چین نے کہا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کی سخت مخالفت کرتا ہے اورخواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے ایک نسبتاً مکمل قانونی اور نگرانی کا نظام قائم کر چکا ہے۔
خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کی مخالفت کرتے ہیں، چین
جنیوا۔29جون (اے پی پی):چین نے کہا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کی سخت مخالفت کرتا ہے اورخواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے ایک نسبتاً مکمل قانونی اور نگرانی کا نظام قائم کر چکا ہے۔ سی جی ٹی این کے مطابق یہ بات چینی وفد کی نائب سربراہ لی شیاؤ میئی نےسوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 62 ویں اجلاس میں خواتین کے حقوق کے موضوع پر منعقدہ سیمینار میں کہی۔ انہوں نے چین کا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ چین خواتین کے خلاف کسی بھی قسم کے تشدد کا سخت مخالف ہے اورخواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے ایک نسبتاً مکمل قانونی اور نگرانی کا نظام قائم کر چکا ہے ۔
چین نے حال ہی میں ’’قومی انسانی حقوق ایکشن پلان (2026-2030)‘‘جاری کیا، جس میں خواتین اور بچیوں کے تحفظ کے نظام کو مسلسل بہتر بنایا گیا ہے تاکہ عالمی خواتین و اطفال کی فلاح و بہبود کے شعبے میں مزید استحکام اور مثبت توانائی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے انسانی حقوق کے حوالے سے جاپان کے ماضی کے اقدامات کا پردہ فاش کیا اور نشاندہی کی کہ رواں سال ٹوکیو ٹرائل کا 80 واں سال ہے اور خواتین کو جبری طور پر غلام بنانا جاپانی سامراج کا خواتین کے خلاف سنگین انسانی جرم تھا۔ انہوں نے کہا کہ چین جاپان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی جارحانہ تاریخ پر غور کرے اور دیانتدارانہ رویے کے ساتھ تاریخی طور پر باقی رہ جانے والے مسائل کو مناسب طریقے سے حل کرے۔









