وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکار غیر معمولی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، میر سرفراز بگٹی

مزید خبریں
کوئٹہ۔ 06 جولائی (اے پی پی):وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بلوچستان پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سیکیورٹی فورسز کے افسران و اہلکار غیر معمولی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیاں ریاست کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں، حکومت شہداء کے خاندانوں کی مکمل کفالت اور زخمیوں کے بہترین علاج کو یقینی بنائے گی، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جاری کارروائیاں منطقی انجام تک جاری رہیں گی اور ریاست کی رٹ ہر قیمت پر برقرار رکھی جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہنہ اڑک میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کی مقامی ہسپتال میں عیادت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ وزیراعلیٰ نے زخمیوں کی خیریت دریافت کی اور ان کے عزم و حوصلے کو سراہتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات کی فراہمی میں کوئی کمی نہ آنے دی جائے۔ انہوں نے واقعے میں شہید ہونے والے افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں اور کسی بھی قسم کا مالی معاوضہ اس عظیم نقصان کا ازالہ نہیں کر سکتا، تاہم حکومت بلوچستان شہداء کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے شہداء کے لواحقین میں مالی امداد کے چیک تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ شہداء کے بچوں کی سولہ سال تک تعلیم، اسکالرشپس، مکمل کفالت، سرپرستی اور دیگر تمام ضروری اخراجات حکومت بلوچستان برداشت کرے گی تاکہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن سہارا فراہم کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران ایک پولیس جوان چوتھی مرتبہ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے زخمی ہوا، جو فورس کے بلند حوصلے، جرات اور فرض شناسی کی واضح مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بلوچستان پولیس پر فخر ہے، جس نے انسپکٹر جنرل پولیس کی قیادت میں مختصر عرصے کے دوران دہشت گردی کے خلاف اپنی استعداد اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ اس سطح کی استعداد حاصل کرنے میں مزید وقت لگے گا، مگر پولیس نے توقعات سے بڑھ کر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہر ادارہ اپنے آئینی اور قانونی دائر اختیار میں رہتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عموماً مختصر وقت کے لیے آ کر نرم اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، معصوم شہریوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور پروپیگنڈے کے لیے ویڈیوز بنا کر فرار ہو جاتے ہیں، تاہم ریاست ایسے عناصر کے مذموم عزائم کو ہرگز کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ واقعے کے فوراً بعد صوبائی وزیر داخلہ، انسپکٹر جنرل پولیس، سینئر پولیس افسران اور دیگر متعلقہ حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے تھے اور تمام اداروں نے فوری اور مربوط انداز میں کارروائیاں کرتے ہوئے صورتحال کو سنبھالا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت زمینی حقائق سے پوری طرح آگاہ ہے اور سیکیورٹی چیلنجز سے انکار نہیں کرتی، تاہم بلوچستان کے حوالے سے بعض حلقوں کی جانب سے جان بوجھ کر ایسا تاثر پیش کیا جاتا ہے جو حقائق کے منافی ہے ۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشت گردی کے ذریعے بلوچستان کے عوام کو خوفزدہ کرنے اور ریاست کو کمزور کرنے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ریاست دشمن عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جائیں گی، عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے حکومت اور تمام ریاستی ادارے مکمل یکجہتی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔








