مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق صوبائی وزیر آبپاشی میاں یاور زمان نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا تاریخی اور بین الاقوامی معاہدہ ہے جس پر مکمل عملدرآمد خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
خطے میں امن و استحکام کےلئے سندھ طاس معاہدے پر عملدرآمد ضروری ہے، میاں یاور زمان

مزید خبریں
لاہور۔20جولائی (اے پی پی):مسلم لیگ (ن) کے رہنما و سابق صوبائی وزیر آبپاشی میاں یاور زمان نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ جنوبی ایشیا میں آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا تاریخی اور بین الاقوامی معاہدہ ہے جس پر مکمل عملدرآمد خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 19 ستمبر 1960 کو عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا جس پر اس وقت کے صدر مملکت فیلڈ مارشل محمد ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو تقریبا 80 فیصد اور بھارت کو 20 فیصد پانی استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔میاں یاور زمان نے کہا کہ پاکستان کی زرعی معیشت کا انحصار بڑی حد تک دریائے سندھ کے نظام پر ہے کیونکہ ملک کی وسیع زرعی اراضی انہی دریائوں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے، اسی لیے سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے لیے غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے اور اس کا تحفظ قومی مفاد کا تقاضا ہے۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت سرحدی دریائوں سے متعلق معاہدوں کی پاسداری لازمی ہے اور کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر ایسے معاہدوں کو معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کریں اور پانی جیسے بنیادی وسائل کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون اور اعتماد کی اہم علامت ہے جسے برقرار رکھنا وقت کی ضرورت ہے۔میاں یاور زمان نے کہا کہ پانی پاکستان کی زراعت، معیشت اور عوامی زندگی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے لہذا اس حوالے سے کسی بھی قسم کا دبا ئویا جارحانہ اقدام ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ڈیموں اور دیگر منصوبوں کے ذریعے پانی کے قدرتی بہا ئوکو متاثر کرنا سندھ طاس معاہدے کی روح کے منافی ہے اور اس سے خطے کے امن و استحکام کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے عالمی برادری اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے بھارت کو سندھ طاس معاہدے کی مکمل پابندی کا پابند بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سفارتی، قانونی اور بین الاقوامی فورم پر موثر انداز میں آواز بلند کرتا رہے گا۔ میاں یاور زمان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ قومی مفادات اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم رہی ہے اور آبی وسائل کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پوری پاکستانی قوم اپنے دریائوں اور آبی وسائل کے تحفظ کے لیے متحد ہے اور اپنے جائز حقوق کے دفاع کے لیے تمام سفارتی اور قانونی ذرائع بروئے کار لائے گی۔








