حکومت کا تعمیراتی شعبے کی مزید ترقی کے لئے جامع ڈویلپمنٹ پیکج پرغور

وفاقی وزیر اقتصادی امور و سٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد خان چیمہ کی زیرصدارت قومی تعمیراتی شعبے میں اہم ریگولیٹری، آپریشنل اور مالیاتی اصلاحات کا جائزہ بارے اجلاس منعقد ہوا۔ وزارت اقتصادی امور کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، وفاقی سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیپٹن (ر) محمود، منیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا)، کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان (سی اے پی) کی قیادت اور …

اسلام آباد۔15اگست (اے پی پی):وفاقی وزیر اقتصادی امور و سٹیبلشمنٹ ڈویژن سینیٹر احد خان چیمہ کی زیرصدارت قومی تعمیراتی شعبے میں اہم ریگولیٹری، آپریشنل اور مالیاتی اصلاحات کا جائزہ بارے اجلاس منعقد ہوا۔ وزارت اقتصادی امور کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، وفاقی سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیپٹن (ر) محمود، منیجنگ ڈائریکٹر پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا)، کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان (سی اے پی) کی قیادت اور نمائندگان سمیت دیگر سینئر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

وزارت کے مطابق صنعت کی مکمل بحالی کے وسیع وژن کے تحت، حکومت تعمیراتی صنعت کے لیے ایک جامع ڈویلپمنٹ پیکیج پر غور کر رہی ہے جس میں کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈ (سی آئی ڈی بی) کا قیام، مخصوص کنسٹرکشن ڈوپلیمنٹ بینک (سی ڈی بی) کی افادیت کا جائزہ، درآمدی و برآمدی پالیسیوں کو معقول بنانا اور تعمیراتی شعبے کے لیے ہدف شدہ ٹیکس اصلاحات شامل ہیں۔ اجلاس میں مشاورت کے دوران وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ مجوزہ سی آئی ڈی بی دوہرا کردار ادا کرے گا، جس میں تعمیراتی شعبے کی مجموعی ترقی اور انڈسٹری کے معیارات، ٹھیکیداروں اور کنسلٹنٹس کی نگرانی کا ریگولیٹری فریضہ دونوں شامل ہوں گے۔

سرکاری و نجی شعبوں کے نمائندوں پر مشتمل یہ بورڈ قومی معیار کو بلند کرنے کے لیے ایک متفقہ پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا۔وفاقی وزیر نے نشاندہی کی کہ اس ادارے کی ضرورت پر وفاقی حکومت اور کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے درمیان مکمل اتفاق رائے موجود ہے اور وفاقی حکومت حتمی منظوری کے لیے اس کا فریم ورک باضابطہ طور پر وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی۔

مزید برآں، زیرِ غور وسیع ڈویلپمنٹ پیکیج کا مقصد مالیاتی اور پالیسی سے متعلق رکاوٹوں کو مخصوص ٹیکس مراعات اور ہم آہنگ درآمدی و برآمدی پالیسیوں کے ذریعے دور کرنا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے اور مقامی تعمیراتی صلاحیت میں اضافہ ہو۔عوامی انفراسٹرکچر کی طویل المدتی پائیداری اور ساخت کی مضبوطی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اعلان کیا کہ حکومت جلد ہی سرکاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے معیاری ڈیفیکٹ لائبیلٹی پیریڈ (ڈی ایل پی) ایک سال سے بڑھا کر تین سال کر دے گی جبکہ مستقبل میں اسے مزید پانچ سال تک بڑھانے کا واضح روڈ میپ بھی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری انفراسٹرکچر کو مکمل ہونے کے فوراً بعد خراب نہیں ہونا چاہیے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس دورانیے کو بڑھانے سے ٹھیکیدار اور انتظامی ادارے اعلیٰ معیار برقرار رکھنے اور قبل از وقت کی خرابیوں کو روکنے پر مجبور ہوں گے۔ اعلامیہ کے مطابق جوابدہی میں موجود اہم خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سینیٹر احد چیمہ نے کہا کہ اگرچہ معاہدے کی خلاف ورزی یا خراب کارکردگی پر ٹھیکیداروں کے لیے سزائیں موجود ہیں لیکن کنسلٹنٹس کے لیے کوئی قانونی فریم ورک یا جرمانے کا میکانزم موجود نہیں ہے۔

سی آئی ڈی بی کے نئے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کنسلٹنٹس کو بھی براہِ راست نگرانی کے دائرے میں لایا جائے گا تاکہ ڈیزائن کی خامیوں یا فنی غلطیوں پر انہیں قانونی اور مالی طور پر جوابدہ بنایا جا سکے۔ کنسٹرکشن ایسوسی ایشن آف پاکستان کے نمائندوں نے اس موقف کی مکمل توثیق کرتے ہوئے اتفاق کیا کہ ڈیزائن کی درستگی کو یقینی بنانے اور عوامی سرمائے کے تحفظ کے لیے کنسلٹنٹس کا ریگولیٹری احتساب انتہائی ضروری ہے۔

مالیاتی اور پرفارمنس ضمانتوں کے حصول میں بینکنگ کی دشواریوں کے حوالے سے سی اے پی نمائندوں کی تجاویز اور ایک مخصوص کنسٹرکشن ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کی درخواست کے جواب میں وفاقی وزیر نے وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کو ہدایت کی کہ وہ سٹیٹ بینک آف پاکستان اور پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کے ساتھ باضابطہ اور تفصیلی بات چیت کا آغاز کریں۔ ایک مخصوص سی ڈی بی کے قیام کا کوئی بھی فیصلہ سٹیٹ بینک اور پی بی اے کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلی فیڈ بیک اور مالیاتی فیزیبلٹی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر احد چیمہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کی بنیادی توجہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہر عوامی انفراسٹرکچر کا منصوبہ لاگت کے لحاظ سے موثر اور انتہائی پائیدار ہو۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی فنڈز قومی امانت ہیں جنہیں ناقص کارکردگی یا غلط تکنیکی ڈیزائن کی وجہ سے ضائع نہیں ہونے دیا جا سکتا، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اور ریگولیٹری دونوں کردار ادا کرنے والا ایک آزاد بورڈ احتساب کو نافذ کرے گا، تنازعات کے حل کو ہموار بنائے گا اور قومی تعمیراتی معیارات کو بین الاقوامی سطح تک بلند کرے گا۔

 

مزید خبریں