حکومت شمسی توانائی کے خلاف نہیں ہے،وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری

اسلام آباد۔21مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت شمسی توانائی (سولرائزیشن) کے خلاف نہیں ہے، حکومت شمسی توانائی کو مکمل سپورٹ کرتی ہے لیکن اس طریقے سے جو تمام صارفین کے ساتھ منصفانہ ہو اور غیر شمسی صارفین پر غیر منصفانہ بوجھ نہ ڈالے۔ وزارت توانائی کی جانب سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی فوسل فیول …

اسلام آباد۔21مارچ (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ حکومت شمسی توانائی (سولرائزیشن) کے خلاف نہیں ہے، حکومت شمسی توانائی کو مکمل سپورٹ کرتی ہے لیکن اس طریقے سے جو تمام صارفین کے ساتھ منصفانہ ہو اور غیر شمسی صارفین پر غیر منصفانہ بوجھ نہ ڈالے۔ وزارت توانائی کی جانب سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ شمسی توانائی فوسل فیول سے بجلی بنانے کی جگہ لیتی ہے تو یہ صرف دن کے اوقات (سولر آورز) میں ہوتا ہے۔

رات کے وقت، پاور گرڈ کو مستحکم رکھنے اور بدلتی ہوئی لوڈ کنڈیشنز کے مطابق ڈھالنے کے لیے مستحکم (اسٹیبل) اور ڈسپیچ ایبل ذرائع کا ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک عالمی حقیقت ہے کہ بغیر مینجمنٹ کے چھتوں پر لگے سولر پینلز کی زیادہ تعداد گرڈ میں استحکام کے مسائل پیدا کرتی ہے، جس میں شام کے وقت لوڈ میں تیزی سے اضافہ (اسٹیپ ریمپ) شامل ہے، جو دراصل لچکدار گیس پر مبنی جنریشن پر انحصار بڑھاتا ہے۔

وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ قطر انرجی کی طرف سے امریکہ-اسرائیل-ایران تنازعہ کے بعد فورس ماجیور (ناگزیر حادثہ) کا اعلان کرنے کے نتیجہ میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی میں بے مثال رکاوٹ پیدا ہوئی ہے، جس کی وجہ سے مختلف شعبوں میں ڈیمانڈ مینجمنٹ (طلب کو کنٹرول کرنا) ناگزیر ہو گیا ہے۔ اگرچہ اس بحران کے دوران فرٹیلائزر سیکٹر پر محدود پابندیاں لگ سکتی ہیں لیکن فوڈ سکیورٹی (غذائی تحفظ) کے لیے اس کی اہمیت کے باعث اسے احتیاط سے مینیج کیا جاتا ہے۔

اسی طرح، کمرشل یا اعلیٰ گھریلو صارفین پر کوئی بھی پابندی ٹارگٹڈ (مخصوص)، عارضی ہو گی، اور یہ پالیسی کی ترجیح نہیں بلکہ سسٹم کی مجبوریوں کے تحت ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی غیر معمولی صورت حال میں بنیادی مقصد رسد اور طلب کو متوازن رکھنا، ترجیحی شعبوں کا تحفظ کرنا اور صارفین میں وسیع پیمانے پر بے چینی پیدا کیے بغیر سسٹم کا استحکام برقرار رکھنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئلے پر مبنی جنریشن کی طرف مکمل طور پر شفٹ ہو جائے اور گیس پلانٹس بند کرنے کی تجویز اس بات کی عکاسی نہیں کرتی کہ پاور سسٹم کو بہترین طریقے سے کیسے چلایا جاتا ہے۔ عملی طور پر، مقامی کوئلے سے چلنے والے پلانٹس کو ان کی نسبتاً کم فیول کاسٹ (ایندھن کی لاگت) کی وجہ سے پہلے ہی مرٹ آرڈر (ترجیحی ترتیب) میں فوقیت دی جاتی ہے اور انہیں اس کے مطابق چلایا جاتا ہے۔

تاہم، گیس پر مبنی پلانٹس لچک فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر ڈیمانڈ کے زیادہ اوقات میں اور تیزی سے لوڈ میں تبدیلی (ریپنگ ریکوائرمنٹس) کو مینیج کرنے کے لیے، جیسے کہ جب شمسی توانائی غروب آفتاب کے وقت ختم ہو جاتی ہے اور صارفین واپس گرڈ سے منسلک ہوتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گیس پلانٹس کو مکمل طور پر ختم کرنا سسٹم کے استحکام اور آپریشنل رسپانسیوینس (ردعمل کی صلاحیت) سے سمجھوتہ کرے گا۔

لہٰذا، ایک متوازن ڈسپیچ اسٹریٹیجی (ترسیل کی حکمت عملی) اپنائی جا رہی ہے جہاں کوئلہ بیس لوڈ (بنیادی بوجھ) فراہم کرتا ہے اور گیس لچک فراہم کرتی ہے۔ یہ قابل اعتماد گرڈ آپریشن کے لیے ضروری ہے۔وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے مزید کہا کہ یہ دعویٰ کہ کیپٹیو پاور (ذاتی استعمال کی بجلی) کے لیے گیس کی زیادہ قیمتوں نے انڈسٹری کو گرڈ سے دور کر دیا ہے، حالیہ رجحانات سے پوری طرح ثابت نہیں ہوتا۔

درحقیقت، کیپٹیو پاور لیوی (ٹیکس) عائد کیے جانے کے بعد، گرڈ ڈیمانڈ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صنعتی صارفین زیادہ تر گرڈ سے منسلک رہ رہے ہیں، نہ کہ اس سے الگ ہو رہے ہیں۔ اس بات کو حکومت کے سرپلس پاور پیکج (اضافی بجلی کے پیکج) نے مزید تقویت دی ہے، جو تقریباً 23 روپے فی یونٹ کی شرح سے بجلی فراہم کر رہا ہے، جس نے صنعتی بوجھ کو سسٹم پر برقرار رکھنے کے لیے ایک مضبوط قیمت کا اشارہ فراہم کیا ہے۔

مثال کے طور پر، جنوری 2026 میں سب سے زیادہ ڈیمانڈ ریکارڈ کی گئی جس میں سالانہ 12.1 فیصد اضافہ ہوا جبکہ فروری 2026 میں بھی انرجی ڈیمانڈ (توانائی کی طلب) میں سالانہ بنیادوں پر تقریباً 11 فیصد مضبوط اضافہ دیکھا گیا۔ رواں سال کے پہلے دو مہینوں میں، صنعتی صارفین نے مجموعی طور پر سرپلس پاور پیکج کے تحت تقریباً 12 ارب روپے کی بچت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی نکتہ چینی کا وقت نہیں ہے، بلکہ یہ تسلیم کرنے کا وقت ہے کہ پاکستان موجودہ عالمی توانائی کے بحران کو متوازن، اسٹریٹجک اور موثر طریقے سے مینیج کر رہا ہے۔ ہمارے زیادہ تر مقامی اور ڈائیورسفائیڈ (متنوع) پاور جنریشن مکس کی بدولت، بجلی کی سپلائی پر ممکنہ اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا گیا ہے، اس کے باوجود کہ امریکہ-اسرائیل-ایران تنازعہ طویل عرصے تک جاری رہنے کی وجہ سے ایل این جی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی دیگر اصلاحات بشمول سرکاری اداروں کی نجکاری اور لبرلائزڈ مارکیٹ فریم ورک (آزاد منڈی کے فریم ورک) کے تحت بجلی کے نیٹ ورک تک تھرڈ پارٹی رسائی (تیسرے فریق کو رسائی) کی اجازت دینے پر بھی پوری طرح کام کر رہی ہے، اور کئی شعبوں میں نمایاں پیش رفت حاصل کر چکی ہے۔

جہاں تک شمسی توانائی (سولرائزیشن) کا تعلق ہے، صارفین کو فعال طور پر حوصلہ دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے سولر یا دیگر صاف توانائی کے نظام منصفانہ طریقے سے لگائیں جو دوسرے صارفین پر غیر منصفانہ بوجھ نہ ڈالے۔ حکومت کی توجہ اس غیرمعمولی دور میں توانائی کی حفاظت (انرجی سیکیورٹی)، نظام کے استحکام اور معاشی تسلسل کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے۔