کراچی ۔ 6 جولائی (اے پی پی) سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے ”کارکردگی پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے)“ کے کنوینئر سینٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے ایسی مربوط حکمت عملی تیار کریں جس سے طیاروں میں ہیروئن اسمگلنگ، دوران فلائیٹ عملے کے سونے اور کاک پٹ میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں، پی …
حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ پی آئی اے کو موثر انداز میں فنکشنل کیا جائے، وزیراعظم کے مشیر سردار مہتاب عباسی

مزید خبریں
کراچی ۔ 6 جولائی (اے پی پی) سینیٹ کی خصوصی کمیٹی برائے ”کارکردگی پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائن (پی آئی اے)“ کے کنوینئر سینٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے ایسی مربوط حکمت عملی تیار کریں جس سے طیاروں میں ہیروئن اسمگلنگ، دوران فلائیٹ عملے کے سونے اور کاک پٹ میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے جیسے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں، پی آئی اے پریمیئر سروس کی ناکامی سے سبق سیکھنا چاہئے، ایسے حالات میں بھی بھاری تنخواہوں پر ان افراد کو ملازمتیں دی گئی ہیں جو کچھ کام نہیں کر رہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پی آئی اے ہیڈ کوارٹر میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران پی آئی اے کی 4 فلائیٹس میں ہیروئن اور دیگر منشیات پکڑے جانے کے واقعات پیش آئے ہیں جس سے ملک کی بدنامی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق ایک واقعہ ہو جانے کے باوجود پی آئی اے کا عملہ اب بھی دوران پرواز سو جاتا ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک عمل ہے اس سے قیمتی جانوں کے ضیاع کا خدشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عملے کو اب لاپرواہیاں اور پرانی عادتیں ختم کرنا ہوں گی تاکہ پی آئی اے اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکے۔








