حکومت نے ریلیف پر مبنی بجٹ دیا، مہنگائی سنگل ڈیجیٹ پر آ چکی ہے، پالیسی ریٹ 11 فیصد، زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر، ترسیلات زر 33.9 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہیں، ملک ترقی و خوشحالی کی نئی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے، عطاء اللہ تارڑ
حکومت نے ریلیف پر مبنی بجٹ دیا، مہنگائی سنگل ڈیجیٹ پر آ چکی ہے، پالیسی ریٹ 11 فیصد، زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر، ترسیلات زر 33.9 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہیں، ملک ترقی و خوشحالی کی نئی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے، عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت نے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے عوام کو ریلیف پر مبنی بجٹ دیا ہے، تنخواہ دار طبقے، مزدور، کسان، ایکسپورٹرز، خواتین اور متوسط طبقے سمیت ہر شعبے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی گئی، مہنگائی سنگل ڈیجیٹ پر آ چکی ہے، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آ گیا ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر جبکہ ترسیلات زر 33.9 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ گئی ہیں، آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں جس میں فری لانسرز کا 995 ملین ڈالر کا حصہ بھی شامل ہے، ایف بی آر اصلاحات، فیس لیس اپریزل نظام، ٹیکس نیٹ میں توسیع، ہاؤسنگ سیکٹر، ایکسپورٹ لیڈ گروتھ، سماجی شعبوں میں سرمایہ کاری اور خواتین کے لیے ’’پنک ٹیکس‘‘ کے خاتمے جیسے اقدامات حکومت کے عوام دوست وژن کی عکاسی کرتے ہیں، ماضی میں ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی شرطیں لگائی جاتی تھیں، محمد شہباز شریف نے ریاست کی بقاء کے لئے اپنی سیاست کی قربانی دی، تاریخ اس قدم کو یاد رکھے گی جب وزیراعظم شہباز شریف نے نعرہ لگایا کہ میں ریاست کو بچاؤں گا، مجھے سیاست کی کوئی پرواہ نہیں، مسلم لیگ (ن) نے مشکل معاشی حالات میں اقتدار سنبھالا، ہمارے دور میں عالمی سطح پر پاکستان کو پذیرائی ملی، پوری دنیا وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی امن کے لئے کاوشوں کو سراہ رہی ہے جبکہ پاکستان معاشی استحکام کے بعد ترقی اور خوشحالی کی نئی منزل کی جانب بڑھ رہا ہے۔
اتوار کو قومی اسمبلی اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ 27۔2026ء پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جب ہم اپوزیشن بینچوں پر تھے تب بھی ہم نے میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت کی بات کی اور آج حکومت میں ہونے کے باوجود بھی یہی مؤقف برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایوان جمہوری روایات کا امین ہے اور ہمیشہ ان روایات کو فروغ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران ماحول قابلِ توجہ تھا، احتجاج اپوزیشن کا جمہوری حق ہے اور ہر دور میں اپوزیشن اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے، وقت یکساں نہیں رہتا، نشستیں بدلتی رہتی ہیں لیکن اصل فرق رویے اور نیت کا ہوتا ہے۔ جب ہم اپوزیشن میں تھے تو اس وقت بھی بات چیت کی پیشکش کی جاتی رہی اور آج حکومت میں ہونے کے باوجود بھی یہی پیشکش کر رہے ہیں کیونکہ جمہوری عمل میں بات چیت ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پذیرائی کی جا رہی ہے، معاشی تجزیہ کار اس بجٹ پر مثبت بات کر رہے ہیں۔ بعض اپوزیشن ارکان کی جانب سے بھی مثبت تجاویز سامنے آئی ہیں جنہیں سراہا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ تنقید کرنا اپوزیشن کا حق ہے تاہم مثبت اقدامات کی تعریف ضرور ہونی چاہئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ماضی میں ایک سیاسی جماعت کے سربراہ کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں کہ ملک ڈیفالٹ ہونے جا رہا ہے، پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری نہ کرے، یہ ملک ڈیفالٹ ہونے کی شرطیں لگا رہے تھے مگر اللہ رب ذوالجلال کو کچھ اور ہی منظور تھا، جب ملک کی معیشت کو کوئی ہاتھ لگانے کو تیار نہیں تھا، ایسے وقت میں شہباز شریف نے ہمت باندھی، حوصلہ پکڑا اور ریاست کی بقاء کے لئے اپنی سیاست قربان کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یہ نعرہ لگایا کہ میں ریاست کو بچاؤں گا مجھے سیاست کی پرواہ نہیں، یہ وہ وقت تھا جب پیرس کے اندر ایک میٹنگ ہوئی اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پائے، اگر شہباز شریف یہ ایفرٹ نہ کرتے، آئی ایم ایف کے پروگرام میں نہ جاتے تو آج یہ خوشحالی ممکن نہ ہوتی۔
ماضی کے مقابلے میں آج معاشی اشاریئے واضح بہتری دکھا رہے ہیں، اُس وقت ڈالر کی شرح تبادلہ غیر مستحکم تھی، کاروباری طبقہ مشکلات کا شکار تھا، ایل سیز نہیں کھل رہی تھیں اور برآمدی سرگرمیاں متاثر تھی، مہنگائی 38 فیصد اور شرح سود 22 فیصد سے زیادہ تھی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ شہباز شریف جب اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے اس ایوان میں کھڑے ہو کر میثاق معیشت کی بات کی تھی، کاش اس وقت آپ نے میثاق معیشت کی بات مانی ہوتی لیکن اس وقت اس پیشکش کو قبول نہیں کیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہماری یادداشت بہت مختصر ہے، ہم آج کی بات کرتے ہیں لیکن ماضی کی کوئی بات نہیں کرتے، یہ یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ان لوگوں نے آئی ایم ایف کو خط لکھے، یہ چاہتے تھے کہ ملک ڈیفالٹ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی نے معیشت کے لئے اچھا کام کیا ہے تو ہم اس کی تعریف کریں گے لیکن یہ گوارا نہیں کہ ہم اپنی سیاست کی خاطر پاکستان کے خلاف سازشیں کریں۔
انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے دور میں آئی ایم ایف کو خطوط لکھے اور اس پر بیانیہ بنایا، پوری کمپین چلائی، تاریخ میں اسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کہ ایک طرف وزیراعظم شہباز شریف پیرس میں میٹنگ کر کے معاملات جوڑ رہے تھے اور دوسری جانب یہاں سے خط لکھے جا رہے تھے کہ پاکستان کو بیل آؤٹ پیکیج نہ ملے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام ٹیم ورک کا نتیجہ ہے اس میں اداروں کی محنت شامل ہے، اس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ان کی ٹیم کا بھی بھرپور حصہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام کے اعداد و شمار جھٹلائے نہیں جا سکتے، جی ڈی پی گروتھ جو اس وقت 0.2 فیصد تھی اب 3.7 فیصد تک پہنچ چکی ہے، فی کس آمدن 1751 ڈالر سے بڑھ کر 1901 ڈالر ہو گئی ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اگر حکومت نے معاشی استحکام نہ دیا ہوتا تو مہنگائی 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجیٹ میں نہ آتی، اسی طرح شرح سود 22 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر نہ آتی۔ انہوں نے کہا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 17.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں جبکہ ترسیلات زر 33.9 ارب ڈالر ہو گئی ہیں جن میں سال بہ سال 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات 3.8 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جن میں فری لانسرز کا 995 ملین ڈالر کا حصہ بھی شامل ہے، مالی خسارہ جو 2022ء میں 8 فیصد تھا، اب 0.7 فیصد پر آ گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ مجموعی طور پر میکرو اکنامک استحکام حاصل ہوا ہے اور دنیا بھی اسے تسلیم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات وزیراعظم شہباز شریف کے ہوم گرون ایجنڈے کا اہم حصہ ہے جس میں سٹرکچرل ریفارمز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں وہ چیلنج کرتے ہیں کہ کوئی بھی کسٹمز یا انکم ٹیکس افسر کی سفارش کر کے دکھائے، ماضی کے برعکس اب سفارش کلچر ختم ہو چکا ہے، اگر کوئی سفارش کی جاتی ہے تو شام تک وہ بندہ معطل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میریٹ کو یقینی بنانے کے لئے شفاف رپورٹنگ اور ٹرانسفر پوسٹنگ کا نظام نافذ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ٹیکس مقدمات کے نظام میں کیسز کو طول دیا جاتا، اسٹے آرڈرز کے ذریعے ریونیو کو روکا جاتا تاہم موجودہ حکومت نے اس نظام میں اصلاحات کے ذریعے شفافیت کو فروغ دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے میرٹ پر ٹربیونل بنائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں، اب ٹربیونل بنائے گئے ہیں جن کے چیئرمین میرٹ پر تعینات ہوئے ہیں، وکلاء کو میرٹ پر لیا گیا ہے اور اربوں روپے ریکور کئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ شوگر، ٹوبیکو، سیمنٹ بیوریجز جیسی چند انڈسٹریاں ایسی ہیں جو جتنا مرضی منافع کمائیں انہیں کوئی پوچھتا نہیں تھا، صرف شوگر انڈسٹری سے 60 ارب روپے ریکور کئے گئے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی کاوش سے انڈسٹریز میں ٹیکنالوجی بیس مانیٹرنگ سسٹم لگائے گئے، مانیٹرنگ کو موثر کیا گیا، ایماندار لوگ لگائے گئے، گزشتہ سال وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پوری فنانس ٹیم نے بھرپور محنت کی، وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور ان کی پوری ٹیم اس میں بہت متحرک رہی، انفورسمنٹ کی مد میں 800 ارب روپے جمع کیا گیا جس سے مزید مالی گنجائش پیدا ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جب حکومت میں تھی تو یہ سیاسی بیانیہ بنانے میں لگے رہے، یہ کام یہ لوگ بھی کر سکتے تھے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ بندرگاہوں پر کسٹم کلیئرنس میں کئی کئی مہینے لگتے تھے، اب وہاں فیس لیس اپریزل سسٹم نصب کیا گیا اور اب ایف بی آر یہ سسٹم پورے ملک کے اندر لے کر جا رہا ہے جہاں پر ٹیکس دینے والے کا ٹیکس جمع کرنے والے سے آمنا سامنا نہیں ہوگا۔ یہ آئی ٹی بیس سسٹم کے تحت فیس لیس سسٹم ہے تاکہ کسی قسم کی لیکج نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی ریفارمز کے تحت اتنا بڑا ریلیف قوم کو دیا گیا ہے، اس کا اثر تمام شہریوں تک جائے گا، اب ٹیکس نہ ادا کرنے والے کا بوجھ ٹیکس دینے والے نہیں اٹھا سکیں گے۔ ملک میں منصفانہ نظام نافذ کر دیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کو ریٹیلرز کے حوالے سے خصوصی ٹاسک دیا کیونکہ 36 لاکھ ریٹیلرز ٹیکس نیٹ سے باہر تھے جبکہ ان کی اپنی درخواست بھی تھی کہ انہیں کسی نہ کسی صورت شفاف طریقہ کار کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں شامل کیا گیا جبکہ ان کے لئے منصفانہ ٹیکس نظام متعارف کرایا گیا، ریلیٹرز مقررہ ٹیکس ادا کریں گے اور انہیں اس کا باقاعدہ سرٹیفیکیٹ جاری کیا جائے گا جو وہ اپنی دکانوں پر آویزاں کریں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ایف بی آر اصلاحات کے نتیجے میں ادارے میں شفافیت میں اضافہ ہوا ہے، اچھے افسران کی تعیناتی ہوئی ہے اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے بھی ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کو فری آف کاسٹ فنڈ کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی ادارے پاکستان میں اصلاحات کی حمایت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف عالمی شراکت داروں سے پاکستان کے نظام کی بہتری کے لیے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم کے حالیہ دورہ چین کے دوران علی بابا کے ساتھ موقع پر ہی معاہدہ طے پایا جسے پوری دنیا نے دیکھا اور علی بابا کے چیئرمین نے بھی ’’شہباز اسپیڈ‘‘ کا اعتراف کیا اور کہا کہ ہم پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے تیار ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو نمایاں ریلیف فراہم کیا ہے جس کے تحت 50 ہزار روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والوں پر کوئی ٹیکس عائد نہیں کیا گیا جبکہ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک آمدنی پر صرف ایک فیصد ٹیکس رکھا گیا ہے، چھ لاکھ روپے سے زائد آمدن والے پروفیشنلز کے حوالے سے بھی ان کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متوسط طبقے کا ایک بڑا مسئلہ چھوٹے گھروں اور زمینوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس سے متعلق تھا، خاص طور پر پانچ مرلہ اور دس مرلہ گھروں یا پلاٹس کی لین دین میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا تھا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے ہاؤسنگ اور ڈیویلپمنٹ سیکٹر کو بجٹ میں خصوصی ریلیف فراہم کیا ہے جس کے نتیجے میں مڈل کلاس کے لیے چھوٹے پیمانے پر جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس بوجھ میں کمی کی گئی ہے تاکہ ہاؤسنگ سیکٹر کو مزید فروغ دیا جا سکے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ہاؤسنگ اور ڈویلپمنٹ سیکٹر کو وزیراعظم کی خصوصی کاوشوں کے تحت جو ریلیف دیا گیا ہے اس سے تقریباً 12 صنعتی شعبے منسلک ہیں جن میں سیمنٹ، سریا سمیت دیگر متعلقہ صنعتیں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’اپنا گھر‘‘ سکیم کے تحت محروم طبقات کو ایک کروڑ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں جس کے لیے 90 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 11 ارب روپے پہلے ہی جاری کیے جا چکے ہیں اور اس سال کے بجٹ میں بھی اس کی مزید گنجائش رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہاؤسنگ اور ڈویلپمنٹ سیکٹر میں توسیع سے نہ صرف معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے جبکہ کم آمدن اور محروم طبقات کو سستے گھروں کی فراہمی ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اپنا گھر‘‘ پروگرام کے تحت نائب قاصد، ڈرائیور، مزدور، کسان اور فیکٹری ورکرز سمیت مختلف طبقات کو رہائشی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں جو مڈل کلاس اور نچلے طبقے کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کے ماڈل کے تحت برآمدات میں اضافے سے صرف ایکسپورٹرز ہی نہیں بلکہ پوری معیشت مستفید ہوتی ہے کیونکہ اس سے صنعتی پیداوار، فیکٹریوں کی توسیع اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹرز کی دیرینہ درخواست تھی کہ ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی جائے جس پر حکومت نے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ تجویز دی گئی تھی کہ 50 کروڑ روپے تک برآمدات کرنے والوں کے لیے سپر ٹیکس ختم کیا جائے تاہم وزیراعظم کی خصوصی ہدایات پر تمام ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے جو برآمدی شعبے کے لیے ایک بڑا ریلیف ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ بجٹ میں فیصلے طویل مشاورت کے بعد کیے گئے جس میں صنعتکاروں، چیمبرز، آئی ٹی سیکٹر اور زرعی شعبے سے الگ الگ مشاورت شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کے لیے نوجوانوں کو قرضوں کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ زرعی آلات کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے۔ اسی طرح شپنگ سروسز پر سیلز ٹیکس کو 18 فیصد سے کم کر کے صفر کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ ہر طبقے کا بجٹ ہے جس میں خواتین کے لیے ’’پنک ٹیکس‘‘ کا خاتمہ کیا گیا اور سینیٹری و ہائیجین پروڈکٹس پر عائد 18 فیصد ٹیکس کو بھی زیرو کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ریلیف پر مبنی بجٹ ہے جو ایک ایسے دور کا آغاز ہے جس میں معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ دو برس سے مسلسل اس بات پر زور دے رہے تھے کہ جیسے ہی مالی گنجائش پیدا ہوگی عوام کو ریلیف دیا جائے گا اور آج وہ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے عوام کو ریلیف پر مبنی بجٹ دیا گیا ہے، ہر طبقے کو اس کے اندر گنجائش پیدا کر کے ان کی ڈیمانڈ کو پورا کیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی گروتھ کا آغاز ہے جس سے پاکستان ایک ایسی اکانومی بنے گا کہ پوری دنیا دیکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ملک کی عزت و وقار کو مقدم رکھنا چاہئے، پاکستان کے فخر میں اپنا فخر محسوس کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور پوری دنیا اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ پاکستان نے امن کے قیام میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی برادری اس بات کی معترف ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کے نتیجے میں نہ صرف خطے میں امن کو فروغ ملا بلکہ اس کے مثبت اثرات عالمی معیشتوں تک پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام پیشرفت ایک ٹیم ورک کا نتیجہ ہے جس میں ایس آئی ایف سی سمیت مختلف اداروں کا اہم کردار شامل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف، ان کی معاشی ٹیم اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مختلف محاذوں پر مربوط حکمت عملی کے تحت کام کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان آج ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں سبز پاسپورٹ کو دوبارہ عزت حاصل ہو رہی ہے اور ملک معاشی استحکام کے بعد اب ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اپنی تقریر کا اختتام پروین شاکر کے ان اشعار سے کیا”
بخت سے کوئی شکایت ہے نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
بزم انجم میں قبا خاک کی پہنی میں نے
اور مری ساری فضیلت اسی پوشاک سے ہے







