اسلام آباد ۔ 18 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت نے بڑے شہروں میں شاپنگ مالز کھولنے اور 20 مئی سے ٹرینیں چلانے کی اجازت دے دی ہے، شاپنگ مالز اور بازاروں میں سماجی فاصلے پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے، کورونا وباءسے بچنے کے لئے ایس او پیز پر عملدآمد کرنا ہو گا، کاروباری طبقے کی سہولت کے لئے …
حکومت نے بڑے شہروں میں شاپنگ مالز کھولنے اور 20 مئی سے ٹرینیں چلانے کی اجازت دے دی ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کا پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ۔ 18 مئی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ حکومت نے بڑے شہروں میں شاپنگ مالز کھولنے اور 20 مئی سے ٹرینیں چلانے کی اجازت دے دی ہے، شاپنگ مالز اور بازاروں میں سماجی فاصلے پر عملدرآمد یقینی بنانا چاہیے، کورونا وباءسے بچنے کے لئے ایس او پیز پر عملدآمد کرنا ہو گا، کاروباری طبقے کی سہولت کے لئے عید کے دنوں میں بھی صنعتیں چلانے کی اجازت ہو گی، ہمیں کورونا کے ساتھ ساتھ بھوک کا بھی مقابلہ کرنا ہے، حکومت اپنے وسائل سے بڑھ کر اقدامات کر رہی ہے، کورونا کی وجہ سے بیروزگار ہونے والے افراد کے لئے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام شروع کیا گیا ہے، ملک کے اندر بھی کورونا حفاظتی لباس کی تیاری شروع ہو گئی ہے، وزیر اعظم نے صحت کے شعبہ میں اصلاحات کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کر دی ہے، افراط زر اور شرح سود کم ہو رہی ہے، اس صورتحال سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے اور حکومت سے تعاون کرنا چاہیے،اپوزیشن اس معاملے پر سیاست کررہی ہے، سندھ حکومت نے کورونا کے معاملے پر بہت سیاست کی ہے، قومی معاملات پر ہمیں یک زبان ہونا چاہیے، اپوزیشن کو ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے تذبذب پھیلے، بے چینی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہو۔ ان خیالات کا اظہارییر کو انہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے کورونا وائرس سے پیدا ہونےوالی صورتحال سے نمٹنے، غریب اور دیہاڑی دار طبقے کی امداد اور معاشی سرگرمیوں کو بحال رکھنے کے لئے مو¿ثر حکمت عملی اختیار کی ہے۔ ہم جوبھی اقدامات کر رہے ہیں ان کا مقصد عوام کے لئے سہولت پیدا کرنا، کورونا وباءسے پیدا ہونے والی صورتحال اور معاشی سرگرمیوں کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے موجودہ اقدامات بھی انہیں کا تسلسل ہیں۔ 20 مئی سے ٹرینیں چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ریلوے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کو ایس او پیز پر عمل درآمد کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے شہروں میں شاپنگ مالز اور کاروبار کھولنے کی بھی اجازت دی گئی ہے اور ان پر چھوڑ دیاگیا ہے کہ وہ اگر ہفتہ اتوار کو بھی کھولنا چاہیں تو ممانعت نہیں ہو گی۔ کاروباری طبقے کی سہولت کیلئے انڈسٹری کو بھی کام کرنے کی اجازت ہے۔ شبلی فراز نے کہا کہ عید کی چھٹیوں کے دوران بھی انڈسٹری چلانے کی اجازت ہو گی۔ حکومت اس سلسلہ دخل اندازی نہیں کرے گی، شاپنگ مالز اور بازاروں میں سماجی فاصلوں پر عمل یقینی بنایا جائے، ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ہمیں کورونا کے ساتھ ساتھ بھوک کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزید لاک ڈا¶ن کے متحمل نہیں ہو سکتے۔لاک ڈاﺅن کی پالیسی دیر پا نہیں ہو سکتی۔ اعداد وشمار کے مطابق حکومتی حکمت عملی بہتر رہی ہے اور کورونا سے پاکستان میں وہ نقصان نہیں ہوا جو امریکا، یورپ اور دیگر ممالک میں ہوا۔ پاکستان ایک غریب ملک ہے۔ حکومت اپنے وسائل سے بڑھ کر اقدامات کر رہی ہے۔ عوام کی جان و مال کی حفاظت اور معاشی سرگرمیاں ہمارے لئے اہم ہیں۔ ملک میں کورونا حفاظتی لباس کی پروڈکشن شروع ہو گئی ہے اور اس پالیسی کا بھی جائزہ لیاگیا ہے کہ جس طرح اس انڈسٹری کو سپورٹ کیا جائے اور فاضل سامان برآمد کیا جائے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے صحت کی شعبہ میں اصلاحات کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔ صحت مند قوم ہی ترقی کی طرف سفر کرسکتی ہے۔ صحت کے نظام کو بہتر بنانا ہوگا اور آنے والے وقت کے لئے تیار رہنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے سے متعلق ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزراءپر اعتماد تھے اور ان کا یہ مو¿قف تھا کہ اس وباءکی روک تھام کے حوالے سے ہماری بہتر حکمت عملی کی وجہ سے صورتحال کنٹرول میں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کورونا ختم نہیں ہوا۔ یہ موجود ہے اور کب تک رہے گا اس کا کوئی علم نہیں۔ عوام یہ نہ سمجھیں کہ دکانیں کھل رہی ہیں اور ٹرینیں چل رہی ہیں تو حالات ٹھیک ہو گئے ہیں۔ احتیاط کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہم ایک ذمہ دار قوم ہیں اور ہمیں مل کر اس صورتحال سے نمٹنا ہے۔ قومی معاملات پر ہمیں یک زبان ہونا چاہیے۔ اپوزیشن اس معاملے پر سیاست کررہی ہے۔ حکومتی اقدامات ہماری عملی سوچ کا مظہر ہیں۔ اب سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آ گیا ہے۔ حکومتی حکمت عملی پہلے دن سے ہی درست تھی۔ وزیر اعظم عمران خان کی نیک نیتی اور ان کی سوچ کا محور غریب عوام ہیں تاکہ ان کی معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور یہ نہ ہو کہ کورونا سے زیادہ لوگ بھوک سے مر جائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ڈنڈا لے کر کسی کو گھر نہیں بٹھا سکتی، اگر ایک سہولت دی گئی ہے تو اس کا ذمہ داری کے ساتھ فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اگر ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ بے احتیاطی کررہے ہیں جیسا کہ ہو رہا ہے تو کاروبار دوبارہ بند کئے جا سکتے ہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ ہمارے ملک میں رمضان المبارک میں اشیاءمہنگی کر دی جاتی ہیں۔ اس وقت کسی چیز کی کوئی کمی نہیں، اشیائے خوردونوش وافر ہیں، فراہمی میں بھی کوئی تعطل نہیں ہے۔ افراط زر اور شرح سود کم ہو رہی ہے۔ اس صورتحال سے ہمیں فائدہ اٹھانا چاہیے اور حکومت سے تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال پر سندھ حکومت نے بہت سیاست کی ہے۔ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹرکے فیصلوں میں وہ شامل ہوتے ہیں لیکن واپس جا کر وہ سیاست شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے موجودہ صورتحال میں غریب عوام کی امداد اور معاشی سرگرمیوں کے تحفظ کے لئے مختلف پیکجز دیئے ہیں۔ کورونا وائرس سے بیروز گار ہونے والے افراد کے لئے آج ہی احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کا آغاز کیا گیاہے۔ سٹیٹ بینک کے ساتھ بھی ایک منصوبہ بنایا گیا ہے جس کے تحت 3 فیصد شرح سود پر قرضے دینے کی سہولت دی گئی ہے تاکہ لوگوں کو بیروزگار نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس ملک میں نقب زنی کی گئی اور وہ لوگ اب اضطراب اور کنفوژن پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ان لوگوں سے کہتا ہوں کہ انہیں ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے تذبذب پھیلے اور بے چینی اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات کے فروغ، ڈاکٹروں، طبی عملے، غریب عوام اور کاروبار کے تحفظ کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ حکومت عوام کا خیال آئندہ بھی رکھے گی اور ہماری یہ کوشش ہے کہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے اور لوگوں کی جانیں بھی محفوظ رہیں اور مل کر ہم اس صورتحال کا مقابلہ کریں۔









