اسلام آباد۔ 25 جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کے قانونی حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم پیش رفت میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خاتون کی واضح رضامندی کے بغیر طلاق کے دعوے کو خلع میں تبدیل کرنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیملی کورٹس کو ازخود ایسی تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں اور اس عمل سے عورت کے قانونی …
خاتون کی واضح رضامندی کے بغیر طلاق کے دعوے کو خلع میں تبدیل کرنا غیر قانونی ہے، سپریم کورٹ
اسلام آباد۔ 25 جنوری (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کے قانونی حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک اہم پیش رفت میں فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ خاتون کی واضح رضامندی کے بغیر طلاق کے دعوے کو خلع میں تبدیل کرنا غیر قانونی ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ فیملی کورٹس کو ازخود ایسی تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں اور اس عمل سے عورت کے قانونی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے تفصیلی فیصلہ کے مطابق نائلہ جاوید کیس میں فیملی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ خاتون کو 12 لاکھ روپے حق مہر ادا کیا جائے۔ جسٹس مسرت ہلالی نے پانچ صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا جس سے چیف جسٹس نے اتفاق کیا۔
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کے مطابق نائلہ جاوید نے شادی کے خاتمے کے لیے درخواست ظلم اور قانونی بنیادوں پر دائر کی تھی، تاہم فیملی کورٹ نے ظلم کے الزامات کا فیصلہ کرنے کے بجائے خلع کی بنیاد پر نکاح ختم کر دیا اور خاتون کو حق مہر کی رقم چھوڑنے کا حکم دیا، حالانکہ درخواست گزار نے خلع کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔عدالت نے قرار دیا کہ جب خاتون خلع کی خواہاں نہ ہو تو عدالت ازخود طلاق کے دعوے کو خلع میں تبدیل نہیں کر سکتی اور ایسی صورت میں حق مہر سے دستبرداری کا حکم دینا قانون سے متصادم ہے۔فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ شوہر نے دورانِ مقدمہ دوسری شادی کی، جو مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے سیکشن 6 کی خلاف ورزی ہے۔
عدالت کے مطابق شوہر نے اعتراف کیا کہ دوسری شادی کے لیے نہ بیوی کی اجازت لی گئی اور نہ ہی آربیٹریشن کونسل کی منظوری حاصل کی گئی۔سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ شوہر کی جانب سے بیوی کو نان نفقہ فراہم نہ کرنا اور جرح کے دوران خاتون کی کردار کشی کرنا بھی ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ عدالت کے مطابق ایسے حالات میں خاتون کا شوہر کے ساتھ رہنے سے انکار قانونی نافرمانی تصور نہیں کیا جا سکتا۔فیصلے میں کہا گیا کہ یہ تمام عوامل مجموعی طور پر قانونی طور پر ظلم (Cruelty) ثابت ہوتے ہیں اور ایسی صورت میں خاتون قانون کے تحت مکمل تحفظ کی حقدار ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف نائلہ جاوید کیس میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے بلکہ آئندہ کے لیے فیملی کورٹس کو بھی واضح رہنمائی فراہم کرتا ہے کہ وہ خاتون کی رضامندی کے بغیر طلاق کے دعوؤں کو خلع میں تبدیل نہ کریں۔








