اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے خواتین پر تشدد اور انہیں ہراساں کیے جانے کے واقعات کےمکمل انسداد کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں با اختیار بنانے کیلئے پیکج سمیت متعدد اہم اقدامات کر رہی ہے، خواتین پر تشدد کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا۔ پیر کو وزیر …
خواتین پر تشدد کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا، پاکستان تمام دنیا کے ساتھ اس اہم مقصد کو اجاگر کرنے کے لیے آواز بلند کر رہا ہے، وزیراعظم شہباز شریف کا خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر پیغام

مزید خبریں
اسلام آباد۔24نومبر (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے خواتین پر تشدد اور انہیں ہراساں کیے جانے کے واقعات کےمکمل انسداد کیلئے کثیر الجہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں با اختیار بنانے کیلئے پیکج سمیت متعدد اہم اقدامات کر رہی ہے، خواتین پر تشدد کے خلاف سب کو متحد ہونا ہوگا۔
پیر کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان تمام دنیا کے ساتھ اس اہم مقصد کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی آواز کو بلند کر رہا ہے، اس سال یہ دن "خواتین کے خلاف ڈیجیٹل تشدد کے خاتمے کے لیے متحد” ہونے کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ عنوان جدید دور میں خواتین کو مختلف سطحوں اور پلیٹ فارمز پر تشدد اور ہراساں کیے جانے کی طرف توجہ دلاتا ہے اور یہ دن ہمیں اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم سوچیں اور اس عہد کی تجدید کرتے ہوئے متحد ہو کر اس کے خلاف جدوجہد کریں۔ وزیر اعظم نے خواتین پر تشدد اور ہراساں کیے جانے کے واقعات کےمکمل انسداد کے لیے کثیرالجہتی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جامع حکمت عملی میں نہ صرف اس طرح کے واقعات کے سدباب کے اقدامات شامل ہونے چاہئیں بلکہ متاثرہ خواتین سے ہمدردی اور معاشرے کے استحصالی نظام کی اصلاح بھی اس میں شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد نہ صرف انسانیت اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ معاشرے کے امن و سکون اور ترقی و خوشحالی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے، آئین پاکستان بڑے واضح الفاظ میں خواتین کی عزت و تکریم کی ضمانت دیتا ہے اور انہیں برابری کے حقوق فراہم کرتا ہے تاہم پھر بھی ہمارے معاشرے میں خواتین کو بہت سے حالات میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان عالمی سطح پر خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی معاہدہ کو تسلیم کرتی ہے اورحکومتی سطح پر خواتین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پالیسی، قانون سازی، انتظامی، ادارہ جاتی اور دیگر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، ان اقدامات میں وزیراعظم کا خواتین کو بااختیار بنانے کا وزیراعظم کا پیکج بھی شامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان تشدد سے متاثرہ خواتین کے لیے ادارہ جاتی امداد کو یقینی بنانے کی بھی بھرپور کوشش کر رہی ہے، اسی تناظر میں آزادانہ کمیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں قومی انسانی حقوق کمیشن، بچوں کے لیے قومی کمیشن اور خواتین کے لیےقومی کمیشن شامل ہے، اس کے علاوہ خواتین کا تحفظ سینٹر، خواتین پولیس سینٹر، ہیلپ لائنز اور تشدد سے متاثرہ خواتین کی مالی اور قانونی امداد کے لیے بھی کام کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان خواتین کے قانونی تحفظ، ان کی انصاف تک رسائی کے لیے بھی کوشاں ہے، حکومت پاکستان تمام متعلقہ اداروں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کے ساتھ بھی تعاون جاری رکھے گی تاکہ خواتین کے تحفظ، خود مختاری اور ان کی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکے تاہم محض کوئی قانون یا حکومتی پالیسی خواتین پر تشدد کے مکمل خاتمے کو یقینی نہیں بنا سکتی جب تک معاشرے میں خواتین کے تحفظ کو مجموعی ترجیح نہ بنایا جائے اور معاشرے میں اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری ثقافت و تہذیب میں بھی خواتین کے لیے برابری، عزت و تکریم اور ہر گھر میں اس کو یقینی بنانے کی تعلیم شامل ہے۔انہوں نے تمام شہریوں، نوجوانوں، تمام سماجی و مذہبی رہنمائوں اور اساتذہ پر زور دیا کہ خواتین پر تشدد کے خلاف اور اس کے خاتمے کے لیے سب متحد ہو جائیں، آئیے سب مل کر پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو مضبوط اور یقینی بنانے کے لیے اپنے عزم پختہ کا اعادہ کریں کہ پاکستان میں موجود ہر خاتون کسی بھی قسم کے خوف تشدد، استحصالی اور امتیازی سلوک سے آزاد ہو کر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکے۔
انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ حکومتی ادارے، معاشرہ، سرکاری اور غیر سرکاری آرگنائزیشنز اور عالمی تعاون مل کر ہی محفوظ، انصاف پسند اورخواتین کے لیے برابری پر مشتمل ماحول کو پاکستان میں یقینی بنا سکتے ہیں۔








