12 ربیع الاوّل کا دن ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی یاد تازہ کرتا ہے جس کے ذریعے انسانیت کو ایمان، ہدایت، عدل، رحمت اور اخلاق حسنہ کا کامل راستہ عطا ہوا، صدر مملکت آصف علی زرداری کا 12 ربیع الاول 1448ھ کے بابرکت موقع پر پیغام
12 ربیع الاوّل کا دن ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی یاد تازہ کرتا ہے جس کے ذریعے انسانیت کو ایمان، ہدایت، عدل، رحمت اور اخلاق حسنہ کا کامل راستہ عطا ہوا، صدر مملکت آصف علی زرداری کا 12 ربیع الاول 1448ھ کے بابرکت موقع پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔26اگست (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے پوری قوم اور عالم اسلام کو نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی یاد تازہ کرتا ہے جس کے ذریعے انسانیت کو ایمان، ہدایت، عدل، رحمت اور اخلاق حسنہ کا کامل راستہ عطا ہوا۔ ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے 12 ربیع الاوّل 1448ھ کے بابرکت موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان ہے کہ اپنے محبوب نبی آخری الزماں حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت درحقیقت عالم انسانیت کے ایسے روشن دور کا آغاز تھی جہاں جہالت کی تاریکی سے چھٹکارا اورعلم و ہدایت کا اجالا نصیب ہوا، ظلم کا تدارک اور عدل و انصاف کی لازوال داستان رقم ہوئی اور طبقاتی تقسیم کی حوصلہ شکنی کرکے اخوت، مساوات اور بھائی چارے کا فروغ ہوا۔
صدر مملکت نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنے اسوہ حسنہ سے قرآن مجید پر عمل پیرا ہوکر انفرادی اور اجتماعی فلاح اور نجات کے حصول کا وہ انقلاب برپا کیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ آپ ﷺ نے ثابت کیا کہ ایک صالح معاشرے کا حصول اعلیٰ فطری اقدار، عدل، رحم، احساس ذمہ داری کو اختیار کرنے اور ارشاد باری تعالیٰ پر عمل کرتے ہوئے تقویٰ و پرہیز گاری کا مظاہرہ کرنے سے عمل میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسانوں کے مابین باہمی احترام اور خیر سگالی کے جذبات کو فروغ دیا جائے، آپ ﷺ نے معاشرے میں کمزور و محروم، یتیم و مسکین اور ضرورت مند افراد کے حقوق کی حفاظت فرمائی اور آپس میں حسن سلوک و بھائی چارےکی تعلیم دی۔ صدر نے کہا کہ 12 ربیع الاول کا تقاضا ہے کہ ہم عشق رسول ﷺ کا اظہار نبی کریم ﷺ کی سیرت و سنت مبارکہ کو اپنے انفرادی و اجتماعی اعمال میں اپنا کر بنی نوع انسان کے لئے مثال بنیں۔
انہوں نے کہا کہ بحیثیت امت محمدی ﷺ ہم پر لازم ہے کہ اپنے معاشرے میں عدل و انصاف، برداشت، بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی وقار کے تحفظ کا عملی مظاہرہ کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ نوجوان نسل کو سیرت طیبہ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے علم، بلند کردار، محنت اور خدمتِ انسانیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس پر مسرت اور بابرکت موقع پر امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کے عوام کے لیے دعا گو ہوں کہ الّلہ تعالیٰ ہمیں رسول کریم ﷺ کی سچی محبت، آپ ﷺ کی اتباع اور آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے وطن کو امن، استحکام اور خوشحالی سے ہمکنار کرے اور پوری انسانیت کے لیے خیر و سلامتی کا ذریعہ بنائے۔







