خواتین کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ کا ٹی وی چینل کو انٹرویو

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا ہے کہ خواتین کی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،خواتین معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کو خود کو اس طرح تیار کرنا چاہئے کہ خود مختار بن کر ملک اور قوم …

اسلام آباد۔7دسمبر (اے پی پی):صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی اہلیہ بیگم ثمینہ عارف علوی نے کہا ہے کہ خواتین کی ترقی موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،خواتین معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔پیر کو ایک نجی ٹی وی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خواتین کو خود کو اس طرح تیار کرنا چاہئے کہ خود مختار بن کر ملک اور قوم کی خدمت کریں جس سے نسل نو کے لئے مثال قائم ہو۔انہوں نے کہا کہ خواتین کو با اختیار بنانا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے تاکہ وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں اور اسے روشن مستقبل کے لئے بروئے کار لائیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے خواتین اور بچوں کو ہر قسم کے تشدد سے بچانے کے لئے ضروری قانون سازی کی ہے،انہیں بلا تاخیر انصاف ملنا چاہئے۔انہوں نے کہاکہ ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لئے آ گاہی اور احتساب ضروری ہے۔اس حوالے سے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ جنسی ہراسانی کے خلاف عدم برداشت کا مظاہرہ کریں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت اس حوالے سے کام کر رہی ہے اور ریپ کے مجرموں کو سخت سزا دینے کیلئے آرڈیننس جاری کر ے گی۔ثمینہ علوی نے کہا کہ تعلیم میں بہتری اجتماعی ذمہ داری ہےجس میں اساتذہ،والدین ،طالبعلم اور سکول انتظامیہ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے ہائیر ایجوکیشن اور بنیادی تعلیم کے یکساں مساوی مواقع فراہم کرنے پر زور دیا اور کہا کہ اساتذہ اور طلبہ کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں مزید کوالیفائیڈ اساتذہ کی ضرورت ہے۔خصوصی بچوں کو دیگر بچوں کے ساتھ پروفیشنل اساتذہ کو پڑھانا چاہئے۔خواتین میں بریسٹ کینسر سے متعلق آ گاہی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک کی نصف سے زائد آ بادی خواتین پر مشتمل ہے۔ارکان پارلیمنٹ قومی اور حلقہ کی سطح پر بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ہمیں مل کر کام کرنا چاہئے تاکہ خواتین اس کے خطرات اور بروقت علاج سے آگاہ ہو سکیں۔