اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت ملک کو درپیش دیرینہ مسائل حل کرنے کیلئے بنیادی اصلاحات کے فیصلے کر رہی ہے، حکومت کی دو سال کی کامیاب پالیسی کے تسلسل کے نتیجے میں معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، مشکل فیصلوں کے ثمرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، انشاءاللہ آگے مزید بہتری آئے گی، وزیراعظم …
حکومت کی دو سال کی کامیاب پالیسی کے تسلسل کے نتیجے میں معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، مشکل فیصلوں کے ثمرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر

مزید خبریں
اسلام آباد۔17نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت ملک کو درپیش دیرینہ مسائل حل کرنے کیلئے بنیادی اصلاحات کے فیصلے کر رہی ہے، حکومت کی دو سال کی کامیاب پالیسی کے تسلسل کے نتیجے میں معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، مشکل فیصلوں کے ثمرات نظر آنا شروع ہو گئے ہیں، انشاءاللہ آگے مزید بہتری آئے گی، وزیراعظم عمران خان تمام قومی اداروں کی مدد سے ملک کو آگے لیکر چل رہے ہیں، پہلی مرتبہ وفاقی حکومت نے کراچی کی ترقی کیلئے میگا پروجیکٹس کی ذمہ داری خود اٹھائی ہے اور کے فور سمیت پانچ بڑے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، گلگت بلتستان کی عوام نے انتخابات میں اپوزیشن کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اکثریت سے کامیاب کرایا، کورونا کی دوسری لہر آنے کی بدولت کئی ممالک میں لاک ڈاﺅن لگ چکا ہے، ویکسین آنے میں ابھی وقت لگے گا اسلئے عوام کو چاہیے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کریں۔ منگل کو نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے کے فور منصوبہ تاخیر کا شکار ہوا تاہم اب وفاقی حکومت نے کے فور منصوبے کی پوری ذمہ داری اٹھا لی ہے، اس حوالے سے واپڈا کے چیئرمین کراچی جا کر کئی میٹنگز بھی کر چکے ہیں اور اس وقت فیصلہ سازی کا عمل جاری ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ کا تعمیراتی کام کافی حد تک مکمل ہو چکا ہے، آئندہ سال جولائی سے ستمبر کے درمیان گرین لائن بسیں سڑکوں پر ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کچرا اٹھانے اور نالوں کی صفائی کی ذمہ داری سندھ حکومت اور ضلعی حکومت کی تھی لیکن بدقسمتی سے اس پر توجہ نہیں دی گئی، نالوں کی صفائی کیلئے مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ بارشوں میں عوام کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر بحال ہونے والا کراچی سرکلر ریلوے الگ منصوبہ ہے جبکہ وفاقی حکومت کراچی سرکلر ریلوے کا نیا منصوبہ شروع کرنے جا رہی ہے جس سے کراچی کے شہریوں کو جدید ٹرین کا نظام ملے گا اور یہ منصوبہ تین سالوں میں مکمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مصطفیٰ کمال کے خالد مقبول صدیقی پر الزامات کے بارے خالد مقبول بہتر جواب دے سکتے ہیں، مصطفیٰ کمال سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے اس وقت یہ سوالات کیوں نہیں اٹھائے جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا۔ اسد عمر نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر پر کئی ممالک میں لاک ڈاﺅن لگ چکا ہے، ماہرین کے تخمینے کے مطابق آئندہ سال گرمیوں سے پہلے ویکسین بڑی تعداد میں دستیاب نہیں ہو سکتی اسلئے عوام سے اپیل ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے جاری کردہ کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی اجتماعات کورونا وبا کے پھیلاﺅ کیلئے خطرے کا باعث ہیں اسلئے این سی او سی میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اپوزیشن جماعتوں کا یہ کہنا کہ وہ جلسے جلوس جاری رکھیں گے انتہائی افسوسناک بات ہے لیکن صوبائی حکومتوں کو انفورسمنٹ کرنی پڑے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ جہانگیر ترین اور نواز شریف کا کوئی موازنہ نہیں، نواز شریف سزا یافتہ مجرم اور مفرور ہیں، وہ جھوٹ بول کر ملک سے بھاگے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب جہانگیر ترین پر ابھی الزام ہے ان پر جرم ثابت نہیں ہوا اور وہ قانون کے سامنے پیش ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سیاسی جماعت میں دھڑے بندی ہوتی ہے، وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تمام پی ٹی آئی رہنما متحد ہیں اور وہ مشترکہ ہدف کے حصول کیلئے مل کر کام کر رہے ہیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حفیظ شیخ مجھ سے بہتر وزیر خزانہ ہیں، میں نے شروع میں کہا تھا کہ معیشت کی بہتری میں دو سال لگیں گے، اب ملکی معیشت کے اندر بہتری نظر آ رہی ہے اور آگے حالات مزید بہتر ہوں گے، گزشتہ تین چار ماہ کے دوران جو فیصلے لئے گئے ہیں، عوام کو ان کے ثمرات ملنے میں وقت لگے گا۔







