اسلام آباد۔20مارچ (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ذریعے اور صوبائی اداروں کے اشتراک سے جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور خراب شدہ زمین کی بحالی کے لیے اقدامات کررہی ہے، گرین پاکستان پروگرام کے تحت 125 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے اور 2 ارب سے زائد درخت لگائے یا تقسیم …
حکومت جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور خراب شدہ زمین کی بحالی کے لیے اقدامات کررہی ہے،صدر مملکت آصف علی زرداری

مزید خبریں
اسلام آباد۔20مارچ (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ حکومت وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ذریعے اور صوبائی اداروں کے اشتراک سے جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور خراب شدہ زمین کی بحالی کے لیے اقدامات کررہی ہے، گرین پاکستان پروگرام کے تحت 125 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے اور 2 ارب سے زائد درخت لگائے یا تقسیم کیے جاچکے ہیں۔ صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار بین الاقوامی یومِ جنگلات کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان بین الاقوامی یومِ جنگلات منا رہا ہے اور اس امر کا اعادہ کرتا ہے کہ درخت زندگی کو سہارا دیتے ہیں، روزگار فراہم کرتے ہیں اور ہمارے مستقبل کو محفوظ بنانے میں مددگار ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ اس سال کا موضوع ’’جنگلات اور معیشت‘‘ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جنگلات صرف قدرتی مقامات نہیں بلکہ ہماری معیشت اور معاشرے کے لیے نہایت اہم وسائل ہیں، بہت سے گھرانوں میں یہ خوراک، ایندھن اور آمدنی کا ذریعہ بنتے ہیں، جنگلات کسانوں کی مدد کرتے ہیں، آبی ذخائر کا تحفظ کرتے ہیں، جنگلی حیات کو پناہ دیتے ہیں اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے مقابلے میں کمیونٹیز کو زیادہ مضبوط بناتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بہت سے خاندانوں خاص طور پر دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے لیے جنگلات صرف سبزہ نہیں بلکہ ایک ضرورت ہیں، یہ کھانا پکانے کے لیے ایندھن، چھوٹے کاروبار کے لیے لکڑی اور جنگلی پھل و پودے فراہم کرتے ہیں جو خوراک کی پیداوار میں اضافہ کرتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں جنگلات تقریباً 4.1 ملین ہیکٹر رقبے پر پھیلے ہوئے ہیں جو کل زمین کا تقریباً 5 فیصد بنتا ہے، ہر سال تقریباً 11,000 ہیکٹر جنگلات ختم ہو رہے ہیں، اس لیے ان کا تحفظ اور اضافہ نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں میں بھی چھوٹے جنگلاتی علاقے اور پارکس فضائی آلودگی کو کم کرتے ہیں اور درجہ حرارت میں کمی لاتے ہیں، یہ بچوں کو کھیلنے کے محفوظ مقامات فراہم کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنگلات ہر پاکستانی کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگلات کا تحفظ ایک ماحولیاتی فریضہ ہونے کے ساتھ ساتھ معاشی ضرورت بھی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ حکومت، وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے ذریعے اور صوبائی اداروں کے اشتراک سے جنگلات کے رقبے میں اضافہ اور خراب شدہ زمین کی بحالی کے لیے اقدامات کررہی ہے، گرین پاکستان پروگرام کے تحت 125 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جاچکی ہے اور 2 ارب سے زائد درخت لگائے یا تقسیم کیے جاچکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات سبز روزگار پیدا کررہے ہیں، دیہی آمدنی کو سہارا دے رہے ہیں اور ہمارے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنا رہے ہیں، بہت سے خاندانوں کے لیے اس کا مطلب ہے کہ بچے اسکول جاسکتے ہیں اور گھرانے اپنی روزمرہ ضروریات بہتر طور پر پوری کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صحت مند جنگلات سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات سے بھی کمیونٹیز کو محفوظ رکھتے ہیں جو ہر سال ہزاروں پاکستانیوں کو متاثر کرتے ہیں، یہ جانیں بچاتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ میں حکومت کے اداروں، اساتذہ، نوجوانوں، کاروباری افراد اور مقامی کمیونٹیز سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ جنگلات کی حفاظت میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا کہ مقامی باشندے طویل عرصے سے جنگلات کو پائیدار طریقے سے سنبھالتے آئے ہیں، ان کا تجربہ خاندانوں کو ایندھن، پانی اور خوراک کے حصول میں مدد دیتا ہے اور ان کی شمولیت ان وسائل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے، ہم سب مل کر درختوں کی تعداد میں اضافہ کرسکتے ہیں، وسائل کو ذمہ داری سے استعمال کر سکتے ہیں اور ایک سرسبز اور مضبوط معیشت قائم کرسکتے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ ہم اپنے عزم اور مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ قدرتی ورثے کا تحفظ کرسکتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک زیادہ خوشحال پاکستان تشکیل دے سکتے ہیں۔








