اسلام آباد ۔ 21 مئی (اے پی پی) خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ گھر کی کسٹوڈین ہونے کے ناطے کووڈ۔19 کی اپنے خاندان میں روک تھام یقینی بنانے کیلئے احتیاطی تدابیرپر عملدرآمد کے ضمن میں ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔ جمعرات کو خصوصی خواتین میں راشن بیگ کی تقسیم کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنی حفاظت کے …
خواتین اپنے خاندان میں کووڈ۔ 19کی روک تھام یقینی بنانے کیلئے احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد میں ذمہ دارانہ کردار ادا کریں خاتون اول ثمینہ عارف علوی کا خصوصی خواتین میں راشن بیگ کی تقسیم کے موقع پر خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 21 مئی (اے پی پی) خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے خواتین پر زور دیا ہے کہ وہ گھر کی کسٹوڈین ہونے کے ناطے کووڈ۔19 کی اپنے خاندان میں روک تھام یقینی بنانے کیلئے احتیاطی تدابیرپر عملدرآمد کے ضمن میں ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔ جمعرات کو خصوصی خواتین میں راشن بیگ کی تقسیم کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپنی حفاظت کے ساتھ ساتھ دوسروں کو اس وائرس سے بچائو کیلئے سخت احتیاط کی ضرورت ہے۔ تقریب میں پاکستان بیت المال کے ایم ڈی عون عباس بپی، عالمی ادارہ صحت کی ڈاکٹر مریم نے بھی شرکت کی۔خاتون اول نے کورونا وائرس کی وجہ سے اقتصادی اثرات کا شکار افراد کی مسلسل خدمت پر پاکستان بیت المال کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس وبا نے کب ختم ہونا ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا، عوام کو اس صورتحال میں ہی رہنا پڑے گا تاہم انہیں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی تاکہ وہ اپنے اپ کو اور اپنے قریبی لوگوں کو اس سے بچا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی خواتین بھی کورونا وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہیں تاہم حکومت ان کی بھرپور معاونت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی افراد کے ڈیٹا مرتب ہونے کے بعد ایسی خواتین کو ان کی دہلیز پر راشن پہنچایا جائے گا تاکہ ان دور دراز سے یہ راشن لینے میں پیش آنے والی مشکلات سے بچا جا سکے۔ عون عباس بپی نے کہا کہ ہماری آبادی کا 20 فیصد ضعیف العمری یا جسمانی معذوری کا شکار ہیں اور جب کسی خاندان کو معاشی مشکلات کا سامنا ہو تو اس میں سب سے زیادہ ایسے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے افراد پر خصوصی توجہ دیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کورونا وائرس نے بڑی تعداد میں لوگوں کو متاثر کیا ہے لیکن کئی لوگ ایسے ہیں جو ہمیشہ اپنے خاندان پر انحصار کرتے ہیں اور انہیں معاشرے کی جانب سے خصوصی توجہ کی ضرورت ہے۔








