اسلام آباد ۔ 10 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت کو ان محصور ہم وطنوں کی تکالیف کا پوری طرح احساس ہے۔اب بھی تقریباً 40 ہزار پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں۔صوبائی حکومتیں وسیع تر قومی مفاد میں، محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کے عمل میں دفتر خارجہ اور وفاقی حکومت کی معاونت کریں۔جمعہ کو بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے …
حکومت کو وطن واپسی کے منتظر تقریباً 40 ہزار ہم وطنوںکی تکالیف کا پوری طرح احساس ہے، ان کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے، وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 10 اپریل (اے پی پی) وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ حکومت کو ان محصور ہم وطنوں کی تکالیف کا پوری طرح احساس ہے۔اب بھی تقریباً 40 ہزار پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں۔صوبائی حکومتیں وسیع تر قومی مفاد میں، محصور پاکستانیوں کی وطن واپسی کے عمل میں دفتر خارجہ اور وفاقی حکومت کی معاونت کریں۔جمعہ کو بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے نام اہم پیغام میں وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ میں اس مشکل گھڑی میں آپ سے مخاطب ہوں جب کووڈ۔ 19 کی صورت میں ایک ناگہانی آفت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا نے اتنا بڑا چیلنج نہیں دیکھا جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔دنیا بھر میں88 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں اور 14 لاکھ سے زیادہ لوگ اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور یہ مسئلہ تاحال بڑھ رہا ہے۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی رہنمائی میں پوری قوم تمام تر وسائل بروئے کار لا کر اس آفت کا ہمت اور جوانمردی سے مقابلہ کر رہی ہے۔انفرادی، اجتماعی، صوبائی اور قومی سطح پر ہم اس آفت سے نبرد آزما ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں ہمارے ڈاکٹرز، نرسز ،اور طبی شعبے سے وابستہ افراد وہ ہراول دستہ ہیں، جن کی کاوشوں اور قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، میں انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوںآپ کے علم میں ہے کہ کوویڈ 19 کے پھیلاﺅ کو روکنے کیلئے 21 مارچ کو بہ امر مجبوری، پاکستان کی فضائی حدود کو ہر طرح کی ہوائی آمدورفت کیلئے بند کر دیا گیا-نتیجتاً بہت سے ہم وطن دبئی، دوحہ، استنبول، تاشقند، بینکاک اور کوالالمپور جیسے ہوائی اڈوں پر محصور ہو گئے۔سب سے زیادہ تشویش ہمیں ان بھائیوں کی ہے جو اس وقت خلیجی ممالک میں موجود ہیں ۔حکومت کو ان محصور ہم وطنوں کی تکالیف کا پوری طرح احساس ہے ان کے مسائل کے ازالے کیلئے، وزیراعظم عمران خان نے میری سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے ۔کمیٹی مشکلات کے حل کیلئے سرگرداں رہی الحمد اللہ بھرپور کوششوں کے بعد 1600 کے لگ بھگ پاکستانی وطن واپس آ چکے ہیں لیکن اب بھی تقریباً 36000 سے 40000 تک پاکستانی وطن واپسی کے منتظر ہیں۔غیر معمولی حالات سے نمٹنے کیلئے میں نے تمام سفارت خانوں کو ہدایات جاری کیں – دنیا بھر میں پاکستانی سفارتخانے اور قونصلیٹ ہنگامی بنیادوں پر محصور پاکستانیوں کی ہر ممکن مدد اور معاونت کے لیے کوشاں ہیں۔وہ پاکستانی جو پاکستان کی معیشت کے روح رواں ہیں اور قومی ترقی کا ایک اہم جزو، انہیں ہم مشکل کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ ہمارا فرض ہے اور ان کا ہم پر حق بھی کہ ان شورش زدہ حالات میں انہیں وطن واپس لایا جائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بدقسمتی سے صوبائی حکومتوں کے عدم تعاون کی وجہ سے تاحال ان منصوبوں پر مکمل عمل نہیں ہو سکا اور بروقت وطن واپسی میں مشکلات درپیش ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کو جن نامساعد حالات کا سامنا ہے ہم ان سے بخوبی واقف ہیں لیکن ہم سمندر پار کو مصیبت کی اس گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ لہذا میری صوبائی حکومتوں سے پرزور اپیل ہے کہ وہ وسیع تر قومی مفاد میں، وطن واپسی کے عمل میں دفتر خارجہ اور وفاقی حکومت کی معاونت کریں اور تمام تر شخصی اور سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے اس قومی فریضے کی ادائیگی میں یک جان ہو جائیں۔








