اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پھیلائوکو روکنے کے سلسلے میں عوام کو سماجی فاصلے سے متعلق آگاہی پہنچانے کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں، عوامی اجتماعات سے ملک میں مہلک وبا کے پھیلاو میں تیزی تشویش ناک ہے، وائرس کی منتقلی کو روکنے کیلئے کورونا ایس او پیز پر سختی …
حکومت نے کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پھیلائو کو روکنے کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں،معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کی نجی ٹی وی چینل سے گفتگو

مزید خبریں
اسلام آباد۔23نومبر (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا ہے کہ حکومت نے کورونا وائرس کی دوسری لہر کے پھیلائوکو روکنے کے سلسلے میں عوام کو سماجی فاصلے سے متعلق آگاہی پہنچانے کیلئے کوششیں تیز کر دی ہیں، عوامی اجتماعات سے ملک میں مہلک وبا کے پھیلاو میں تیزی تشویش ناک ہے، وائرس کی منتقلی کو روکنے کیلئے کورونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے، عوام کو خود بھی چاہیے کہ وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ پیر کو نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں کامیابی کیلئے لوگوں کو اس بیماری کی نوعیت کے بارے معلوم ہونا ضروری ہے اسلئے میڈیا کو بھی آگاہی مہم کے حصے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ کمیونیٹیز اور آرگنائزیشنز کی اجتماعی کوششوں سے وبا کی دوسری لہر کا کامیابی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے تاکہ لوگوں پر کم سے کم وبا کا اثر پڑے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کے حوالے سے سختی سے جائزہ لے رہی ہے، کورونا ریلیف ٹائیگر فورس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والوں کو رپورٹ کریں۔ معاون خصوصی نے کہا کہ احتیاطی تدابیر آسان ہیں، عوام ماسک پہنیں اور سماجی فاصلے کا خیال رکھیں جس سے وبا کے پھیلائو کی رفتار کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ بروقت اقدامات اور لوگوں کی طرف سے ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے کی وجہ سے حکومت نے کورونا کی پہلی لہر کو کامیابی سے ہینڈل کیا تھا، اسی طرح ان دنوں اور آنے والے ہفتوں میں سماجی فاصلے کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیسز کی شرح میں اضافہ مزید خطرناک ہو سکتا ہے اسلئے اپوزیشن جماعتوں کو سنجیدگی سے سوچنا ہو گا اور انہیں تھوڑے عرصے کیلئے اپنی سیاسی سرگرمیاں معطل کر دینی چاہیئں۔








