حکومت مخالف مظاہرین کو پھانسی نہیں دی جائے گی،ایرانی وزیر خارجہ کی تصدیق

تہران ۔15جنوری (اے پی پی):ایران کےوزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت مخالف احتجاج میں شرکت کرنے والے مظاہرین کو پھانسی نہیں دی جائے گی جس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بیان بازی کو کم کیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ تہران حکومت مخالف مظاہرین کو پھانسی …

تہران ۔15جنوری (اے پی پی):ایران کےوزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حکومت مخالف احتجاج میں شرکت کرنے والے مظاہرین کو پھانسی نہیں دی جائے گی جس کی وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بیان بازی کو کم کیا ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ تہران حکومت مخالف مظاہرین کو پھانسی دینے کا منصوبہ بنا رہی ہے ۔ قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ انہیں اس بات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ایران میں مظاہرین کو پھانسی دینے کے منصوبے پر عمل روک دیا گیا ہے۔

امر یکا کی طرف سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان قطر کے ایک ایئربیس سے کچھ اہلکاروں کو واپس بلانے کے چند گھنٹے بعد امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے دوسرے فریق کے انتہائی اہم ذرائع سے بات کی ہے اور وہ دیکھیں گے کہ بحران کیا صورت اختیار کرتا ہے ،تاہم انہوں نے ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کو مسترد نہیں کیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کو ایران کی طرف سے بہت اچھا بیان موصول ہوا ہے اور وہ دیکھیں گے کہ ایرانی حکومت کی طرف سے کیا اقدامات کئے جاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق واشنگٹن میں ایسا لگتا ہے کہ امریکی صدر اب بھی مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں، انہیں ان کی قومی سلامتی کونسل نے بریفنگ دی ہے لیکن صدر ٹرمپ کے تازہ ترین بیانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ صورت حال کے ممکنہ طور پر معمول کی طرف جانے پر صدر ٹرمپ ایران کو حالیہ عرصہ میں دی گئی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔