ڈھاکہ۔9فروری (اے پی پی):بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) اقبال کریم بھویان نے کہا ہے کہ خفیہ اداروں نے سیاست دانوں کو اٹھا کر خفیہ قید خانوں میں رکھا جہاں ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔اردو نیوز کے مطابق بنگلہ دیش فوج کے سابق سربراہ جنرل اقبال کریم بھویان نے یہ بیان انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل کے سامنےگزشتہ روز دیا۔انہوں نے کہا کہ 2007 اور 2009 کے …
خفیہ اداروں نے سیاستدانوں کو اٹھا کر تشدد کا نشانہ بنایا، سابق بنگلہ دیشی آرمی چیف کی گواہی

مزید خبریں
ڈھاکہ۔9فروری (اے پی پی):بنگلہ دیش کے سابق آرمی چیف جنرل (ر) اقبال کریم بھویان نے کہا ہے کہ خفیہ اداروں نے سیاست دانوں کو اٹھا کر خفیہ قید خانوں میں رکھا جہاں ان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔اردو نیوز کے مطابق بنگلہ دیش فوج کے سابق سربراہ جنرل اقبال کریم بھویان نے یہ بیان انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل کے سامنےگزشتہ روز دیا۔انہوں نے کہا کہ 2007 اور 2009 کے درمیان ڈائریکٹریٹ جنرل آف فورسز کی جانب سے اٹھائے گئے لوگوں میں سیاست دان اور وزرا بھی شامل تھے۔وہ ایک سابق فوجی افسر میجر جنرل (ر) ضیاالاحسن پر انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں بطور استغاثہ گواہ پیش ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اس عرصے کے دوران ایک مرکزی کنٹرولنگ اتھارٹی کے طور پر سامنے آیا تھا۔اس مقدمے میں ضیاالاحسن کے خلاف عوامی لیگ کی حکومت کے دوران جبری گمشدگیوں اور قتل کے 100 سے زائد واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات شامل ہیں۔سابق آرمی چیف نے ٹریبیونل کو بتایا کہ انہوں نے طارق رحمان کو بھی اٹھایا اور غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا۔مقدمے میں یہ گواہی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبیونل ون کے دو رکنی عدالتی پینل کے سامنے دی گئی۔پینل کی سربراہی جسٹس محمد غلام مرتضیٰ موزومدار کر رہے تھے جبکہ دوسرے رکن جسٹس شفیع العالم محمود تھے۔
جنرل ریٹائرڈ اقبال کریم نے کہا کہ عام شہریوں کو خفیہ سیلز میں رکھنا ایک معمول بن گیا اور وقت گزرنے کے ساتھ افسران کو یقین ہو گیا کہ وہ زیر حراست افراد کے ساتھ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔انہوں نے فوج کی جانب سے کیے گئےآپریشن کلین ہارٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران کئی افراد ہلاک ہوئے۔ان کے مطابق تفتیش کے دوران 12 افراد دل کے دورہ پڑنے سے جان سے گئےجبکہ انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے یہ تعداد 60 بتائی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بعدازاں ان واقعات میں ملوث افراد کو استثنیٰ دیا گیا جو کہ قتل کے لائسنس کے مترادف تھا۔اس سے قبل 14 جنوری کو ٹریبیونل نے ضیاالاحسن کے خلاف تین الزامات کے تحت ٹرائل شروع کرنے کا حکم دیا تھا اور بیانات اور گواہیاں ریکارڈ کرنے کے لیے تاریخیں مقرر کی تھیں۔جنرل ریٹائرڈ کریم اسی شیڈول کے تحت ہی بطور گواہ پیش ہوئے۔







