قومی اسمبلی میں ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کا خطاب: بجٹ میں دفاعی بجٹ کے لیے صوبائی یکجہتی کا خیرمقدم، تاجر برادری کے تحفظات دور کرنے کا مطالبہ

ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ کا قومی اسمبلی میں خطاب، دفاعی بجٹ پر صوبائی یکجہتی کا خیرمقدم

 

اسلام آباد۔14جون (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے وفاقی بجٹ27-2026کو مجموعی طور پر ایک مثبت اور متوازن پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس میں شامل عوام دوست اقدامات کا خیرمقدم کیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ کٹھن معاشی حالات کے باوجود دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنانا ہماری اولین قومی ترجیح ہے، دفاعی بجٹ کے حساس معاملے پر وفاق اور چاروں صوبوں کے درمیان قائم ہونے والی مثالی یکجہتی اور غیر مشروط تعاون کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا ایک روشن باب قرار دیا۔ اتوار کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر جاری بحث میں حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے عوام اور حکومتوں نے ملک کی عسکری ضروریات اور جدید ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے رضاکارانہ طور پر اربوں روپے کے حصہ دینے پر اتفاق کیا ہے کیونکہ ایک ناقابلِ اعتبار دشمن کے سامنے دفاعی ڈیٹرنس کو مضبوط کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس شاندار قومی اتفاقِ رائے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو خصوصی مبارکباد پیش کی۔قومی اسمبلی میں معاشی اصلاحات اور عوامی ریلیف پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے وفاقی حکومت سے پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں فوری اور نمایاں کمی کا پرزور مطالبہ کیا۔ انہوں نے اعداد و شمار کے ساتھ ایوان کو بتایا کہ حکومت اس وقت پیٹرول پر117 روپے فی لیٹر لیوی وصول کر رہی ہے جس سے سالانہ 1,700 ارب روپے اکٹھے ہو رہے ہیں، جبکہ کاربن لیوی اور کلائمٹ ریسیلینس سپورٹ کے لیے آئی ایم ایف لون کی مد میں بھی 56، 56 ارب روپے حاصل کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ان تینوں مدات سے حاصل ہونے والے مجموعی 1,856 ارب روپے کے لیے بجٹ میں کوئی واضح کلائمٹ پروجیکٹ نظر نہیں آ رہا، اس لیے چونکہ اب حکومت کے پاس سرپلس فنڈز موجود ہیں، لہٰذا غریب رکشہ اور موٹر سائیکل والے کی جیب پر بوجھ کم کرنے کے لیے اس لیوی کو فوری طور پر 50 روپے کی سطح پر لایا جائے۔ اپنی تقریر کے آخر میں ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے تاجر برادری اور ملکی برآمدات کو درپیش سنگین چیلنجز کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بزنس کمیٹونٹی نے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خزانہ سے ملاقات کر کے ملک میں برآمدات اور براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل تین بڑی رکاوٹوں کی نشاندہی کی ہے، جن میں کاروباری طبقے پر ٹیکسز کا شدید بوجھ، علاقائی مسابقت کے مقابلے میں 15 سے 16 سینٹس کی مہنگی بجلی اور ساڑھے 11 فیصد پالیسی ریٹ کے باوجود کمرشل مارک اپ کا 12 سے 13 فیصد کی بلند سطح پر ہونا شامل ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت ان کریٹیکل اشاروں پر سنجیدگی سے غور کرے گی تاکہ ملکی صنعتوں کو عالمی مارکیٹ میں مقابلہ کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔

مزید خبریں