بریسٹ کینسر ایک سنجیدہ مسئلہ ہے ،اس کی بروقت تشخیص کی ضرورت ہے، خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی کا چھاتی کے کینسر سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب

کوئٹہ۔23اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا ہے کہ بریسٹ کینسر ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اس کی بروقت تشخیص کی ضرورت ہے۔ خواتین کو اگر سینے یا اس کے اطراف میں کوئی تبدیلی محسوس ہو تو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور ہسپتال سے فوری طور پر ٹیسٹ کرائیں۔ یہ بات خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نےگورنر ہاؤس میں چھاتی کے کینسر سے متعلق …

کوئٹہ۔23اکتوبر (اے پی پی):خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا ہے کہ بریسٹ کینسر ایک سنجیدہ مسئلہ ہے اس کی بروقت تشخیص کی ضرورت ہے۔ خواتین کو اگر سینے یا اس کے اطراف میں کوئی تبدیلی محسوس ہو تو انہیں نظر انداز نہیں کرنا چاہئے اور ہسپتال سے فوری طور پر ٹیسٹ کرائیں۔ یہ بات خاتون اول بیگم ثمینہ عارف علوی نےگورنر ہاؤس میں چھاتی کے کینسر سے متعلق منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے کم آمدن والے ممالک میں اس مرض کی تشخیص اور علاج کے مراکز کی بہت کمی ہے۔ بڑے شہروں کے علاوہ اس بیماری کے حوالے سے ملک میں سہولیات دستیاب نہیں۔ بدقسمتی سے ہمیں صحت کے حوالے سے شعور و آگہی کی کمی کے ساتھ ساتھ صحت کے مراکز تک رسائی و علاج کے بھاری اخراجات جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ جس سے بریسٹ کینسر کے قرب سے گزرنے والی خواتین کی تکلیف میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا خاندان کی دیکھ بھال اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ہے۔ بدقسمتی سے اگر کوئی خاتون کینسر جیسے مرض میں مبتلا ہوجائے تو اس کاسارا خاندان متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کا علاج کافی مہنگا ہے جسے ہر خاندان برداشت نہیں کرسکتا یوں وہ خاندان مالی مشکلات اور ذہنی پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ دور دراز علاقوں میں محدود معاشی وسائل کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں موجودہ حکومت سے مطالبہ کررہی ہوں کہ وہ اس مرض کی تشخیص اور علاج کی سہولیات کم از کم ڈویژنل اور ضلعی سطح پر موجود ہسپتالوں میں مہیا کریں تاکہ خواتین کو گھر کے قریب ہی سب سہولتیں میسر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے تمام بڑے ہسپتالوں میں اس مرض کے مفت یا کم از کم سستے علاج کے لئے اقدامات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ جان لیوا بیماریوں کے بارے میں شعور اس لئے پیدا کرنا چاہئے کہ پاکستان میں جان لیوا امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ پہلے عام تاثر یہ تھا کہ کینسر جیسے مرض کا شکار پچاس برس سے زائد کے خواتین ہوتی ہے لیکن اب یہ مرض کم عمر خواتین میں بھی پیدا ہورہی ہے اور عورتوں کے ساتھ ساتھ مردوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ خاتون اول نے کہا کہ کینسر جیسی بیماری کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کی کوششیں پچھلے کئی ادوار سے کی جارہی ہیں یہ قوم کا جذبہ اور لگن ہے کہ پچھلے سالوں کی نسبت ہم اس سال بہت کامیابی کے ساتھ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں جہاں میڈیا کی پہنچ بھی خاص نہیں ہے وہاں کی خواتین ہمارے ٹیلی فون ٹون کا پیغام سن کر باشعور ہوگئی ہیں کہ یہ کوئی شرم کی بات نہیں کہ ہم اس مرض کے بارے میں ڈاکٹر یا متعلقہ اداروں سے رجوع کریں اور اس کی تشخیص کی ضرورت کو سمجھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں میڈیا مالکان، مارننگ شوز اینکر، سوشل میڈیاایکٹیوسٹ کو اس بات پر مدعو کیا کہ وہ اس مرض سے متعلق آگاہی میں ہمارا ساتھ دیں۔ اس سلسلے میں مختلف ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا کے ذریعے آپ نے دیکھا ہوگا کہ باقاعدگی کے ساتھ پنک ربن پہنا جارہا ہے اور ساتھ ساتھ پبلک سروس میسج بھی چلائے جارہے ہیں اور پرنٹ میڈیا میں اس مرض سے متعلق مختلف خبریں، آرٹیکلز، فیچرز وغیرہ شائع کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کینسر جیسے خطرناک مرض کی روک تھام کے لئے ڈاکٹرز، نرسز، طلباء، سول سوسائٹی، ہسپتال اور ملٹری اداروں نے اس مہم میں بھرپور حصہ لیا اور عوام کو اس مرض سے متعلق آگاہی دی اور اس کے ساتھ گرین سٹارز کی ٹیم نے بھی اس مہم میں ہمارا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان ساری کاوشوں کا مقصد یہ ہے کہ خواتین خود معائنہ کریں اور دوسری خواتین کو بھی بتا دیں کہ بریسٹ کینسر لا علاج نہیں اگر اس کی بروقت تشخیص ہوجائے تو اس مرض کی پھیلنے کی شرح بہت کم رہ جاتی ہے۔ خاتون اول نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ ایسے تقاریب کا انعقاد خواتین میں بریسٹ کینسر سے بچاؤ اور اس کی علاج بارے شعور پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس تقریب کے آرگنائزر جس میں گورنر ہاؤس کی انتظامیہ اور گرین اسٹار کی ٹیم شامل ہے کو مبارکباد دیتی ہوں کہ انہوں نے مسئلے کی سنگینی کی طرف توجہ دلانے کے لئے بہت اہم تقریب کا اہمتام کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر بلوچستان اسمبلی سردار بابر موسیٰ خیل، صوبائی وزراء، اراکین اسمبلی اور ڈاکٹرز سمیت مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔