خیبرپختونخوا اسمبلی میں چار قراردادیں پاس، ضم اضلاع کے EPI ملازمین کی مستقلی، جیو نیوز کے خلاف کارروائی، تحصیل خزاعہ کی بحالی مطالبہ

خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیر کو مختلف اراکین کی جانب سے عوامی، انتظامی اور مذہبی اہمیت کے حامل چار قراردادیں متفقہ طور پر پاس کرلی گئیں، جن میں ضم اضلاع کے ای پی آئی ملازمین کو مستقل کرنے

پشاور۔ 06 جولائی (اے پی پی):خیبرپختونخوا اسمبلی میں پیر کو مختلف اراکین کی جانب سے عوامی، انتظامی اور مذہبی اہمیت کے حامل چار قراردادیں متفقہ طور پر پاس کرلی گئیں، جن میں ضم اضلاع کے ای پی آئی ملازمین کو مستقل کرنے، ضلع لوئر چترال میں تحصیل خزاعہ کی بحالی، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے واجبات کی ادائیگی اور جیو نیوز کے خلاف کارروائی کے مطالبات شامل ہیں۔رکن اسمبلی عبدالغنی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مالی سال 2020-21 میں ضم اضلاع کے لیے اے آئی پی اسکیم کوڈ 195153 ADP کے تحت بھرتی کیے گئے ای پی آئی ٹیکنیشنز گزشتہ پانچ برس سے ایمانداری اور محنت کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں اور گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ دیگر پراجیکٹ ملازمین کی طرح ان ملازمین کو بھی مستقل (ریگولرائز) کیا جائے۔رکن اسمبلی عبدالسلام نے ایک قرارداد میں محرم الحرام کے دوران جیو نیوز کی مبینہ نشریات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسی نشریات نے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ، اہل بیتِ اطہارؑ اور شعائر اسلام کے حوالے سے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں۔

قرارداد میں وفاقی حکومت اور پیمرا سے مطالبہ کیا گیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، جرم ثابت ہونے پر جیو نیوز کا لائسنس مستقل طور پر منسوخ کیا جائے، ذمہ دار افراد کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-A کے تحت مقدمات درج کیے جائیں اور میڈیا پر مذہبی مقدسات کے احترام سے متعلق ضابطۂ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔رکن اسمبلی فتح الملک نے ضلع لوئر چترال میں شوغور کے مقام پر ہیڈکوارٹر کے ساتھ تحصیل خزاعہ کی بحالی کی قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ لوٹکوہ کا علاقہ تاریخی طور پر ایک الگ انتظامی یونٹ رہا ہے، جبکہ دشوار گزار جغرافیہ، شدید برف باری اور افغانستان سے متصل سرحدی حیثیت کے باعث مؤثر انتظامی ڈھانچے کی ضرورت پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ عوام کو بہتر سرکاری سہولیات، مؤثر انتظام اور تیز رفتار ترقی کی فراہمی کے لیے تحصیل خزاعہ کو فوری طور پر دوبارہ قائم کیا جائے۔دریں اثنا، احمد کنڈی نے قرارداد پیش کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے تمام واجبات فوری طور پر ادا کیے جائیں۔

قرارداد میں یہ تجویز بھی دی گئی کہ ادارے کی فلاحی خدمات کے اعتراف میں ارکان اسمبلی کی تنخواہوں سے ماہانہ ایک ہزار روپے اور سول سیکرٹریٹ کے ملازمین کی رضامندی سے سو روپے ماہانہ کٹوتی کرکے ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کو فراہم کیے جائیں تاکہ ادارے کی انسانی خدمت کی سرگرمیوں کو مزید تقویت مل سکے۔

مزید خبریں