حکومت برطانیہ نے اپنے محکمہ بین الاقوامی ترقی کے ذریعے کیڑے مار دوا ، حفاظتی لباس اور جی پی ایس آلات مہیا کردیئے، وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق

اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) ٹڈی دل کو کنٹرول کرنے کےلئے عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ایف اے او نے 20 الٹرا لو حجم (ULV) مائکرون سپرے، 1303 پرسنل پروٹیکشن آلات (پی پی ای) اور 100 جی پی ایس سسٹم وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حوالے کئے گئے۔مزید 30 ULV سپرے موسم گرما کے آخر تک …

اسلام آباد ۔ 22 جون (اے پی پی) ٹڈی دل کو کنٹرول کرنے کےلئے عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ایف اے او نے 20 الٹرا لو حجم (ULV) مائکرون سپرے، 1303 پرسنل پروٹیکشن آلات (پی پی ای) اور 100 جی پی ایس سسٹم وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حوالے کئے گئے۔مزید 30 ULV سپرے موسم گرما کے آخر تک پاکستان پہنچ جائیں گے۔ پیر کو وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے جاری پریس ریلیز کے مطابق حکومت برطانیہ نے اپنے محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی کے ذریعے کیڑے مار دوا اور حفاظتی لباس اور جی پی ایس آلات مہیا کئے، اس اعانت کا مقصد ٹڈی دل کی نگرانی اور کنٹرول کی کوششوں کوتیز کرنا اور مو¿ثر بنانا ہے۔ ایف اے او کی اس مدد کے ذریعے حکومت پاکستان ملک بھر میں کروڑوں چھوٹے کسانوں کی معاش اور خوراک کی حفاظت کا تحفظ کرے گی۔ یہ کسان پہلے ہی کوویڈ۔19 وبائی بیماری سے معاشی طور پر متاثر ہیں۔یہ اپ گریڈ شدہ سامان زمینی نگرانی اور کنٹرول آپریشن بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر برائے غذائی تحفظ وتحقیق نے کہا کہ میں ایف اے او کا شکر گزار ہوں۔وزیر اعظم نے جنوری 2020ءمیں ٹڈی دل کو لے کر ایمرجنسی لگائی۔ نتیجتاً نیشنل لوکسٹ کنٹرول سینٹر بنایا گیا۔ مائیکرون سپیرز انسداد ٹڈی دل میں مدگار ثابت ہوں گے۔وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ ایف اے او گزشتہ سال سے انسداد ٹڈی دل میں قائدانہ طور پر وفاقی وزارت کی مدد کر رہی ہے۔ آج ہم اس عمدہ شراکت کے نتائج دیکھ رہے ہیں ، ڈی ایف آئی ڈی کی بروقت مالی مدد کا بھی ہم شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس سامان سے وزارت اور این ایل سی سی کو مطلوبہ پیمانے پر زیادہ موثر نگرانی اور کنٹرول حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ نگرانی کی بہتر معلومات این ایل سی سی اور وزارت کو دن بدن کنٹرول کے عمل کی سمت اور ترجیح کے حوالے سے بہترین حکمت عملی سے متعلق فیصلے کرنے میں مدد فراہم کریں گی۔مون سون کے بعد ٹڈی دل کے متوقع خطرے سے نمٹنے کے لی? یہ سپرییرز کافی مددگار ثابت ہوں گے۔پی پی ای زمین پر کنٹرول آپریشن کرنے والی ٹیموں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنائے گی۔اس کے علاوہ ای لوکسٹ تھری جی،جی پی ایس سسٹم کے ساتھ قابل استعمال ہوں گی۔ای لوکسٹ کے ذریعے صوبائی اور وفاقی سطح پر ڈیٹا اور باہمی تعاون کے کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔رواں سال کے شروع میں جاری کردہ ایک رپورٹ میں ، ایف اے او نے ٹڈی دل کی افزائش کو خطرہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ٹڈی دل کے حملے کو کامیابی کے ساتھ قابو کرنا ضروری ہے۔ایف اے او متعلقہ سرکاری محکموں اور مقامی کاشتکاری کی صلاحیتوں کو بڑھانے کےلئے قومی وزارت برائے غذائی تحفظ وتحقیق ،محکمہ پلانٹ پروٹیکشن،نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم ایز) کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ٹڈی دل کی تعداد لاکھوں میں ہوسکتی ہے، وہ روزانہ 150 کلو میٹر تک اڑسکتی ہے ، اور اپنی زندگی میں تقریباً 2 ہزار کلومیٹر سفر کرتی ہیں تاکہ وہ افزائش کے لئے سازگار ماحول تلاش کرسکیں۔ اور عام طور پر تقریباً دو ہفتوں کے بعد انڈے دیتی ہیں۔ اگر ٹڈی دل پر قابو نہ پایا گیا تو وہ غذائی تحفظ کا بحران یا قحط پیدا کرسکتے ہیں۔ یہ سازگار زرعی ماحولیاتی حالات کے تحت بڑھتے ہیں ، زیادہ تر ٹڈی دل صحرا کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ ایک ہی علاقے میں پودوں کو کھانے کے بعد ، وہ دوسرے علاقوں میں ہجرت کر جاتے ہیں جہاں ان کے لئے کھانا دستیاب ہوتا ہے۔ مشرقی افریقہ اور جنوبی مغربی افریقہ پچھلے 25 سالوں میں ٹڈی دل کے حملے کے خلاف مربوط کوششیں کر رہے ہیں۔