حضور ﷺ کی ذات مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغام ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا جشن یوم ولادت سید الانبیاء حضرت محمد ﷺ 12 ربیع الاول 1448ھ پر پیغام
حضور ﷺ کی ذات مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغام ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا، وزیراعظم محمد شہباز شریف کا جشن یوم ولادت سید الانبیاء حضرت محمد ﷺ 12 ربیع الاول 1448ھ پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اگست (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں امت مسلمہ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یوم ولادت کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حضور ﷺ کی ذات مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغام ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا۔ 12 ربیع الاول 1448ھ کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ 12 ربیع الاول 1448ھ کے بابرکت دن پر پاکستان اور پوری دنیا میں مقیم امت مسلمہ کو سید الانبیاء خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت پر دلی مبارکباد اور اظہار عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حضور ﷺ کی ذات مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغام ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال قومی سطح پر ہم اس مبارک دن کو’’نسل نو کا تحفظ، تعبیر اور کردار سیرت النبی کی روشنی میں‘‘ کے زیر عنوان منا رہے ہیں۔
نوجوان نسل کی بہترین کردار سازی کے لیے ہمیں سچائی، دیانت، محنت، نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور احساس ذمہ داری جیسے اسلامی شعار ان کی تربیت میں شامل کرنا ہوں گے تاکہ وہ سیرت رسول ﷺ کی روشنی سے منور اور علم و تحقیق، محنت و خدمت کے جذبات سے سر شار ہو کر ملک و قوم کی ترقی میں موثر کردار ادا کرسکیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت نے انسانی معاشرے کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک نئی سمت سے متعارف کروایا۔ آپﷺ نے مکہ مکرمہ میں توحید، تقویٰ اور اخلاقی پاکیزگی جیسی اقدار کے ذریعے دائمی اصلاح کی بنیاد رکھی اور مدینہ منورہ میں عملی طور پر عدل و مساوات، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق و فرائض سے آگاہ اسلامی معاشرہ قائم کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسوہ حسنہ ﷺ تمام مسلمانوں کی دینی و دنیاوی اصلاح و فلاح اور مثالی کامیابی کے لیے مشعل راہ ہے۔
یقیناً رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک دین اسلام کی تعلیمات کا بہترین نمونہ ہے جس کی گواہی قرآن پاک میں موجود ہے۔ سیرت النبی ﷺ بنی نوع انسان کے لئے صدیوں سے ہر دور کے بدلتے تقاضوں کے باوجود کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے انسانی شعور کو اوج کمال بخشا اور انسانوں کی ذہنی و اخلاقی نشوو نما اور انفرادی و اجتماعی زندگیوں کی ہدایت یافتہ راہ متعین کی۔شخصی اور سماجی کردار سازی سیرت نبوی ﷺ کے پیغام کا اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں درپیش معاشی و معاشرتی اور اخلاقی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں اپنی اجتماعی زندگی کو کامل ہدایت کے تابع سانچے میں ڈھالنا ہو گا۔
یہی ہماری اور آنے والی نسلوں کے لیے دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ آج کا یہ مبارک دن ہمیں معاشرے میں اتحاد و یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کے فروغ کی تاکید بھی کرتا ہے، کیونکہ باہمی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمے، برداشت اور باہمی احترام ہی اسوہ رسول ﷺ کے سنہری اصولوں کے مطابق ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئیے اس مبارک دن ہم یہ عہد کریں کہ ہم سیرت طیبہ کو اپنے کردار، انفرادی رویوں اور اجتماعی طرز عمل میں اختیار کرنے کی کوشش کریں گے اور پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال، پرامن اور فلاحی ریاست بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔







