حساس سسٹمز کے تحفظ کے لیے سخت ایکسس کنٹرولز کا نفاذ ناگزیر ہے، نیشنل سرٹ کا انتباہ

نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نےایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حساس و اہم سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے سخت ایکسس مینجمنٹ نافذ کریں۔سسٹم کے مسلسل اور محفوظ آپریشنز کو یقینی بنانے کے لیے غیر مجاز رسائی کی روک تھام بنیادی تقاضا ہے۔

اسلام آباد۔22اکتوبر (اے پی پی):نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نےایڈوائزری جاری کرتے ہوئے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے حساس و اہم سسٹمز کو محفوظ بنانے کے لیے سخت ایکسس مینجمنٹ نافذ کریں۔سسٹم کے مسلسل اور محفوظ آپریشنز کو یقینی بنانے کے لیے غیر مجاز رسائی کی روک تھام بنیادی تقاضا ہے۔

سائبر سکیورٹی سے آگاہی کے عالمی ماہ (سائبر منتھ 2026) کے موقع پر نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ اہم سسٹمز تک صرف مجاز اور تصدیق شدہ صارفین کو ہی رسائی دی جائے اور جن افراد کو ضرورت نہ ہو ان کا داخلہ فوری طور پر بلاک کر دیا جائے۔

اس کے علاوہ ‘کم سے کم مراعات’ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ملازمین یا صارفین کو صرف اتنی ہی رسائی دی جائے جو ان کے کام کے لیے ناگزیر ہو، تاکہ غیر ضروری اجازت کے غلط استعمال کو روکا جا سکے۔ایڈوائزری میں مزید کہا گیا ہے کہ سسٹم تک رسائی کی مسلسل نگرانی اور پرمیشنز کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے اور جن اکاؤنٹس یا صارفین کو مزید رسائی درکار نہ ہو، ان کے اختیارات فوری منسوخ کیے جائیں۔

اس کے ساتھ ساتھ صارفین کی مستند تصدیق کے لیے مضبوط پاس ورڈز اور ملٹی فیکٹر اتھینٹیکیشن (ایم ایف اے ) کے لازمی نفاذ پر زور دیا گیا ہے تاکہ "درست صارف، درست رسائی اور درست وقت” کے اصول کے تحت ڈیجیٹل سسٹمز کو ہر قسم کے سائبر خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔