اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم ووزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نے کہا ہے پاکستان جسے کبھی ’’سفارتی طور پر تنہا‘‘ قرار دیا جاتا تھا، موجودہ حکومت کی متحرک پالیسیوں کے باعث آج عالمی برادری میں سفارتی، سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط اور نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے،اہم عالمی امور پر پاکستان کے فعال، اصولی اور مضبوط مؤقف کو عالمی فورمز پر سراہا گیا اور اسے …
حکومت کی متحرک پالیسیوں کے باعث پاکستان سفارتی،،سیاسی اور معاشی طور پر ابھر رہا ہے،عالمی برادری میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے،نائب وزیراعظم/وزیرخارجہ اسحاق ڈارکی پریس کانفرنس

مزید خبریں
اسلام آباد۔27دسمبر (اے پی پی):نائب وزیراعظم ووزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نے کہا ہے پاکستان جسے کبھی ’’سفارتی طور پر تنہا‘‘ قرار دیا جاتا تھا، موجودہ حکومت کی متحرک پالیسیوں کے باعث آج عالمی برادری میں سفارتی، سیاسی اور معاشی طور پر مضبوط اور نمایاں حیثیت اختیار کر چکا ہے،اہم عالمی امور پر پاکستان کے فعال، اصولی اور مضبوط مؤقف کو عالمی فورمز پر سراہا گیا اور اسے تسلیم کیا گیا،پاکستان کے اصولی مؤقف کے باعث عالمی برادری میں اس کی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے۔
ہفتہ کے روز وزارتِ خارجہ کی سالانہ کارکردگی اور کردار پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈارنے کہا کہ اہم عالمی امور پر پاکستان کے فعال، اصولی اور مضبوط مؤقف کو عالمی فورمز پر سراہا گیا اور اسے تسلیم کیا گیا،اسحاق ڈار نے ملک کا مثبت تشخص اجاگر کرنے پر قومی میڈیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ جب پی ڈی ایم حکومت قائم ہوئی تو پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا ملک سمجھا جاتا تھا، مگر اب عالمی برادری میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ کے مطابق بھارت کے ساتھ چار روزہ مسلح تصادم کے دوران خطے میں بھارتی بالادستی اور خود کو سیکیورٹی فراہم کرنے والا قرار دینے کا دعویٰ آزمایا گیا اور ناکام ہوا۔انہوں نے کہا کہ پلوامہ واقعہ کے بعد بھارت نے جھوٹا الزام پاکستان پر عائد کیا، وزارتِ خارجہ متحرک رہی اور اب ملک کا دفاع مضبوط اور مستحکم ہے۔ بھارتی جارحیت کے دوران پاکستان نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا کیونکہ وہ ہمیشہ امن کا داعی رہا ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور میزائل قوت نے ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اب توجہ پاکستان کو معاشی طاقت بنانے پر ہےاور اس مقام کے حصول کے بعد امتِ مسلمہ کی قیادت بھی ممکن ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل، معدنیات، قیمتی پتھروں اور گیس سمیت بے پناہ نعمتوں سے مالا مال ہے ، ریکوڈک جیسے منصوبوں کے ذریعے اورمختلف صورتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آ رہی ہے۔متحدہ عرب امارات کے صدر کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات فوجی گروپ میں کچھ حصص حاصل کرے گا، جس سے ایک ارب ڈالر کے واجبات طے ہونے کی توقع ہے، جبکہ دو ارب ڈالر کے قرض کی مدت میں بھی توسیع ممکن ہے۔ انہوں نے پاکستان کے مالی استحکام میں تعاون پر مملکتِ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین کا شکریہ ادا کیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جب تک مسئلۂ جموں و کشمیر حل نہیں ہوتا، خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ پاکستان نے بھارت کے غیرقانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے غیرقانونی اقدامات کے خلاف بھرپور احتجاج کیا اور اس مسئلے کو ایک بار پھر عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بات ہوئی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کی شمولیت سے استصوابِ رائے ہی اس مسئلے کا واحد حل ہے۔سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاملے کو او آئی سی، مستقل ثالثی عدالت اور اقوام متحدہ میں بھرپور انداز میں اٹھا رہا ہے اور رپورٹس پاکستان کے مؤقف کے حق میں ہیں،انہوں نے اس سال بنگلہ دیش کے ساتھ تعلقات میں نمایاں بہتری کو ’’اہم پیش رفت‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ان کے دورے کے دوران چیف ایگزیکٹو، وزیرِ خارجہ اور دیگر مشیروں سے تفصیلی ملاقاتیں ہوئیں جبکہ خالدہ ضیاء، جماعتِ اسلامی اور طلبہ تنظیموں سے بھی ملاقات کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ خیرسگالی کا ماحول بنا ہے اور فروری کے انتخابات کے بعد روابط مزید بڑھائے جائیں گے۔امریکہ سے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات کبھی عروج اور کبھی زوال کا شکار رہے، تاہم جو بائیڈن کے سابقہ دور میں روابط محدود تھے جبکہ حالیہ انتظامیہ میں تجارت، سرمایہ کاری اور دوطرفہ تعلقات مثبت سمت میں گامزن ہیں جبکہ انسدادِ دہشت گردی میں تعاون بھی مضبوط ہوا ہے۔نائب وزیراعظم/وزیرِ خارجہ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی میں امریکہ نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 جون کو امن کے قیام میں کردار پر صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا اور صدر ٹرمپ متعدد مواقع پر سات بھارتی طیاروں کو مار گرائے جانے کا حوالہ دیتے رہے ہیں۔انہوں نے امریکہ کے ساتھ 13.28 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان پر عائد امریکی ٹیرف جنوبی ایشیا میں کم ترین سطح پر ہے۔
انہوں نے ترکیہ، او آئی سی رکن ممالک، چین، یورپی یونین، آسیان، اقوام متحدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور روس سمیت مختلف ممالک اور فورمز پر پاکستان کی قیادت کی شرکت اور ملاقاتوں کا ذکر کیا، جہاں معاشی، دفاعی اور سرمایہ کاری کے متعدد معاہدے طے پائے۔انہوں نے غزہ میں امن اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے پاکستان کے اصولی مؤقف اور کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ان کے مطابق مکالمہ، روابط، علاقائی استحکام، معاشی تعاون اور امن کا فروغ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستون ہیں جو قومی مفادات سے ہم آہنگ ہیں۔
اسحاق ڈار نے برطانیہ میں پی ٹی آئی کے احتجاج کے بارے میں کہا کہ یہ سراسر اشتعال انگیزی تھی، جس میں قتل کی دھمکیاں دی گئیں، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی حکومت کو ایسی کارروائیوں کی روک تھام کیلئے ذمہ داری ادا کرنی چاہیے اور اس حوالے سے برطانیہ کو ڈیمارش دینا درست اقدام تھا۔انہوں نے افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کے حوالے سے طالبان حکومت کے غیر تسلی بخش ردعمل پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے جا رہے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ سارک کے فعال کردار میں رکاوٹ ڈالنے والا واحد ملک بھارت ہے، جو افسوسناک امر ہے۔








