اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولم ندیم بابر نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے کے لئے موثر اقدامات کررہی ہے، 2025 تک انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کاحصہ 20 فیصد اور 2030 تک 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا اور پن بجلی کی پیداوار میں 30 سے 40 فیصد کا اضافہ ہو گا، پاکستان سولر پینلز اور ونڈ ٹربائن …
حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے کے لئے موثر اقدامات کررہی ہے، پاکستان سولر پینلز اور ونڈ ٹربائن خود تیار کرے گا، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولم ندیم بابر کی برطانوی ہائی کمشنر سے ملاقات میں گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولم ندیم بابر نے کہا ہے کہ حکومت توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے کے لئے موثر اقدامات کررہی ہے، 2025 تک انرجی مکس میں قابل تجدید توانائی کاحصہ 20 فیصد اور 2030 تک 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا اور پن بجلی کی پیداوار میں 30 سے 40 فیصد کا اضافہ ہو گا، پاکستان سولر پینلز اور ونڈ ٹربائن خود تیار کرے گا۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے پاکستان میں برطانیہ کے ہائی کمشنرڈاکٹر کرسٹین ٹرنر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے جمعرات کو یہاں ان سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران توانائی سیکٹر پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں ندیم بابر نے کہا کہ برٹش کمپنیوں کی پاکستان کے توانائی شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کو سراہتے ہیں۔ پاکستان سولر پینل اور ونڈ ٹربائنز کی اسمبلی اور مینوفیکچرنگ خود کریگا۔ انہوں نے کہا کہ قابل تجدید توانائی منصوبوں سے ملک میں سستی اور ماحول دوست توانائی میسر ہو گی۔ توانائی منصوبوں سے ملک میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہو ں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بعض غیر ملکی کمپنیوں کے تعاون سے قابل تجدید منصوبوں کے لئے سولر پینلز اور ونڈ ٹربائنز کی تیاری کے منصوبے شروع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ برطانوی کمپنیوں کو ان منصوبوں میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنر نے کہا کہ برطانیہ کی پاکستان کیلئے 1.5 بلین ڈالر کی ایکسپورٹ کریڈٹ سہولت موجود ہے جو دیگر پاکستانی منصوبوں میں استعمال کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔








