اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ خواتین میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، اس بیماری سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئے پی ٹی اے نے موبائل فون کے ذریعے خصوصی پیغام بھیجے ہیں، این جی اوز، سول سوسائٹی اور میڈیا بھی بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں …
خاتون اول بیگم ثمینہ علوی کا بریسٹ کینسر آگہی تقریب سے خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد۔12اکتوبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ علوی نے کہا ہے کہ خواتین میں چھاتی کے کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں، اس بیماری سے متعلق آگاہی پیدا کرنے کیلئے پی ٹی اے نے موبائل فون کے ذریعے خصوصی پیغام بھیجے ہیں، این جی اوز، سول سوسائٹی اور میڈیا بھی بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اس بیماری کی بروقت تشخیص سے ہی اس کی روک تھام یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو یہاں منعقدہ بریسٹ کینسر آگہی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ بیگم ثمینہ علوی نے کہا کہ بریسٹ کینسر خواتین میں سب سے زیادہ پایا جانے والا کینسر ہے، بروقت تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں ہر سال تقریباً چالیس ہزار افراد جاں بحق ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں بریسٹ کینسر کے بارے آگہی پیدا کرکے شرح اموات کو کم کیا جا سکتا ہے، ایسی تقاریب کا مقصد خواتین میں اس مرض کی علامات کے بارے میں شعور پیدا کرنا ہے، چھاتی کے کینسر کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا، اب اس مرض کے بارے میں کھل کر بات کی جانے لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اس مرض کے بارے میں آگہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، مجھے خوشی ہے کہ میڈیا پر آگہی کیلئے پیغامات چلائے جا رہے ہیں اور پنک ربن پہنے جا رہے ہیں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی مدد سے آگہی پیغام لوگوں تک پہنچائے گئے۔ بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا کہ سینے یا اس کے اطراف میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں ڈاکٹر سے رجوع کریں، بروقت تشخیص سے ہی چھاتی کے کینسر سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہماری سول سوسائٹی اس آگہی مہم میں ہمارے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چھاتی کے کینسر کی شکار خواتین کی مدد کیلئے کال سنٹر قائم کرنے کیلئے کوشاں ہیں کیونکہ خواتین اپنے اہلخانہ اور دوستوں کے ساتھ اس بیماری پر تبادلہ خیال سے گھبراتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین ملکی آبادی کا 50 فیصد حصہ ہیں، انہیں صحت کی سہولیات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ انہوں نے فلاحی تنظیموں اور این جی اوز پر زور دیا کہ وہ مستحق خواتین کو بالخصوص اس مرض کے علاج کیلئے تعاون فراہم کرنے کی سہولت دیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کی شکار خواتین کو خاندان کا تعاون ملنے سے تیزی سے صحت یابی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام اور ہیلتھ کارڈ کے ذریعے بھی چھاتی کے کینسر کی شکار خواتین کو علاج معالجہ کی سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ کینسر سے صحت یاب ہونے والے سابق سفیر اعزاز چوہدری نے کہا کہ اس مرض کا علاج بروقت تشخیص سے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہری علاقوں میں خواتین میں اس مرض سے متعلق شعور اجاگر ہوا ہے تاہم مردوں میں بھی اس حوالہ سے شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ تقریب کے دوران ڈاکٹر عائشہ اور ڈاکٹر عابدہ ستار نے بھی چھاتی کے کینسر کی بیماری کی تشخیص اور آگاہی سے متعلق اپنے تاثرات بیان کئے۔\








