وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق بروقت اور مربوط ردعمل دینے کے لیے سٹیٹ بینک اور مالیاتی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی، مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت، سٹیٹ بینک اور بینکاری شعبے کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہے۔
حکومت سٹیٹ بینک اور مالیاتی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی،وزیرخزانہ محمداورنگزیب کی پی بی اے وفد سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 11 مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیرخزانہ و محصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ حکومت بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق بروقت اور مربوط ردعمل دینے کے لیے سٹیٹ بینک اور مالیاتی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی، مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت، سٹیٹ بینک اور بینکاری شعبے کے درمیان قریبی رابطہ ضروری ہے۔ وزیر خزانہ نے یہ بات بدھ کویہاں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن(پی بی اے) کے ساتھ ورچوئل میٹنگ میں کہی ،جس میں مالیاتی استحکام اور خدمات کے تسلسل پر زوردیاگیاہے۔ اجلاس میں پی بی اے کے چیئرمین ظفرمسعود کے علاوہ ملک کے نمایاں بینکوں کے صدور اور سینئر قیادت نے شرکت کی۔
اجلاس میں خطے میں جاری صورتحال کے تناظر میں بدلتی ہوئی معاشی و مالیاتی صورتحال اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے حکومت، سٹیٹ بینک اور بینکاری شعبے کے درمیان قریبی رابطے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا تاکہ مالیاتی خدمات کے بلا تعطل تسلسل کو برقرار رکھاجاسکے۔ وزیر خزانہ نے شرکاء کو موجودہ صورتحال کی حکومتی سطح پر جاری نگرانی اور اس کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لینے کیلئے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اہم اقتصادی وزارتوں اور متعلقہ اداروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کا رابطہ کاطریقہ ہائے کار قائم کیا ہے جو صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے، اس فورم میں عالمی منڈیوں میں ہونے والی پیشرفت خصوصاً سپلائی چینز اور توانائی کی منڈیوں سے متعلق تبدیلیوں کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ان کے اہم معاشی اشاریوں پر ممکنہ اثرات کا اندازہ بھی لگایا جا رہا ہے۔وزیرخزانہ نے بتایا کہ حکومت باقاعدگی سے مختلف ممکنہ منظرناموں کا تجزیہ کر رہی ہے تاکہ مہنگائی، بیرونی کھاتوں اور مجموعی معاشی استحکام پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکام کی توجہ ضروری اشیاء کی بلا تعطل فراہمی اورکلی معیشیت کے استحکام کو برقرار رکھنے پر مرکوز ہے جبکہ بدلتی صورتحال کے مطابق بروقت اور محتاط ردعمل دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ملک کے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے متعلقہ اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔ وزیر خزانہ نے غیر یقینی صورتحال کے ادوار میں معیشت کے اہم شعبوں کے ساتھ مربوط فیصلوں اور قریبی رابطے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ اس ضمن میں انہوں نے مالیاتی شعبے کے کردار کو سراہا جو اعتماد کو برقرار رکھنے اور مالیاتی منڈیوں کے ہموار کام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بینکاری صنعت کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ذمہ دارانہ رسک مینجمنٹ کے اصولوں کو برقرار رکھتے ہوئے کاروباری اداروں اور صارفین کی معاونت جاری رکھے۔
انہوں نے مالیاتی شعبے میں آپریشنل مضبوطی اور مؤثر ابلاغ کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ مالیاتی خدمات کا تسلسل بلا تعطل جاری رہے۔وزیرخزانہ نے بینکاری صنعت اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ کھلے رابطے کے چینلز کوبرقرار رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے شرکاء کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت بدلتی صورتحال کے مطابق بروقت اور مربوط ردعمل دینے کے لیے سٹیٹ بینک اور مالیاتی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی۔ پی بی اے کے چیئرمین ظفر مسعود نے وزیر خزانہ کو بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر بینکاری شعبے کی داخلی مشاورت اور تیاری کے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ بینکاری کی صنعت نے مالیاتی منڈیوں اور آپریشنل تسلسل پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے کے لیے متعدد اجلاس منعقد کیے ہیں، جن کا مقصد صارفین اور کاروباری اداروں کو بلا تعطل خدمات فراہم کرنا ہے۔
ظفر مسعود نے مزید بتایا کہ بینکاری صنعت نے مالیاتی اداروں کے درمیان بروقت مشاورت اور معلومات کے تبادلے کے لیے ایک مربوط فریم ورک قائم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بینکاری کاشعبہ مالیاتی نظام کے اہم شراکت داروں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ مالیاتی خدمات اور ادائیگی کے نظام کا ہموار عمل برقرار رکھا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بینکاری شعبہ پیش رفت پر نظر رکھنے کے لیے صنعت کے اندر باقاعدہ مشاورت جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ سٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہے گا۔
چیئرمین پی بی اے نے حکومت، سٹیٹ بینک اور بینکاری شعبے کے درمیان مسلسل رابطے کی اہمیت پر بھی زور دیا تاکہ مالیاتی منڈیوں کے استحکام کو یقینی بنایا جا سکے اور تجارت و مالیاتی بہاؤ کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی بینکنگ شراکت داروں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ روابط برقرار رکھنا بھی ضروری ہے تاکہ مالیاتی لین دین پر اعتماد قائم رہے اور بنیادی معاشی سرگرمیوں کو سہارا مل سکے۔ ظفر مسعود نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بینکاری صنعت حکومت اور ریگولیٹری اداروں کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی اور ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔








