتجارتی خسارہ میں 35.6 فیصدکی نمایاں کمی ریکارڈکی گئی ہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے لیکر مارچ 2023 تک کی مدت میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 3.37 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 13.01 ڈالرتھا، …
حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں سالانہ بنیادوں پر74 فیصد، تجارتی خسارہ میں 35.6 فیصدکی نمایاں کمی

مزید خبریں
اسلام آباد۔19اپریل (اے پی پی):حسابات جاریہ کے کھاتوں کے خسارہ میں جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر74 فیصد اورتجارتی خسارہ میں 35.6 فیصدکی نمایاں کمی ریکارڈکی گئی ہے۔سٹیٹ بینک کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے لیکر مارچ 2023 تک کی مدت میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاخسارہ 3.37 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 13.01 ڈالرتھا، مارچ میں حسابات جاریہ کے کھاتوں کاتوازن 654 ملین ڈالرفاضل رہا۔
مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں پرائمری بیلنس 3.89 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 3.79 ارب ڈالرکے مقابلہ میں تین فیصدزیادہ ہے۔ اعدادوشمارکے مطابق ملک کے تجارتی خسارہ میں جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر35.6 فیصدکی نمایاں کمی ریکارڈکی گئی ، جولائی سے لیکرمارچ تک کی مدت میں ملک کاتجارتی خسارہ 22.88 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 35.50 ارب ڈالرتھا، مارچ میں تجارتی خسارہ کاحجم 1.44 ارب ڈالررہا جوگزشتہ سال مارچ کے 3.63 ارب ڈالرکے مقابلہ میں 60.2 فیصدکم ہے۔
اعدادوشمارکے مطابق ملکی برآمدات میں جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر9.8 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی، اس مدت میں ملکی برآمدات کاحجم 21.05 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 23.35 ارب ڈالرتھا، مارچ میں برآمدات کاحجم 2.37 ارب ڈالررہا جوگزشتہ سال مارچ کے مقابلہ میں 14.6 فیصدکم ہے، فروری کے مقابلہ میں مارچ میں ملکی برآمدات میں ماہانہ بنیادوں پر8.3 فیصدکی نموریکارڈکی گئی ہے۔
اعدادوشمارکے مطابق جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں ملکی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر25.4 فیصدکی نمایاں کمی ریکارڈکی گئی ہے،اس مدت میں درآمدات پر43.93 ارب ڈالرکازرمبادلہ صرف ہوا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 58.85 ارب ڈالرتھا، مارچ میں ملکی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر40.4 فیصدکی نمایاں کمی ہوئی ہے۔سٹیٹ بینک اورپی بی ایس کے مطابق براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں جاری مالی سال کے پہلے 9 ماہ میں سالانہ بنیادوں پر23 فیصدکی کمی ریکارڈکی گئی ہے۔
پاکستان بیوروبرائے شماریات کی جانب سے اس حوالہ سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق جولائی سے لیکرمارچ2023 تک کی مدت میں ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم1.048 ارب ڈالرریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 23 فیصدکم ہے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم 1.353 ارب ڈالرریکارڈکیاگیاتھا،مارچ میں ملک میں 163 ملین ڈالرکی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ہوئی جوگزشتہ سال مارچ میں 30 ملین ڈالرتھی۔








