حکومت کا روز ویلٹ ہوٹل کی فروخت کا کوئی ارادہ نہیں،وفاقی وزیر ہوابازی

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ حکومت کا نیویارک کےروز ویلٹ ہوٹل کی فروخت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ قومی ایئر لائن پی آئی کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہاروزیر ہوابازی نے اپنے پالیسی بیان میں کیا۔ غلام سرور خان نےکہا کہ دی گرینڈ ڈیم آف نیویارک کہلائے جانے والے مشہور روز ویلٹ ہوٹل نیو یارک …

اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ حکومت کا نیویارک کےروز ویلٹ ہوٹل کی فروخت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ قومی ایئر لائن پی آئی کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہاروزیر ہوابازی نے اپنے پالیسی بیان میں کیا۔ غلام سرور خان نےکہا کہ دی گرینڈ ڈیم آف نیویارک کہلائے جانے والے مشہور روز ویلٹ ہوٹل نیو یارک کو فروخت کرنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے، بعض حلقوں کی طرف سے اس حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں جوسیاسی پوائنٹ سکورنگ سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ پی آئی اے کا روزویلٹ ہوٹل ، جو دنیا کے مہنگے ترین مقام ’مین ہیٹن ‘کے قلب میں واقع ہے ، انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کو متنوع کرنے کی حکمت عملی کے تحت اپنے منافع کی رقم سے قومی ایئر لائن نے اس 19 منزلہ عمارت کو شراکت داری کے تحت 1979 میں حاصل کیا اور بعد ازاں 1999 میں اس کے 100 فیصد حصص ایئر لائن نے اپنے وسائل سے خرید لئے ۔ اس املاک میں ایک ہزار سے زائد کمرے ہیں اور اس کا رقبہ 43313مربع فٹ ہے ۔ مکمل طور پر ہوٹل حاصل کرنے کے بعد پی آئی اے نے ہوٹل کی تزئین و آرائش کا کام شروع کیا اور یہ فورا منافع میں چلا گیا جو 2018 تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کہ تاہم اس حقیقت کے باوجود کہ اس ہوٹل کو دنیا کی سب سے بڑی ہوٹل مینجمنٹ کمپنی’انٹر اسٹیٹ‘ چلاتی ہے، یہ ہوٹل مالی مشکلات کا شکارہو گیا، تیزی سے تنزلی کی سب سے بڑی وجہ اس کے بنیادی ڈھانچے اور عمارت کی بتدریج خستہ حالی ہے جبکہ عالمی سطح پرکوویڈ۔19 کی صورتحال نے اس تنزلی کو مزید تقویت دی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ روزویلٹ ہوٹل کی آخری مرتبہ تزئین و آرائش 1995 میں کرائی گئی تھی۔ تخمینے کے مطابق ، کم سے کم اور بنیادی تزئین و آرائش کی لاگت 32 ملین ڈالر ہے جبکہ مکمل تزئین و آرائش کے لئے 110 ملین ڈالر کی رقم درکار ہو گی۔ اس کی تزئین و آرائش کا ابتدائی منصوبہ تشکیل دیا گیا اورکچھ ماڈل کمروں کے تزئین کے حوالے سے جائزہ اور منظوری کے لئے بھی تیار کیا گیا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ تاہم کوویڈ۔19 کی وبا ایک بڑا چیلنج ہے جس نےعالمی سطح پر ٹریول اینڈ ہوٹل کی صنعت کو شدید متاثر کیاہے۔ صرف مین ہیٹن میں 183 ہوٹل بند پڑے ہیں۔ ہوٹل مینجمنٹ اب بھی میڈیکل عملے کے لئے اپنی خدمات رعایتی نرخوں پر فراہم کرکے ہوٹل کو استعمال کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن اب ان کے جانے کے بعد صورتحال مزید خراب ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ روزویلٹ ہوٹل کی انتظامیہ نے جے پی مورگن بنک سے 160 ملین ڈالر کا قرض حاصل کیا، اس کی ادائیگی ہوٹل انتظامیہ کی جانب سے باقاعدگی سے اس کی اپنی آمدنی سے کی جانی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سال 2020 تک واجب الادا رقم میں 105 ملین ڈالر تک کمی ہوئی جس کی طے شدہ معاہدے کے مطابق باقاعدگی سے اور بروقت ادائیگی کی جاتی رہی۔ تاہم سیاحت اور ہوٹل کی صنعت کی مجموعی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے قرض دہندہ نے اپنی ذمہ داری کسی اور کمپنی کو فروخت کردی جو خود ہوٹل کے حصول میں بہت دلچسپی رکھتی ہے۔ اس کمپنی نے قرض واپسی کے مطالبے اور جائیداد پر قبضے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں جو پی آئی اے اور حکومت پاکستان کے لئے ناقابل قبول ہے۔ پی آئی اے مینجمنٹ نے ممکنہ خدشات کو محسوس کرتے ہوئے حکومت کو اس بات پر رضامند کیا ہے کہ وہ مداخلت کرکے یکمشت قرض کی ادائیگی کرکے قومی اثاثہ کو محفوظ کر لے۔ وزیر ہوابازی نے کہا کہ اس معاملہ پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا اور آخر کار وزارت ہوا بازی اور وزارت خزانہ کی سفارشات پر حکومت پاکستان نے نیشنل بنک آف پاکستان کو اختیار دیا ہے کہ وہ ہوٹل کے ذمہ اس قرض کی ذمہ داری اٹھائے اورہوٹل کو ہر قسم کےغیر ملکی اثر یا کنٹرول سے نجات دلائے۔ روزویلٹ ہوٹل کو بند کرنے کےحوالے سے انہوں نے کہا کہ ہوٹل اس وقت چل رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک کے مختلف ایئرلائنوں کے ساتھ اس کے معاہدے کارآمد ہیں۔ مستقبل کے لئے متعدد اقدامات پر غور کیا جارہا ہے اور تمام فیصلے حکومت پاکستان اور ہوٹلکا بورڈ کی طرف سے اجتماعی طور پر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ کوئی فرد یا کمپنی یا متعلقہ کاروبار ان فیصلوں یا اس کے کام پر اثر انداز نہیںہو سکتا یا ہو سکے گا ۔ ہر فیصلہ حکومت کے تمام شعبوںکو ساتھ لیتے ہوئے ملکر شفافیت اور جوابدہی کے ساتھ کیا جائے گا۔

 

مزید خبریں