حکومت کا احساس پروگرام تخفیف غربت، معاشرے کے غریب ترین اور کمزورترین طبقات کی مدد اور انہیں مالی طور پر خوشحال بنانے کیلئے اب تک کا سب سے بڑا پروگرام ہے، اتنا وسیع البنیاد اور بڑے بجٹ کا عوامی فلاحی پروگرام اب تک کسی حکومت نے جاری نہیں کیا

اسلام آباد ۔ 20جولائی (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے احساس پاکستان میں تخفیف غربت، معاشرے کے غریب ترین اور کمزورترین طبقات کی مدد اور انہیں مالی طور پر خوشحال بنانے کیلئے شروع کیا گیا اب تک کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ گزشتہ 72 سال میں اتنا وسیع البنیاد اور بڑے بجٹ کا عوامی فلاح و تحفیف غربت کا پروگرام اس سے قبل کسی …

اسلام آباد ۔ 20جولائی (اے پی پی) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے احساس پاکستان میں تخفیف غربت، معاشرے کے غریب ترین اور کمزورترین طبقات کی مدد اور انہیں مالی طور پر خوشحال بنانے کیلئے شروع کیا گیا اب تک کا سب سے بڑا پروگرام ہے۔ گزشتہ 72 سال میں اتنا وسیع البنیاد اور بڑے بجٹ کا عوامی فلاح و تحفیف غربت کا پروگرام اس سے قبل کسی حکومت نے جاری نہیں کیا۔ وزیر اعظم عمران خان شروع سے ہی غربت کے خاتمے، معاشرے کے کمزور طبقات کا معیار زندگی بلند کرنے، تعلیم کے فروغ اور انسانی و قدرتی وسائل کے بہتر استعمال پر زور دیتے رہے ہیں اور یہ نکات پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا بھی اہم حصہ ہیں۔ 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد حکومت سنبھالتے ہی وزیر اعظم عمران خان نے غربت کے خاتمے، معاشرے کے کمزور طبقات کا معیار زندگی بلند کرنے، تعلیم کے فروغ اور انسانی و قدرتی وسائل کے بہتر استعمال کیلئے پالیسی سازی پر توجہ دی اور اس اہم ایجنڈے کی تکمیل کیلئے انہوں نے 27 مارچ 2019 کو احساس پروگرام کا اجراءکیا۔ وزیر اعظم عمران خان اپنے خطابات اور میڈیا کے ساتھ گفتگو میں بارہا چین کی مثال دیتے رہے ہیں کہ کس طرح چین نے غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والی تقریباً 70 کروڑ آبادی کو خط غربت سے نکالا جس سے چین ترقی کی راہ پر گامزن ہو کر دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بننے جا رہا ہے۔

اسی سوچ کے پیش نظر انہوں نے احساس جیسا ہمہ جہتی پروگرام شروع کیا تاکہ غریبوں خاص طور پر خواتین کو خط غربت سے نکالا جائے، غریب طبقات کے ذہین بچوں کیلئے اعلیٰ تعلیم کے مواقع پیدا کئے جائیں، ملک میں کاروباری ماحول پیدا کیا جائے تاکہ جوجوان ملازمت تلاش کرنے کی بجائے کاروبار اور انٹرپرینیورشپ کی طرف راغب ہوں۔ماضی میں جاری کئے گئے تخفیف غربت پروگراموں میں تمام تر توجہ نقد ادائیگیوں کی طرف تھی اور ان میں سے بھی بڑی رقوم حقیقی حقداروں تک نہیں پہنچ پاتی تھیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے جسے شفاف ترین پروگرام قرار دیا جاتا رہا ہے مگر موجودہ حکومت نے نادرا کے ڈیٹا سے اس کی جانچ پڑتال کروائی تو ایسے 8 لاکھ افراد کا سراغ ملا جو کسی طور بھی مستحق نہیں تھے اور ان میں سرکاری افسران سمیت بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ شامل تھے جنہیں مستحقین کی فہرست سے خارج کیا گیا۔ اس تجربے کی روشنی میں احساس کے تحت ادائیگیوں میں شفافیت کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے اور نادرا کے ڈیٹا سے مکمل سکروٹنی کے بعد ہی لوگوں کو اس پروگرام سے مستفید ہونے کی اجازت دی گئی ہے۔ احساس کے تحت اب تک جاری پروگراموں میں احساس کیش ایمرجنسی کیش، احساس راشن پورٹل، احساس سکالرشپ، احساس پناہ گاہ اور احساس لنگر، احساس کفالت، احساس بلاسود قرضے اور احساس آمدن و اثاثہ جات منتقلی پروگرام شامل ہیں اور ان کے تحت اب تک کھربوں روپے ادائیگیاں کی جا چکی ہیں جن سے کروڑوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔شفافیت کے ساتھ ساتھ احساس کا ایک بہت اہم پہلو کام میں تیزرفتاری بھی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے احساس کے تمام پروگراموں میں اجرائ سے لے کر ادائیگیوں تک کے مراحل تیزرفتاری کے ساتھ مکمل کئے گئے ہیں۔ اس کی بہترین مثال کورونا وبا کے بعد شروع کیا گیا احساس ایمرجنسی کیش پروگرام ہے جس کے اجرائ، درخواستوں کی وصولی، ان کی جانچ پڑتال اور عملی رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد ادائیگیوں کا تمام تر عمل تین ماہ کے مختصر وقت میں مکمل کیا گیا اور 17 جولائی تک 1 کروڑ29 لاکھ 51 ہزار افراد میں156 ارب70 کروڑ روپے کی رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ صوبہ سندھ میں 38 لاکھ 94 ہزار سے زائد افراد میں 45 ارب 95 کروڑ روپے سے زائد تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ صوبہ پنجاب میں58 لاکھ 31ہزار سے زائد افراد میں 70 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔ خیبر پختونخوا میں 22 لاکھ 8 ہزار سے زائد افراد میں 26 ارب 81 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔ بلوچستان میں 6 لاکھ 44 ہزار سے زائد افراد میں 7 ارب 83 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔ آزاد جموں وکشمیر میں 2 لاکھ 11 ہزار سے زائد افراد میں 2 ارب 58 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔گلگت بلتستان میں 93 ہزار سے زائد افراد میں 1 ارب 14 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جاچکی ہے اور اسلام آباد میں 66 ہزار سے زائد افراد میں 80کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جاچکی ہے۔ تقسیم شدہ رقم میں 1.26 ارب روپے کفالت بقایا جات کی ادائیگیاں بھی شامل ہیں۔

احساس کے تحت مختلف پروگرامز کا اجرائ کرتے وقت اس امر کا بطور خاص خیال رکھا گیا ہے کہ غربت میں کمی اور معاشرے کے کمزور طبقات کی بہتری کیلئے تمام آپشنز استعمال کئے جائیں۔ ایک طرف کورونا لاک ڈاﺅن اور کاروبار کی بندش کی وجہ سے بے روزگار ہونے والے غریب ترین افراد کو بھوک اور فاقہ کشی سے بچانے کیلئے 12 ہزار روپے کی نقد امداد دی گئی ہے تو دوسری طرف کورونا لاک ڈاﺅن کے دوران غریب طبقات کو بھوک اور فاقہ کشی سے بچانے کیلئے احساس راشن پورٹل کا اجراءکیا گیا ہے جس میں احساس کا کردار مخیر ادراوں و افراد اور مستحقین کے درمیان رابطہ کار اور سہولت کار کا ہے۔ حکومتِ پاکستان کا بنیادی کردار اہل مستحقین کا ڈیٹا مہیا کرنے اور ڈونرز کے ساتھ ان کا رابطہ قائم کروانے تک مرکوز کیا گیا ہے۔ مستحقین اور ڈونر تنظیمیں دونوں پورٹل میں اندراج کیلئے مطلوبہ معلومات فراہم کرتی ہیں۔ مستحقین اور ڈونرز <a www.rashan.pass.gov.pk پر خود کو رجسٹر کروا سکتے ہیں۔ مستحقین کی معلومات کی توثیق کی جاتی ہے اور احساس ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے اہلیت کا تعین کیا جاتا ہے۔ ڈونر تنظیموں کو پروگرام میں شراکت دار بنانے کیلئے مخصوص اہلیت کے معیار کے مطابق جانچا جاتا ہے۔ احساس راشن پورٹل پراب تک 738869 افرادراشن امداد کیلئے خود کورجسٹر کرواچکے ہیں اور ضرورت مند افراد میں راشن کی تقسیم کا آغاز ہو چکا ہے۔


احساس سکالرشپ کے تحت کم آمدنی والے طبقے سے تعلق رکھنے والے ذہین طلباءو طالبات کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع مہیا کرنے کیلئے سالانہ 50 ہزار انڈر گریجویٹ طلبہ کیلئے تعلیمی وظائف کا اجراءکیا گیا ہے۔ چار سال میں یہ تعداد دو لاکھ تک پہنچ جائے گی اور اس میں 50 فیصد کوٹہ طالبات کیلئے مختص ہے۔ انڈر گریجویٹ سکالرشپ پروگرام اعلی ٰتعلیم تک رسائی کو وسعت دینے کے لئے ایک بڑا قدم ہے جس کے تحت حکومت اس بات کی خواہاں ہے کہ کوئی طالبعلم مالی اخراجات کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہے۔ اس میں ٹیوشن فیس اور وظیفہ دونوں شامل ہیں۔ طالبات کے لئے 50 فیصد وظائف مختص ہیں اور ضرورت مند اور کم ترقی یافتہ اور دور افتادہ علاقوں کے طلبہ کی خصوصی طور پر حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ طلبہ کے لئے اہلیتی معیارکسی بھی سرکاری شعبہ کی یونیورسٹی میں میرٹ پر داخلہ رکھا گیا ہے اور خط غربت سے کم آمدن والے خاندانوں کے طلبائ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ طلبہ http://ehsas.hec.gov.pk پر آن لائن یا مکمل کوائف کے ہمراہ درخواست فارم اپنی متعلقہ یونیورسٹی کے مالی امداد کے دفتر میں جمع کرا سکتے ہیں۔

ملک کے بڑے شہروں میں بڑی تعداد میں لوگ غربت کے باعث سڑکوں کے کنارے، فٹ پاتھوں، پارکس اور کھلی جگہوں پر سونے پر مجبور ہیں۔ جنہیں موسموں کی تمام تر سختیاں کھلے آسمان تلے ہی جھیلنا پڑتی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس صورتحال کے پیش نظر ملک کے بڑے شہروں میں پناہ گاہوں کے قیام کا تصور پیش کیا اور سے عملی جامہ پہناتے ہوئے اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، ملتان اور دیگر بڑے شہروں میں پناہ گاہیں قائم کی گئی ہیں جہاں غریب اور بے سہارا لوگ اپنا شناختی کارڈ دکھا کر مفت رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔ بعد میں اس پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے ان پناہ گاہوں کے ساتھ اور دیگر مقامات خاص طور پر بڑے ہسپتالوں کے ساتھ لنگر خانے قائم کئے گئے ہیں۔ اب تک پبلک پرائیویٹ شراکت داری کے تحت پنجاب، سندھ، خیبرپختونخواہ اور اسلام آباد میں لنگر خانے کھولے جاچکے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے ”احساس سیلانی لنگر“ سکیم کا افتتاح اسلام آباد میں 7 اکتوبر 2019 کو کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ملک بھر میں پہلے مرحلے میں 112 لنگر خانے کھولے جائیں گے۔ یہ لنگر خانے ان علاقوں میں کھولے جائیں گے جہاں محنت کش، بیروزگاری اور بھوک کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار اور صنعتوں کے فروغ کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کررہی ہے، مشکل وقت ہے لیکن ہمیں کمزور طبقے کا احساس ہے اور ہماری کوشش ہے کہ لوگ بھوکے نہ رہیں۔

خواتین ہماری آبادی کا نصف سے زیادہ حصہ ہیں مگر تعلیم اور دیگر میدانوں میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے ان کا معاشرے کی ترقی میں کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ ان خواتین کے حالات ناگفتہ بہ ہیں جو بیوہ یا مطلقہ ہیں اور بوجوہ دوسری شادی نہیں کر پاتیں اور ان کا کمانے اور کفالت کرنے والا کوئی نہیں۔ معاشرے کے اس طبقے کی بہبود کیلئے احساس کفالت پروگرام کا اجرائ31جنوری 2020 کو کیا گیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 4576463 مستحق خواتین مستفید ہو چکی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت 70 لاکھ خواتین کو کفالت کارڈز دیئے جا رہے ہیں۔ حکومت چاہتی ہے کہ 200 ارب روپے براہ راست مستحقین تک پہنچ سکیں۔ اس حوالے سے ڈاکٹر ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی کے اعداد و شمار 10 سال پرانے تھے، موجودہ حکومت نے باقاعدہ سروے اور نادرا ڈیٹا بینک سے مستحقین کا انتخاب کیا گیا ہے، احساس کفالت پروگرام کیلئے دو بینکوں کے ساتھ معاہدہ کیا گیا ہے، احساس کفالت پروگرام 100 فیصد بائیو میٹرک ہے، مستحق خواتین کی بینکوں تک رسائی کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے۔

نیشنل پاورٹی گریجویشن انیشی ایٹو“ کا جامع ملک گیر پروگرام بیک وقت 100 سے زائد اضلاع میں متعارف کرایا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت سود سے پاک قرضے، پیشہ وارانہ اور فنی تربیت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ نیشنل پاورٹی گریجویشن انیشی ایٹو کا تخمینہ 42 ارب 65 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جس کا مقصد انتہائی پسماندہ طبقے کے گھرانوں کو غربت کی دلدل سے باہر نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے۔ پروگرام کے تین حصے ہیں جن میں اثاثہ جات کی تقسیم، بلا سود قرضوں کی فراہمی اور اثاثہ جات کے موثر استعمال کے لئے ہنرسازی شامل ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد محروم طبقات کے گھرانوں کا زکوة، بیت المال اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر انحصار ختم کر کے انہیں معاشی دھارے میں شامل کرنا اور خود مختار بنانا ہے۔ اس پروگرام میں ایشیائی ترقیاتی بینک اور بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی کی مدد حاصل کی گئی ہے۔ اس میں 40 شراکتی اداروں کی مدد حاصل ہے۔ ان میں اخوت اور رورل سپورٹ پروگرام بھی شامل ہیں۔ پروگرام سے 100 اضلاع میں 16.28 ملین لوگ مستفید ہوں گے جن میں 50 فیصد خواتین بھی شامل ہیں۔ 25 ہزار غریب افراد میں اثاثوں کی تقسیم پروگرام میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ انہیں کامیاب کاروبار چلانے کے لئے فنی و کاروباری تربیت بھی فراہم کی جارہی ہے اور ہر شخص کو اوسطاً پچاس ہزار مالیت کے اثاثہ جات فراہم کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ بلا سود قرضے بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اثاثہ جات سے 1.45 ملین لوگ مستفید ہوں گے، بلا سود قرضوں کی فراہمی اس پروگرام کا اہم حصہ ہے جس کے تحت 20 ہزار روپے سے 75 ہزار روپے تک کے 80 ہزار قرضے ماہانہ فراہم کرنے کا ٹارگٹ ہے۔ چار سال میں مجموعی طور پر 3.8 ملین بلا سود قرضے تقسیم کئے جائیں گے۔ پروگرام کے تحت اثاثہ جات اور بلا سود قرضے حاصل کرنے والے افراد کو فنی تربیت فراہم کی جائے گی تاکہ یہ افراد اپنے کاروبار میں جدت لا سکیں۔ اس مقصد کے لئے وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت اور نیوٹیک سے معاونت حاصل کی گئی ہے۔احساس آمدن پروگرام کا اجراء21 فروری 2020 کو ہوا تھا۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 25,054 خاندانوں کو 1.5 ارب روپے مالیت کے چھوٹے کاروباری اثاثے فراہم کئے جاچکے ہیں۔

احساس پروگرام کے تحت وزیراعظم نے10 مارچ 2020 کو احساس ضلعی پورٹل ڈیٹا فار پاکستان کا اجراء کیا۔ اس پورٹل کی تشکیل حکومت کا حقائق پر مبنی وفاقی، صوبائی اور ضلعی سطح پر اداروں کے فیصلہ سازی کے عمل میں اہم قدم ہے۔ا

حساس پروگرام کے حوالے سے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عرفان اقبال شیخ کا کہنا ہے کہ میں نے پاکستان کی 72 سالہ تاریخ میں اس سے زیادہ شفاف اور اس سے زیادہ بہتر پروگرام نہیں دیکھا۔ اس سے کروڑوں لوگون کو فائدہ ہوگا، سب سے بہتر بات یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے گھروں میں پیسے دیئے جا رہے ہیں۔ اور اس کو بالکل شفاف رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد وزیر اعظم نے اس کے دوسرے مرحلے کا اعلان کیا ہے، امید ہے کہ دوسرا مرحلہ بھی پہلے مرحلے کی طرح اسی کامیابی کے ساتھ لوگوں کو فائدہ پہنچائے گا۔لاہور چیمبر خود بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے، ہم نے وزیر اعظم کے فنڈ میں دو کروڑ روپے، وزیر اعلیٰ کے فنڈ میں ایک کروڑ روپے اور گورنر پنجاب کے فنڈ میں بھی عطیات جمع کروائے اور ہم خود بھی یہ کام کر رہے ہیں اورکھانے کھلا رہے ہیں۔ عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ جس طرح سے اللہ کی مخلوق کی خدمت کی گئی ہے اس کی یہاں پہلے کوئی مثال نہیں ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ پروگرام مزید کامیاب ہوگا اور ہم دل و جان سے اس کے ساتھ ہیں۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ اندسٹری کے ایگزیکٹو ممبر بابر چوہدری کہتے ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت نے جو احساس پروگرام شروع کیا ہے یہ بہت اچھا پروگرام ہے ، جو بھی لوگ غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ان کیلئے یہ ایک ریلیف ہے۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے سے ہی کاروباری حالات خراب تھے پھر کورونا آیا اور کاروبار ہی بند ہو گئے تو غریب بہت مشکل میں آ گئے۔ حکومت نے احساس پروگرام کے تحت ان کو جو کیش دیا ہے یہ بہت خوش آئند ہے ، اس سے انہیں وقتی طور پر ریلیف ملا ہے اور وہ اپنی بنیادی ضروریات زندگی پوری کر سکتے ہیں۔ بابر چوہدری کا کہنا تھا کہ ایسے پروگرام مزید ہونے چاہئیں۔ احساس پروگرام سے لوگ اپنا معیار زندگی کچھ بہتر کر سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم وزیر اعظم کی سپورٹ کریں تاکہ حکومت ایسے مزید پروگرام شروع کر سکے۔

اسلام آباد اسٹیٹ ایجنٹس ایسو سی ایشن کے جنرل سیکرٹری چوہدری زاہد رفیق کا کہنا ہے کہ میں وزیر اعظم عمران کان اور معاون خصوصی ثانیہ نشتر صاحبہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے احساس کیش کا پروگرام شروع کیا اور پورے ملک میں غریب لوگون کو ان کی دہلیز پر پیسے فراہم کئے۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی، جس میں شفافیت کے ساتھ اور بہترین انداز میں لوگوں کی خدمت کی گئی، ایسے پروگرام جاری رہنے چاہیں یہ پاکستان تحریک انصاف کے ویژن کے مطابق ہے۔

پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم چوہدری کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاشرے میں اگر احساس نہیں ہے تو نہ اس معاشرے میں امن ہو سکتا ہے کہ ترقی ہو سکتی ہے۔ احساس پروگرام کے تحت 50 ہزار انڈر گریجویٹ سٹوڈنٹس کو سکالرشپ دیئے گئے ہیں۔ ان سے نہ صرف وہ سٹوڈنٹس اپنے تعلیمی اخراجات پورے کریں گے بلکہ ان بچوں کے اندر یہ احساس بھی پیدا ہوا ہے کہ انہوں نے حکومت کے اس قدم کو ریٹرن کرنا ہے، ملک کو واپس دینا ہے۔ ان کو احساس ہوا کہ کوئی ان کی دیکھ بھال کرنے والا ہے۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر عبدالقیوم چوہدری نے کہا کہ میں اس پروگرام کو بہت سراہتا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ حکومت احساس سکالر شپ جیسے مزید پروگرام بھی شروع کرے گی، ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹر میں جی ڈی پی کا پورشن بھی بڑھائے گی تاکہ یہ دونون سیکٹرز ترقی کریں اور ہمارا ملک بھی ترقی کرسکے۔

 

پنجاب یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد راشد کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے جتنے بھی پروگرام شروع کئے ہیں ان میں غریبوں کو مد نظر رکھا گیا ہے، چاہے وہ احساس کفالت پروگرام ہو یا سستا گھر پروگرام ہو۔ احساس سکالر شپ پروگرام کے تحت محنتی اور ذہین مگر غریب طلباءطالبات کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کا موقع ملا ہے۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کو جاری رکھا جائے اور اس کا دائرہ کار وسیع کیا جائے اور سکالرشپس میں دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو زیادہ اہمیت دی جائے تاکہ وہ علم کی شمع اپنے علاقوں میں بھی روشن کر سکیں اور اپنی علم کی پیاس کو بجھا سکیں۔

پنجاب یونیورسٹی میں ایم فل کی طالبہ مدیحہ خان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے اقدامات لوگوں کیلئے سہولت کا باعث ہیں اور ان میں سے سب سے اچھا احساس سکالر شپ پروگرام ہے جو حکومت نے غریب طلباءو طالبات کو تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کیلئے شروع کر رکھا ہے۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ سکالر شپ غریب اور ذہین طلباء و طالبات کو تعلیم جاری رکھنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ اس سکالر شپ پروگرام کو جاری رکھیں گے تاکہ وہ طلباءو طالبات جن کے پاس اپنی تعلیم مکمل کرنے کے وسائل نہیں ہیں وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔

لاہور کی رہائشی ایک خاتون نسرین بی بی نے اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا احساس کفالت پروگرام بہت اچھا ہے اس سے غریبوں کو بہت فائدہ ہوا ہے۔ جو لوگ کورونا کی وجہ سے بیروزگار ہو گئے تھے ان کیلئے بہت مشکلات پیدا ہو گئی تھیں۔ اس پروگرام سے ملنے والے پیسون سے ان افراد نے راشن خریدا جس سے انہیں بہت فائدہ ہوا۔ ہمیں امید ہے کہ وزیر اعظم کا یہ پروگرام چلے گا اور جن لوگوں کو پیسے نہیں ملے انہیں بھی مل جائیں گے۔ عمران خان پاکستان کے غریبوں کیلئے امید کی کرن ہیں۔

اسلام آباد میں محنت مزدوری کرنے والے محمد طارق کہتے ہیں کہ احساس لنگر خانہ میں انہیں تین وقت کھانا ملتا ہے، پارسل کھانا اچھے طریقے سے ملتا ہے اور کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ یہ حکومت نے بہت اچھا کیا ہے۔ اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب سے لنگر خانہ قائم ہوا ہے کھانے پینے کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔آزاد کشمیر کے ایک شہری ظفر نے اے پی پی کو بتایا کہ وہ ضلع باغ سے آیا تو اس کے پاس اسلام آباد میں رہائش نہیں تھی، عمران خان کے بہت شکر گزار ہیں کہ انہوں نے یہ رہائش کا بندو
بست کیا ہے ہم باعزت طریقے سے یہاں رہتے ہیں اور یہاں کا عملہ بھی بہت اچھا ہے۔