حق جرح کا غلط استعمال برداشت نہیں،عدالت کارروائی کو منظم رکھنے کی مجاز ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جرح کے نام پر گواہ کو ہراساں کرنا، غیر متعلقہ سوالات کرنا اور عدالتی کارروائی کو غیر ضروری طور پر طول دینا ناقابل قبول ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کورٹ کو یہ مکمل قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے حالات میں جرح کے حق کو محدود یا ختم کر دے …

اسلام آباد۔2فروری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جرح کے نام پر گواہ کو ہراساں کرنا، غیر متعلقہ سوالات کرنا اور عدالتی کارروائی کو غیر ضروری طور پر طول دینا ناقابل قبول ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ٹرائل کورٹ کو یہ مکمل قانونی اختیار حاصل ہے کہ وہ ایسے حالات میں جرح کے حق کو محدود یا ختم کر دے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق یہ فیصلہ جسٹس شاہد وحید اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے C.P.L.A. نمبر 1078/L/2025 میں سنایا۔

عدالت کے سامنے معاملہ لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق سول مقدمے سے جڑا تھاجس میں مدعی نے زمین کی ملکیت، فروخت ناموں اور انتقالات کو چیلنج کیا تھا۔ دوران سماعت مدعی بطور گواہ (PW-1) پیش ہوا جس پر مدعا علیہ کی جانب سے تقریباً دو ماہ کے دوران سات مختلف تاریخوں پر تفصیلی جرح کی گئی جو لگ بھگ 30 صفحات پر مشتمل تھی۔ٹرائل کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ مزید جرح غیر ضروری، غیر متعلقہ اور گواہ کو ہراساں کرنے کے مترادف ہےلہٰذا مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا گیا۔

اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی سول رویژن اور بعد ازاں ریویو پٹیشن بھی مسترد کر دی گئی۔سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ جرح کا حق غلط طور پر ختم کیا گیا۔ہائی کورٹ میں محدود جرح پر رضامندی نہیں دی گئی ۔ ہائی کورٹ کو مخصوص تاریخ اور وقت مقرر کرنے کا اختیار نہیں تھاتاہم سپریم کورٹ نے تمام دلائل مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ جرح کا حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام ۔عدالتیں گواہوں کو غیر ضروری تضحیک اور دبائو سے محفوظ رکھنے کی پابند ہیں۔

عدالتی ریکارڈ کی درستگی کا قوی قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے، ہائی کورٹ کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت کارروائی منظم کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ماضی کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طویل جرح کے ذریعے گواہ کو تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے۔آخر میں عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ، لاہور ہائی کورٹ اور ریویو میں دیئے گئے تمام احکامات قانون کے مطابق ہیں، لہٰذا درخواست اجازت اپیل مسترد کر دی گئی۔