جاپان کے ایک مقامی اخبار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹوکیو میں قائم چینی سفارت خانے میں ایک سیلف ڈیفنس فورسز (ایس ڈی ایف) اہلکار کی جانب سے چاقو کے ساتھ زبردستی داخل ہونے کے واقعے پر واضح معافی مانگے اور مکمل تحقیقات کرائے۔
حکومت کو چینی سفارت خانے میں دراندازی پر معافی مانگنی چاہیے،جاپانی مقامی میڈیا

مزید خبریں
ٹوکیو۔4اپریل (اے پی پی):جاپان کے ایک مقامی اخبار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹوکیو میں قائم چینی سفارت خانے میں ایک سیلف ڈیفنس فورسز (ایس ڈی ایف) اہلکار کی جانب سے چاقو کے ساتھ زبردستی داخل ہونے کے واقعے پر واضح معافی مانگے اور مکمل تحقیقات کرائے۔شنہوا کے مطابق بدھ کے روز شائع ہونے والے اداریے میں اخبار نے اس واقعے کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس کے اثرات کو کم کر کے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
اداریے میں کہا گیا کہ واقعے کی سنگینی کے باوجود جاپانی حکومت نے تاحال چین سے باضابطہ معذرت نہیں کی۔ادارے کے مطابق، قانون کی پاسداری کے ذمہ دار اہلکار ہی بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے، جو سفارتی مشنز کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔ اخبار نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسے اس واقعے کو محض ایک فرد کا ذاتی عمل قرار دے کر معمولی نہیں بنانا چاہیے۔مزید کہا گیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے سیلف ڈیفنس فورسز میں بہتر تربیت اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے۔
اداریے میں ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ میزبان ممالک پر لازم ہے کہ وہ سفارتی تنصیبات کو کسی بھی قسم کی دراندازی، نقصان یا امن میں خلل سے محفوظ رکھیں۔ اخبار کے مطابق جاپانی حکومت کا تاخیر سے ردعمل اس کی بین الاقوامی ذمہ داریوں پر سوالات اٹھاتا ہے اور اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔اس واقعے کے بعد جاپان میں غیر ملکی سفارتی مشنز کی سکیورٹی انتظامات پر بھی خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔








