خیبرپختونخوا اسمبلی: بجٹ بحث میں امن و امان، ترقیاتی فنڈز، تعلیم اور صحت کے مسائل چھائے رہے، حکومتی و اپوزیشن ارکان کی جانب سے اہم تجاویز پیش
خیبرپختونخوا اسمبلی: بجٹ بحث میں امن و امان، ترقیاتی فنڈز، تعلیم اور صحت کے مسائل چھائے رہے، حکومتی و اپوزیشن ارکان کی جانب سے اہم تجاویز پیش

مزید خبریں
پشاور۔ 23 جون (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کے بجٹ پر جاری عمومی بحث کے دوران صوبے میں امن و امان کی صورتحال، ترقیاتی منصوبوں کی سست روی، تعلیم و صحت کے شعبوں میں درپیش چیلنجز، ضم اضلاع کے مسائل اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے اہم معاملات ایوان میں زیر بحث رہے۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اپنے اپنے حلقوں کے مسائل اجاگر کرتے ہوئے بجٹ میں متعدد خامیوں کی نشاندہی کی اور حکومت سے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔منگل کو سپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں تلاوت کلام پاک اور قومی ترانے کے بعد بجٹ پر بحث کا سلسلہ جاری رہا۔
حکومتی رکن نیک محمد خان نے شمالی وزیرستان کی سکیورٹی صورتحال کو بجٹ سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ضلع میں کئی علاقوں میں کشیدگی برقرار ہے اور بعض مقامات پر کرفیو نافذ ہے۔ انہوں نے کہا کہ درپہ خیل کے چیف کو شہید کیا گیا جبکہ پی کے 103 کی دو تحصیلوں میں جاری آپریشن کے باعث مارکیٹیں، دکانیں اور کاروباری مراکز متاثر ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میرعلی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بدستور جاری ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ باڑہ میں آپریشن کے بعد وزیراعلیٰ نے چار ارب روپے کا خصوصی پیکیج دیا تھا، اس لیے شمالی وزیرستان کے متاثرین کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر اسی نوعیت کا پیکیج دیا جائے۔
اکرام اللہ قاضی نے خوشحال ہزارہ پروگرام کے تحت 200 ارب روپے کے خصوصی پیکیج کو تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس خطیر رقم کی فراہمی سے ہزارہ ڈویژن میں ترقی کا نیا دور شروع ہوگا۔ تاہم انہوں نے مطالبہ کیا کہ مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص رقوم میں مزید اضافہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ صحت، تعلیم اور امن و امان کے شعبوں کے لیے بجٹ کا 56 فیصد مختص کیا جانا اس امر کا ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت ان شعبوں کو ترجیح دے رہی ہے۔
انہوں نے نیابت کے علاقے کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے، ختم کی گئی میڈیکل نشستیں بحال کرنے اور اوگی گرینائیٹ سے حاصل ہونے والی آمدنی میں مقامی آبادی کو حصہ دینے کا مطالبہ بھی کیا۔حکومتی رکن عبیدالرحمن نے ترقیاتی پروگرام میں شامل سکیموں کی تعداد اور ان کے لیے مختص فنڈز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک جانب 1200 نئی سکیمیں شامل کی گئی ہیں جبکہ دوسری جانب پرانے منصوبے تاحال فنڈز کے منتظر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حلقہ نیابت کی سکیموں کے لیے مختص رقوم ناکافی ہیں اور ان میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال فزیبلٹی سکیموں کے نام پر اراکین کو اندھیرے میں رکھا گیا اور افسوس کی بات ہے کہ وہی سکیمیں دوبارہ بجٹ میں فزیبلٹی کے نام سے شامل کر دی گئی ہیں۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکن عدنان خان نے بجٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بدامنی اور معاشی مشکلات کے باوجود بجٹ کو ’’خوشحال پختونخوا‘‘ کا نام دینا حقائق کے منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے عمران خان کے ویژن کو پس پشت ڈال دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ صوبائی حکومت کا کارنامہ نہیں بلکہ وفاقی فیصلوں کا نتیجہ ہے کیونکہ جب وفاق تنخواہوں اور ایڈہاک ریلیف میں اضافہ کرتا ہے تو صوبوں کو بھی اسی طرز پر عمل کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں صرف الفاظ کا ہیر پھیر کیا گیا ہے جبکہ حقیقی مسائل کے حل کے لیے کوئی جامع حکمت عملی موجود نہیں۔عدنان خان نے کہا کہ صوبے میں پانچ لاکھ 68 ہزار سرکاری ملازمین موجود ہیں لیکن حکومت نے صرف 5 ہزار 868 سیکرٹریٹ ملازمین کو خصوصی ریلیف دے کر باقی ملازمین کو نظر انداز کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے لیے مجموعی قومی پیداوار کے تناسب سے دو فیصد سے بھی کم رقم مختص کی گئی ہے جبکہ ضمنی بجٹ میں 95.7 ارب روپے نان اے ڈی پی اخراجات شامل کرنا تشویشناک ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ڈسٹرکٹ سطح کے ملازمین کو ٹائم اسکیل اور دیگر مراعات سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی رکن ثوبیہ شاہد نے بجٹ کو ’’جھوٹ پر مبنی دستاویز‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ویژن اور منزل کی بات تو کی ہے لیکن عملی طور پر صوبے کے 55 لاکھ بچے آج بھی سکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب لاکھوں بچے بنیادی تعلیم سے محروم ہیں تو صرف کالجوں کے لیے فنڈز مختص کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے ایم ٹی آئی ہسپتالوں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ صحت کارڈ پر صرف تصاویر لگانے سے عوام کو معیاری طبی سہولیات نہیں ملتیں۔
ثوبیہ شاہد نے کہا کہ 13 سالہ حکمرانی کے باوجود صوبائی حکومت آج بھی خسارے اور سرپلس بجٹ کے درمیان واضح فرق بیان کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے بلدیاتی حکومتوں کی عدم موجودگی کے باوجود ان کے لیے 52 ارب روپے مختص کرنے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ 177 ترقیاتی منصوبوں کے لیے صرف ٹوکن منی رکھی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان منصوبوں کا مقصد صرف سیاسی تشہیر اور اخباری سرخیاں حاصل کرنا ہے۔رجب علی عباسی نے کہا کہ افغان جنگ سے لے کر آج تک خیبرپختونخوا مسلسل قربانیاں دیتا آیا ہے اور مختلف بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے۔
اس کے باوجود صوبائی حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں اپنی آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کا ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے جبکہ صوبوں کو ان کے جائز حقوق نہیں مل رہے۔ انہوں نے گلیات کی سڑکوں کی جلد تکمیل، مقامی آبی وسائل کے تحفظ اور سیاحتی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
حکومتی رکن قاسم علی شاہ نے کہا کہ اگرچہ صوبے میں سکول سے باہر بچوں کی شرح 36 فیصد ہے لیکن ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں یہ شرح کم ہے اور صوبائی حکومت اس میں مزید کمی لانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے صحت کارڈ پروگرام کو عوام دوست منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے بھی ترقیاتی سکیموں کے لیے کم فنڈز مختص کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ 189 منصوبوں کے لیے صرف ایک لاکھ روپے مختص کرنا ان کی تکمیل کو غیر یقینی بناتا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کم فنڈنگ والی سکیموں پر نظرثانی کی جائے اور وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے۔اسمبلی اجلاس کے دوران بجٹ پر بحث میں حصہ لینے والے اراکین نے مجموعی طور پر اس بات پر زور دیا کہ صوبے کو درپیش سکیورٹی، تعلیمی، صحت اور ترقیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وسائل کے بہتر استعمال، بروقت منصوبہ بندی اور شفاف حکمرانی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ عوام کو بجٹ کے حقیقی ثمرات پہنچ سکیں۔








