سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منتقلیِ اختیارات کی ذیلی کمیٹی کا تقریباً پونے تین لاکھ آسامیاں خالی ہونے پر اظہار تشویش، فوری پر کرنے کا حکم

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منتقلیِ اختیارات کی ذیلی کمیٹی نے وفاقی حکومت میں بجٹ مختص ہونے کے باوجود تقریباً پونے تین لاکھ آسامیاں خالی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری پر کرنے کا حکم دے دیا ہے

اسلام آباد۔6جولائی (اے پی پی):سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منتقلیِ اختیارات کی ذیلی کمیٹی نے وفاقی حکومت میں بجٹ مختص ہونے کے باوجود تقریباً پونے تین لاکھ آسامیاں خالی ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں فوری پر کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ کمیٹی نے یہ انکشاف بھی کیا کہ وفاقی ملازمتوں میں صوبہ سندھ کا 83 ہزار اور بلوچستان کا 27 ہزار آسامیوں کا شارٹ فال موجود ہے، جسے فوری طور پر درست کیا جائے۔ سینیٹر ضمیر حسین گھمرو کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں سینیٹر پونجو بھیل سمیت اسٹیبلشمنٹ اور پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے شرکت کی۔ کنوینر کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ ملک میں لاکھوں گریجویٹس بیروزگار گھوم رہے ہیں جبکہ منظور شدہ آسامیاں خالی پڑی ہیں، جو شہریوں کے آئینی حقِ روزگار (آرٹیکل 38-g) کی خلاف ورزی ہے۔

کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو گریڈ 1 سے 16 تک کی خالی آسامیوں کو پر کرنے کا ٹائم لائن، گریڈ 16 اور 17 کے لیے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا شیڈول اور گریڈ 18 سے 22 کے افسران کے پروموشن بورڈز کی تفصیلات ایک ہفتے میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ مزید برآں کمیٹی نے تیل اور گیس کمپنیوں سے گزشتہ 16 سال کے منافع اور اس کے استعمال کی تفصیلی رپورٹ دو دن میں طلب کر لی ہے۔ کمیٹی نے وزارتِ پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ وہ گیس اور تیل پیدا کرنے والے صوبوں کو کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آئین کے آرٹیکل 172(3) کے تحت مالکانہ حقوق اور نمائندگی فراہم کرنے کے لیے صوبائی حکومتوں سے خود نامزدگیاں مانگیں اور وفاق اپنی طرف سے نمائندے نامزد نہ کرے۔