خطے اور دنیا کو درپیش موجودہ چیلنجز کے پیش نظر سارک جیسے علاقائی فورمز کو مزید متحرک ہونا ہوگا ، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ

ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے سارک کے فعال اور مؤثر کردار کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ وہ سارک کے صدر چندی راج دھکل کے اعزاز میں حبا فواد چوہدری کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے جس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سمیت معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

اسلام آباد۔23اپریل (اے پی پی):ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے سارک کے فعال اور مؤثر کردار کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ وہ سارک کے صدر چندی راج دھکل کے اعزاز میں حبا فواد چوہدری کی جانب سے دیئے گئے عشائیہ کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے جس میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان ناصر سمیت معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تقریب خوشگوار ماحول میں منعقد ہوئی، جہاں مہمانوں کے ساتھ باہمی دلچسپی کے امور پر بامعنی گفتگو کا تبادلہ خیال ہوا۔اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نےجنوبی ایشیائی علاقائی تعاون تنظیم سارک کے فعال اور مؤثر کردار کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ خطے اور دنیا کو درپیش موجودہ چیلنجز کے پیش نظر ایسے علاقائی فورمز کو مزید متحرک ہونا ہوگا تاکہ امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً امریکا اور ایران کے درمیان تناؤ، ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس ضمن میں سارک کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس وقت امن کی متلاشی ہے اور پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت عالمی سطح پر قیامِ امن کے لیے بھرپور کاوشیں کر رہی ہے۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں نہ صرف جنگ بندی ممکن ہوئی بلکہ امریکا اور ایران کو طویل عرصے بعد مذاکرات کی میز پر لانے میں بھی پیش رفت ہوئی ہے، اور امید ہے کہ یہ عمل خطے میں پائیدار امن کے قیام میں معاون ثابت ہوگا۔

انہوں نے سارک رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ان نازک حالات میں پاکستان کی کاوشوں کا ساتھ دیں اور علاقائی و عالمی امن کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ 2016 کے بعد سے تعطل کا شکار سارک عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے رکن ممالک، خصوصاً بھارت، پر زور دیا کہ وہ ہٹ دھرمی اور کشیدگی کی پالیسیوں سے گریز کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کریں۔ مہمانوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ باہمی روابط اور ایسے مواقع علاقائی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔