حقِ شفعہ کے مقدمات میں قانونی تقاضوں کی سختی سے پابندی لازمی ہے ، سپریم کورٹ کا اپیل کی اجازت دینے سے انکار

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ حقِ شفعہ کے دعوے میں طلبِ مواثبت اور طلبِ اشہاد سمیت تمام قانونی تقاضوں کی مکمل اور واضح تکمیل ناگزیر ہے، جبکہ طلبِ اشہاد کی تاریخ اور دیگر ضروری تفصیلات دعوے میں درج نہ کرنا مقدمے کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد۔4جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ حقِ شفعہ کے دعوے میں طلبِ مواثبت اور طلبِ اشہاد سمیت تمام قانونی تقاضوں کی مکمل اور واضح تکمیل ناگزیر ہے، جبکہ طلبِ اشہاد کی تاریخ اور دیگر ضروری تفصیلات دعوے میں درج نہ کرنا مقدمے کے لیے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ایک حقِ شفعہ کے مقدمے میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی اجازت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے نچلی عدالتوں کے متفقہ فیصلوں کو برقرار رکھا۔جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے غلام عباس کی جانب سے دائر سول پٹیشن نمبر 4168/2022 کی سماعت کے بعد مختصر فیصلہ جاری کیا۔تفصیلی تحریری فیصلہ کے مطابق مقدمے کے مطابق درخواست گزار نے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے موضع کرر میں واقع چار کنال اراضی کے بارے میں حقِ شفعہ کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ وہ متنازعہ زمین کا شریک مالک اور متصل زمین کا مالک ہونے کے باعث اس جائیداد کو خریدنے کا ترجیحی حق رکھتا ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اسے فروخت کا علم ہونے کے بعد اس نے قانون کے مطابق طلبِ مواثبت اور طلبِ اشہاد کی کارروائی مکمل کی اور خریداروں کو رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے نوٹس بھی بھجوائے۔تاہم ٹرائل کورٹ نے 30 مارچ 2011 کو مقدمہ خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ درخواست گزار طلبِ اشہاد کی قانونی تقاضوں کے مطابق ادائیگی ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بعد ازاں اپیلیٹ کورٹ اور پھر پشاور ہائی کورٹ نے بھی ٹرائل کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ حقِ شفعہ ایک کمزور نوعیت کا حق ہے، اس لیے اس کے دعویدار پر لازم ہے کہ وہ قانون میں مقرر تمام شرائط نہ صرف واضح طور پر بیان کرے بلکہ انہیں قابلِ اعتماد شواہد سے ثابت بھی کرے۔

عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے اپنے دعوے میں طلبِ اشہاد کی تاریخ درج نہیں کی، جو قانون اور عدالتی نظائر کی روشنی میں ایک بنیادی اور مہلک خامی ہے۔عدالت نے مختلف سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقِ شفعہ کے مقدمات میں طلبات (Talbs) کی ادائیگی اور ان کا ثبوت مقدمے کی بنیاد ہوتے ہیں۔ اگر طلبِ مواثبت یا طلبِ اشہاد میں سے کسی ایک کی بھی قانونی تقاضوں کے مطابق ادائیگی ثابت نہ ہو سکے تو پورا دعویٰ ناکام ہو جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ درخواست گزار یہ بھی ثابت نہیں کر سکا کہ طلبِ اشہاد کے نوٹس قانون کے مطابق خریداروں تک پہنچائے گئے تھے۔ عدالت کے مطابق ریکارڈ پر موجود شواہد اس معیار پر پورا نہیں اترتے جو ایسے مقدمات میں قانون نے مقرر کیا ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے ریکارڈ کیے گئے متفقہ نتائج شواہد کے درست جائزے پر مبنی ہیں اور ان میں کسی قسم کی قانونی غلطی، دائرۂ اختیار سے تجاوز یا مادی بے ضابطگی ثابت نہیں ہوتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ نظرثانی کے اختیار کے تحت محض کسی دوسرے ممکنہ نقطۂ نظر کی بنیاد پر حقائق سے متعلق متفقہ فیصلوں میں مداخلت نہیں کی جا سکتی۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزار اپنا دعویٰ قانون کے مطابق ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے، لہٰذا اپیل کی اجازت کی درخواست میں کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔ عدالت نے پٹیشن کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔