خلیجی ممالک کی پاکستانی غذائی مصنوعات میں بڑھتی دلچسپی برآمدات بڑھانے کا سنہری موقع ہے، شاہد عمران

فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران نے کہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خلیجی ممالک کے درآمد کنندگان نے قابلِ اعتماد سپلائی کے لیے پاکستانی فوڈ ایکسپورٹرز سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔

لاہور۔29مارچ (اے پی پی):فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی ریجنل کمیٹی برائے خوراک کے کنوینر شاہد عمران نے کہا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث خلیجی ممالک کے درآمد کنندگان نے قابلِ اعتماد سپلائی کے لیے پاکستانی فوڈ ایکسپورٹرز سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ انہوں نے اتوار کو یہاں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے فوڈ ایکسپورٹرز کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو چاول، گندم، گوشت، پھلوں اور پراسیسڈ فوڈ آئٹمز خصوصا اسنیکس کے لیے بڑی تعداد میں انکوائریز موصول ہو رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کے لیے اپنی برآمدات بڑھانے کا ایک بہترین موقع ہے، بشرطیکہ معیار، پیکیجنگ اور لاجسٹکس کو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق بنایا جائے۔

شاہد عمران نے کہا کہ حکومت پہلے ہی مقامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے زائد غذائی اشیا کی خلیجی ممالک کو برآمد کی اجازت دے چکی ہے۔ انہوں نے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ تسلسل، معیار اور ویلیو ایڈیشن کو یقینی بنا کر پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد فوڈ سپلائر کے طور پر مستحکم کریں۔ وفد کے سربراہ محمد احمد حنیف نے کہا کہ خلیجی خطہ اپنی80 سے90 فیصد غذائی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کرتا ہے، تاہم آبنائے ہرمز جیسے اہم بحری راستوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث وہاں غذائی تحفظ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اس تناظر میں پاکستان اپنی مضبوط زرعی بنیاد اور جغرافیائی قربت کی وجہ سے ایک موثر اور مسابقتی سپلائر کے طور پر ابھر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے باعث روایتی سپلائی چینز شدید متاثر ہوئی ہیں، جبکہ بحری راستوں میں رکاوٹیں، فریٹ اور انشورنس اخراجات میں اضافہ خلیجی ممالک کو اپنی درآمدی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔