خالی آسامی کے بغیر ترقی پانے والا ملازم سابقہ تاریخ سے سینیارٹی کا حق دار نہیں، سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کو صرف اس وقت ترقی اور سینیارٹی کا حق حاصل ہوگا جب اس کے مقررہ کوٹے میں خالی آسامی موجود ہوجبکہ قواعد کے برخلاف یا خالی آسامی کے بغیر دی گئی ترقی کی بنیاد پر سابقہ تاریخ سے سینیارٹی نہیں دی جا سکتی۔

اسلام آباد۔ 28 جون (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ سرکاری ملازم کو صرف اس وقت ترقی اور سینیارٹی کا حق حاصل ہوگا جب اس کے مقررہ کوٹے میں خالی آسامی موجود ہوجبکہ قواعد کے برخلاف یا خالی آسامی کے بغیر دی گئی ترقی کی بنیاد پر سابقہ تاریخ سے سینیارٹی نہیں دی جا سکتی۔

رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس محمد شفیع صدیقی پر مشتمل تین رکنی بینچ نے محکمہ ریونیو سندھ کے مختیارکاروں (بی ایس۔16) کی سینیارٹی سے متعلق مقدمے میں سندھ سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے دائر سول پٹیشنز مسترد کر دیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ’’ڈیفرمنٹ‘‘ اور ’’سپرسیشن‘‘ دو الگ قانونی تصورات ہیں۔ ڈیفرمنٹ کسی ملازم کی نااہلی نہیں بلکہ محض انتظامی وجوہات کی بنا پر ترقی میں عارضی تاخیر ہوتی ہے، جبکہ سپرسیشن اس وقت ہوتی ہے جب کسی افسر کو اہلیت یا دیگر قانونی وجوہات کی بنیاد پر ترقی کے لیے موزوں نہ سمجھا جائے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 50 فیصد براہِ راست بھرتی اور 50 فیصد ترقی کے مقررہ کوٹے پر سختی سے عمل درآمد ضروری ہے اور کسی بھی صورت کراس کوٹہ ترقی یا مقررہ آسامیوں سے زیادہ ترقی نہیں دی جا سکتی۔

عدالت نے مزید کہا کہ محکمہ ریونیو سندھ نے سپریم کورٹ کے 2021 کے فیصلے کی روشنی میں نئی سینیارٹی لسٹ مرتب کی، جس میں سندھ سول سرونٹس ایکٹ 1973 اور سندھ سول سرونٹس (پروبیشن، کنفرمیشن اینڈ سینیارٹی) رولز 1975 کے مطابق سینیارٹی کا تعین کیا گیا، لہٰذا سندھ سروس ٹربیونل کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی وجہ موجود نہیں۔