اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آج ہم دنیا بھر کی کروڑوں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں جو اب بھی طرح طرح کے تشدد کا سامنا کر رہی ہیں، عورت پر تشدد نہ صرف انفرادی سطح پر غلط ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی وقار کے منافی عمل اور معاشروں کی ترقی …
خواتین پر تشدد انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ، انسانی وقار کے منافی عمل اور معاشروں کی ترقی میں بڑی رکاوٹ ہے، صدر مملکت آصف علی زرداری کا خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آج ہم دنیا بھر کی کروڑوں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں جو اب بھی طرح طرح کے تشدد کا سامنا کر رہی ہیں، عورت پر تشدد نہ صرف انفرادی سطح پر غلط ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی وقار کے منافی عمل اور معاشروں کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے، حکومت پاکستان نے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں تحفظ خواتین برائے ہراسگی بمقام کار (ترمیمی) ایکٹ 2022، انسداد تجاوز بالجبر (تفتیش و ٹرائل) ایکٹ 2021، نفاذ حقوق ملکیت نسواں ایکٹ 2020 شامل ہیں۔
ایوان صدر کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار صدر مملکت آصف علی زرداری نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ صدر مملکت نے کہا کہ آج ہم دنیا بھر کی کروڑوں خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں جو اب بھی طرح طرح کے تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عورت پر تشدد نہ صرف انفرادی سطح پر غلط ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی وقار کے منافی عمل اور معاشروں کی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ بھی ہے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، ہنر اور معاشی خود مختاری کے ذریعے بااختیار بنانا تشدد کو ختم کرنے کی بنیادی شرط ہے، مضبوط قانونی ڈھانچے، ادارہ جاتی سہارے، آگاہی کا فروغ اور ثقافتی رویوں میں مثبت تبدیلی بھی اس سلسلے میں اتنی ہی اہم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال کا موضوع "خواتین اور لڑکیوں کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے اتحاد” ہمیں پیشگی حکمت عملیوں، متاثرہ خواتین کی معاونت اور نظام میں اصلاحات پر سرمایہ کاری بڑھانے کی ترغیب دیتا ہے۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ یہ موضوع ڈیجیٹل دنیا میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے فوری سدباب کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، یہ مہم حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ہر فرد کو اس مسئلے کے خاتمے کے لیے متحرک ہونے کا پیغام دیتی ہے، ایسے معاشرے کے حصول کے لیے جہاں خواتین بلا خوف و خطر زندگی گزار سکیں، حکومت پاکستان نے متعدد اقدامات کیے ہیں جن میں تحفظ خواتین برائے ہراسگی بمقام کار (ترمیمی) ایکٹ 2022، انسداد تجاوز بالجبر (تفتیش و ٹرائل) ایکٹ 2021، نفاذ حقوق ملکیت نسواں ایکٹ 2020 شامل ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ ان کوششوں کو انسداد انسانی سمگلنگ ایکٹ 2018 سے بھی تقویت ملی ہے جس میں خواتین کے استحصال اور جبری نقل و حرکت کے خلاف دفعات موجود ہیں، علاوہ ازیں نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن (این سی ایس ڈبلیو)، فیملی پروٹیکشن سینٹر اور ٹول فری ہیلپ لائن 1099 جیسے معاون ادارے قائم کیے گئے ہیں۔ صدر مملکت نے کہا کہ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے قانون سازی بھی نہایت اہم ہے، اس ضمن میں سندھ 18 سال کی حد مقرر کر کے سرفہرست ہے جبکہ اسلام آباد اور پنجاب بھی یہ قانون بنا چکے ہیں، توقع ہے کہ دیگر دو صوبے بھی جلد اس پر عمل کریں گے۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے کہا کہ اس موقع پر میں تمام سرکاری اداروں، سول سوسائٹی اور برادریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے اپنی مشترکہ کوششوں کو مزید تیز کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ قوانین نہ صرف منظور ہوں بلکہ پوری طرح نافذ بھی کئے جائیں، میں تمام ذمہ دار شہریوں کو بھی دعوت دیتا ہوں کہ وہ ہر طرح کے امتیاز، محرومی اور خاموشی کو چیلنج کریں، کیونکہ تبدیلی کا آغاز ہمارے گھروں اور ہمارے کام کی جگہوں سے ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئیے ہم عہد کریں کہ ایک ایسا مستقبل تعمیر کریں گے جہاں ہر عورت اور ہر لڑکی خوف اور تشدد سے آزاد زندگی گزار سکے اور اپنی پوری صلاحیتیں بروئے کار لا سکے، میں ان تمام متاثرین، کارکنوں، معاونت فراہم کرنے والے اداروں اور افراد کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو خواتین کی عزت، تحفظ اور سلامتی کے لیے کوشاں ہیں۔
صدر مملکت نے کہا کہ آئیے اس دن اپنے قومی عزم کی تجدید کریں، اپنی مشترکہ ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی طرف بڑھیں جہاں خواتین کے حقوق محفوظ ہوں اور صنفی بنیاد پر تشدد کسی بھی جگہ یا کسی بھی شخص کے ہاتھوں برداشت نہ کیا جائے، دعا ہے کہ ہمارا آج کیا گیا عہد آنے والے کل میں ایک بہتر مستقبل کی صورت میں ظاہر ہو۔








