چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ میں جاری اصلاحات کا مقصد شہری مرکز، جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ، شفاف اور موثر نظام انصاف کی تشکیل ہے جبکہ خواتین اور دیگر کمزور طبقات کو انصاف تک آسان رسائی فراہم کرنا عدالتی اصلاحات کی بنیادی ترجیح ہے۔
خواتین کو انصاف تک آسان رسائی عدالتی اصلاحات کی اولین ترجیح ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔21جولائی (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ میں جاری اصلاحات کا مقصد شہری مرکز، جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ، شفاف اور موثر نظام انصاف کی تشکیل ہے جبکہ خواتین اور دیگر کمزور طبقات کو انصاف تک آسان رسائی فراہم کرنا عدالتی اصلاحات کی بنیادی ترجیح ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات انہوں نے سپریم کورٹ میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین (یو این ویمن) کے چیف آف سٹاف محمد ناصری کی قیادت میں وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔
وفد میں پاکستان میں یو این ویمن کے کنٹری نمائندے جمشید ایم کاظی اور ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ اقبال خان بھی شامل تھیں۔چیف جسٹس نے وفد کو عدلیہ میں جاری اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ جینڈر ریسپانسیو جسٹس انیشی ایٹو (جی آر جے آئی) 2026-27 کے تحت خواتین مقدمہ بازوں اور عدالتوں سے رجوع کرنے والی خواتین کو ایک ہی جگہ مربوط سہولیات فراہم کرنے کے لیے ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتی نظام کو مزید قابل رسائی، موثر، شفاف اور عوام دوست بنانے کے لیے ادارہ جاتی جدیدکاری اور ٹیکنالوجی پر مبنی خدمات متعارف کرائی جا رہی ہیں۔
چیف جسٹس نے موثر نظام انصاف کے لیے مقدمات کے انتظام میں مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) کے استعمال کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ اس موقع پر محمد ناصری نے صنفی حساس مصنوعی ذہانت پر مبنی کیس مینجمنٹ نظام کی تیاری کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔محمد ناصری نے خواتین کے لیے انصاف تک رسائی بہتر بنانے کے سلسلے میں سپریم کورٹ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز کا قیام ایک اہم ادارہ جاتی اقدام ہے، کیونکہ عملی اور ادارہ جاتی رکاوٹیں اکثر خواتین کو قانونی چارہ جوئی سے روکتی ہیں۔
ایک ہی جگہ تمام ضروری معاون خدمات کی فراہمی خواتین کو اپنے قانونی حقوق کے موثر استعمال میں مدد دے گی۔انہوں نے پاکستان کے نظام انصاف میں صنفی حساس اصلاحات، ادارہ جاتی استعداد کار میں اضافے اور خواتین کی انصاف تک رسائی کے فروغ کے لیے یو این ویمن کے مسلسل تعاون کا اعادہ کیا۔ملاقات کے اختتام پر چیف جسٹس پاکستان نے محمد ناصری کو یادگاری شیلڈ پیش کی۔ دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ باہمی تعاون کے ذریعے جامع، قابل رسائی اور عوام دوست نظام انصاف، خواتین کے بااختیار بنانے اور قانون کی حکمرانی کے فروغ کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔







