خواتین کی معاشی خودمختاری کے لیے حکومت بلوچستان کا انقلابی پروگرام، 600 خواتین کی تربیت مکمل

خواتین کی معاشی خودمختاری اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی جانب حکومت بلوچستان نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت صوبے بھر کی 600 خواتین کی تربیت مکمل کرلی ہے، جبکہ تربیت حاصل کرنے والی 100 خواتین نے عملی طور پر اپنے کاروبار شروع کردیئے ہیں محکمہ ترقی نسواں بلوچستان کے زیر اہتمام ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت کاروباری سرگرمیوں …

کوئٹہ۔ 05 ستمبر (اے پی پی):خواتین کی معاشی خودمختاری اور انہیں باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی جانب حکومت بلوچستان نے ایک اور اہم قدم اٹھاتے ہوئے ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت صوبے بھر کی 600 خواتین کی تربیت مکمل کرلی ہے، جبکہ تربیت حاصل کرنے والی 100 خواتین نے عملی طور پر اپنے کاروبار شروع کردیئے ہیں محکمہ ترقی نسواں بلوچستان کے زیر اہتمام ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کرنے والی خواتین میں معاونتی چیکس بھی تقسیم کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے 100 خواتین کو کاروبار شروع کرنے کے لیے فی کس 2 لاکھ روپے کے چیکس دیے، جس کے تحت خواتین کو مجموعی طور پر 2 کروڑ روپے کی مالی معاونت فراہم کی گئی اس موقع پر ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام بلوچستان میں خواتین کی معاشی خودمختاری کے نئے دور کا آغاز ہے اور یہ پروگرام وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کی جانب اہم پیش رفت ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ کے پہلے جامع ویمن انٹرپینورشپ پروگرام سے 600 خواتین مستفید ہوئی ہیں، جبکہ عملی کاروباری دنیا میں قدم رکھنے والی 100 خواتین کو مالی معاونت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ اپنے کاروبار شروع کرکے اپنے خاندانوں کے معاشی استحکام میں کردار ادا کرسکیں۔

مشیر ترقی نسواں نے کہا کہ حکومت بلوچستان خواتین کو صرف ہنر مند بنانے تک محدود نہیں بلکہ انہیں ہنر کو کاروبار میں تبدیل کرنے کے لیے ضروری وسائل اور مواقع بھی فراہم کررہی ہے۔ خواتین کی معاشی خودمختاری سے نہ صرف گھرانے مضبوط ہوں گے بلکہ صوبے کی مقامی معیشت کو بھی فروغ ملے گا ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ بلوچستان کی باصلاحیت خواتین کا مقدر غربت نہیں بلکہ معاشی استحکام، خودمختاری اور ترقی ہے۔ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا دراصل خاندانوں اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل میں سرمایہ کاری ہے

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان خواتین کے لیے تربیت، مالی معاونت اور کاروباری مواقع کے مربوط نظام کو مزید مستحکم کرے گی اور معاشی خودمختاری کے پروگرامز کو وسعت دے کر زیادہ سے زیادہ خواتین کو کاروباری میدان میں آگے آنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے انہوں نے کہا کہ ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام خواتین کو روزگار تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار فراہم کرنے والی بااختیار کاروباری شخصیات میں تبدیل کرنے کی عملی کوشش ہے، جس کے مثبت اثرات صوبے کے مختلف گھرانوں اور معاشی سرگرمیوں پر مرتب ہوں گے۔