اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقدامات سے ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہے، ٹیکسٹائل ملیں اور پاور لومز اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق چل رہی ہیں، ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگی میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے، صنعتی شعبہ کے لئے پیکیج سے برآمدات میں اصافہ ہوگا، ٹیکسٹائل کے شعبہ کے لئے پیکیج میں بجلی کے پیک …
حکومتی اقدامات سے ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہے، وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر کا فیصل آباد کے برآمد کنندگان اور تاجر برادری سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔18نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے اقدامات سے ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہے، ٹیکسٹائل ملیں اور پاور لومز اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق چل رہی ہیں، ٹیکس ریفنڈ کی ادائیگی میں 100 فیصد اضافہ ہوا ہے، صنعتی شعبہ کے لئے پیکیج سے برآمدات میں اصافہ ہوگا، ٹیکسٹائل کے شعبہ کے لئے پیکیج میں بجلی کے پیک آور ٹیرف کا خاتمہ کر دیا گیا، تاریخ کے سب سے بڑے کرنٹ اکاونٹ خسارہ کو ہماری حکومت 17 سال کے بعد سرپلس میں لائی ہے، جیسے جیسے معیشت بہتر ہوگی غیر ضروری ٹیکسز کو کم کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو فیصل آباد کے برآمد کنندگان اور تاجر برادری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر نے کہا کہ جب موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو اس وقت صنعتیں بند ہو رہی تھیں، لاکھوں افراد بے روزگار ہو چکے تھے، آج ہمیں فخر محسوس ہوتا ہے کہ تمام ٹیکسٹائل ملیں اور پاور لومز بحال ہو کر اپنی پوری صلاحیت کے مطابق چل رہی ہیں۔ یہ عظیم مقصد دو سال کے عرصہ میں حاصل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال محرم کی چھٹیوں کے علاوہ پورا سال ٹیکسٹائل کی صنعتیں چلتی رہی ہیں۔ یہ کوئی آسان سفر نہیں تھا، مشکل سفر تھا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی تو چند ہفتوں کے ذخائر باقی تھے، فنانس ڈویژن کے افسران کا کہنا تھا کہ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ ڈیفالٹ ہونے سے برآمدات بند ہو جاتیں، جو ممالک دیوالیہ ہوئے وہاں مہنگائی بہت اوپر تک گئی۔ عالمی اداروں نے پاکستانی معیشت کی درجہ بندی کم کر دی تھی اور پچھلے سال جا کر اس میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ دور میں ہماری کرنسی کو مصنوعی طور پر اوپر رکھا گیا۔ کرنسی مارکیٹ میں 500 ملین ڈالر ماہانہ جھونکا جا رہا تھا۔ پانچ سال میں ڈیڑھ ارب ڈالر برآمدات میں کمی آئی اور جی ڈی پی کے تناسب سے 13 فیصد سے کم ہو کر 9 فیصد پر آ گئی۔ اس صورتحال میں ہمیں سخت فیصلے کرنے پڑے۔ حکومتی اقدامات کی وجہ سے روپے کی قدر میں استحکام آیا، ہمارے ایکسپورٹرز نے دن رات محنت کر کے زرمبادلہ کے ذخائر کمائے۔ تاریخ کے سب سے بڑے کرنٹ اکاونٹ خسارہ کو ہماری حکومت 17 سال کے بعد سرپلس میں لائی۔ 2013ءسے 2018ءتک کاروبار میں آسانیوں کے حوالے سے درجہ بندی میں ہم بہت نیچے چلے گئے تھے لیکن موجودہ حکومت کی ایک سال کی مدت میں 28 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ ہم نے قرضوں پر 5 ہزار ارب روپے کا سود ادا کیا۔ ماضی میں مہنگے قرضے حاصل کئے گئے اور موجودہ حکومت نے ملک کی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے واپس کئے۔ فیتے کاٹنا آسان ہوتا ہے اور لئے گئے قرضے واپس کرنا سب سے مشکل کام ہوتا ہے۔ پچھلی حکومتوں کی سود کی قسطیں نکال لی جائیں تو آج حکومت پرائمری سرپلس میں ہے۔ عالمی ادارے ورلڈ بینک، آئی ایم ایف، ایشین ڈویلپمنٹ بینک پاکستان کی تعریف کر رہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف میں 21 نکات پر عمل درآمد کرلیا ہے، باقی بھی فروری تک پورے کرلئے جائیں گے۔ موجودہ حکومت نے کورونا صورتحال کے بعد اپنے تعمیراتی اور کاروباری شعبہ کو بروقت کھولا۔ دنیا میں اقتصادی کساد بازاری ہے لیکن ہم معیشت مثبت رجحان قائم کریں گے۔ قرضے موخر کرنے کا پیکیج دیا، حکومت نے 30 لاکھ چھوٹے کاروباروں کے تین ماہ کے بل خود ادا کئے۔ اس وقت صنعت کا پہیہ تیزی سے چل رہا ہے، ٹیکس فری بجٹ میں ہم نے موبائل مینوفیکچرنگ پالیسی لائی، انڈسٹری کو ریلیف دینے کا پیکیج دیا۔ حکومت نے کورونا کے دوران معیشت کے ساتھ پسماندہ طبقے کا بھی خیال رکھا۔ اب ملکی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹیکسٹائل کے شعبہ کے لئے پیکیج میں بجلی کے پیک آور ٹیرف کا خاتمہ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے صنعتی شعبہ کو سستی بجلی اور گیس فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ وہ وعدہ بھی پورا کیا۔ پچھلے سال 248 ارب روپے ری فنڈز دیئے گئے ہیں۔ اس سال 148 ارب روپے کے ریفنڈ دے چکے ہیں جو پچھلے سال سے 100 فیصد زیادہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ سیمنٹ کی فروخت ہو رہی ہے۔ اس سال توقع ہے کہ یوریا کھاد کی فروخت بھی ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ رہے گی۔ یوریا کے دو چھوٹے پلانٹس کو گیس کی فراہمی کے بعد چلایا گیا۔ گاڑیوں کی فروخت میں بھی گزشتہ سال کے مقابلہ میں 43 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ برآمدی صنعتوں کے لئے خام مال کی درآمد پر عائد ڈیوٹی کو بتدریج کم کریں گے۔ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو ان سات ممالک میں شمار کیا ہے جنہوں نے کووڈ کی وبا کا بہترین طریقے سے مقابلہ کیا۔ آج ہماری اسٹاک مارکیٹ ایشیاءکی بہترین سٹاک مارکیٹ ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ مارکیٹ ایکسچینج ریٹ کے میکنزم کو ہمیشہ کے لئے منظم بنائیں۔ آنے والے دنوں میں بہترین سے بہترین پیکیجز دیئے جائیں گے۔ آئندہ کے لئے ٹارگٹڈ مراعات بھی دی جائیں گی۔ فیصل آباد کی موٹر ویز سے لنک روڈ کے معاملات کو بھی حل کریں گے۔ جیسے جیسے معیشت بہتر ہوگی غیر ضروری ٹیکسز کو کم کیا جائے گا۔ برآمدات بڑھانے کے لئے پیداوار میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے اضافے کی ضرورت ہے۔







