اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) حکومت نے قومی ائیر لائن پی آئی اے کارپوریشن کی بحالی کے لئے موثر اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ یہ قومی ادارہ اپنی عظمت رفتہ دوبارہ حاصل کر کے منافع بخش ادارے میں تبدیل ہو سکے۔ مالی سال 20-2019 کے اقتصادی جائزہ سروے کے دوران مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ پی آئی اے کارپوریشن نے بھی اپنے وسائل استعمال کرتے …
حکومت نے قومی ائیر لائن پی آئی اے کارپوریشن کی بحالی کے لئے موثر اقدامات اٹھائے ہیں،مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 11 جون (اے پی پی) حکومت نے قومی ائیر لائن پی آئی اے کارپوریشن کی بحالی کے لئے موثر اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ یہ قومی ادارہ اپنی عظمت رفتہ دوبارہ حاصل کر کے منافع بخش ادارے میں تبدیل ہو سکے۔ مالی سال 20-2019 کے اقتصادی جائزہ سروے کے دوران مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بتایا کہ پی آئی اے کارپوریشن نے بھی اپنے وسائل استعمال کرتے ہوئے گزشتہ 22 ماہ سے ناکارہ کھڑے بوئنگ 777 ، اے 320 ، اور اے ٹی آر طیاروں کو کارآمد بنایا- اس سے قبل اے 320 کی اڑان بھرنے کے وقت زیادہ سے زیادہ وزن میں اضافے کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے پے لوڈ لیجانے کی گنجائش میں اضافہ کیا گیا اور جہازوں کی مرمت و بحالی والی کمپنی ایم آر او کے ساتھ ادائیگیوں میں نرمی اور چارجز کم کرنے کے حوالے سے مذاکرات کے ذریعے مفاہمت پیدا کی گئی۔ اس کے علاوہ باچا خان ائیرپورٹ سے نائٹ پروازوں کا آپریشن بحال کیا گیا – ایران اور ترکمانستان کی فضائی حدود سے اڑان کی اجازتِ لی گئی اور ملتوی شدہ آڈٹ کامیابی کے ساتھ مکمل کرایا گیا۔ سالانہ اے جی ایم کا بھی انعقاد کیا گیا جو 2017 اور 2018 سے التوا کا شکآر تھی- کمپنیز ایکٹ اور سکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے تقاضوں کو پورا کیا گیا اور پی آئی اے سی کو ایس ایم سی پی کے ڈیفالٹرز کی فہرست سے نکالا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پی آئی اے سی نے وزارت خزانہ، نیشنل بنک آف پاکستان، سٹیٹ بینک آف پاکستان، اوریجنل ایکوپمنٹ مینو فریکچر اور انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن(ایاٹا) کی مشاورت سے پانچ سالہ کاروباری پلان 2019-23 مرتب کیا اور وزیراعظم کو اس سے متعلق بریفنگ دی۔ پیشہ ورانہ خسارے میں کمی، مسافروں پر اعتماد سازی اور آمدن اور محصولات میں اضافے اور بین الاقوامی ضروریات پر پورا اترنے کےلئے پی آئی اے سی نے اپنے بیڑے کو اپ گریڈ کیا اور ڈرائی لیز پر دو نیرو باڈی جہاز بھی شامل کئے۔ کرائے پر جہاز حاصل کرنے کے بجائے پی آئی اے نے حج پروازوں کے آپریشن اپنے جہازوں کے ساتھ مکمل کئے۔ سیالکوٹ، پیرس، سیالکوٹ، بار سلونا، پشاور، شارجہ، پشاور، العین اور ملتان، شارجہ جیسے نئے فضائی روٹس کا آغاز کیا اور خسارے والے روٹس پر آپریشن معطل کرکے منافع بخش روٹس کے لئے پروازوں کی تعداد میں کیا۔ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں گھوسٹ ملازمین اور جعلی ڈگریوں کے حامل عملہ کے ارکان کی برطرفیاں بھی عمل میں لائی گئیں اور ملازمین کی طبی سہولت کو سنٹرلائز کرکےا س مد میں اخراجات میں کمی لائی گئی۔








