خیبرپختونخوا حکومت کا جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام اور متاثرہ بچوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے ’’آیت نور‘‘ کے نام سے چائلڈ پروٹیکشن بل لانے کا فیصلہ
خیبرپختونخوا حکومت کا جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام اور متاثرہ بچوں کو انصاف کی فراہمی کیلئے ’’آیت نور‘‘ کے نام سے چائلڈ پروٹیکشن بل لانے کا فیصلہ

مزید خبریں
پشاور۔ 14 ستمبر (اے پی پی):خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام اور متاثرہ بچوں کو فوری انصاف کی فراہمی کے لیے ’’آیت نور‘‘ کے نام سے چائلڈ پروٹیکشن بل لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں ایسے جرائم میں ملوث ملزمان کے لیے سخت سزائیں اور فوری انصاف کے لیے خصوصی عدالتوں کے قیام کی تجاویز شامل ہوں گی۔خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز سپیکر بابرسلیم سواتی کی زیرصدارت منعقد ہوا۔ تلاوت کلام پاک، حدیث مبارکہ اور قومی ترانے کے بعد پارلیمانی سیکرٹری شرافت اللہ نے نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مدین سوات میں نو سالہ معصوم بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد فائرنگ کرکے قتل کرنے کا انتہائی افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کو آگاہ کیا گیا، جس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو گھنٹے کے اندر ملزم کو گرفتار کرلیا۔ واقعے کی مؤثر تفتیش اور ملزم کو قرار واقعی سزا دلانے کے لیے ڈسٹرکٹ پراسکیوشن کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جبکہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی قائم کردی گئی ہے ۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ معصوم بچی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی اندوہناک ہے، قوم کی تمام بچیاں ہم سب کی بچیاں ہیں، ایسے درندہ صفت عناصر کو عبرتناک سزا ملنی چاہیے تاکہ آئندہ کوئی شخص اس قبیح فعل کی جرات نہ کرسکے۔انہوں نے واضح کیا کہ معاملے کو ایوان میں اس لیے پہلے زیر بحث نہیں لایا کیونکہ وہ پس پردہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے اور قانونی کارروائی کو یقینی بنانے میں مصروف تھے۔اس موقع پر سپیکر بابرسلیم سواتی نے کہا کہ حالیہ تین جنسی زیادتی کے واقعات میں پولیس کا کردار مثالی رہا ہے۔
انہوں نے ہری پور کی معصوم بچی آیت نور، پشاور اور مدین میں بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے جنسی زیادتی کے واقعات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔سپیکر نے کہا کہ وزیر قانون کی مشاورت سے بچوں کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے اور آیت نور کے نام سے چائلڈ پروٹیکشن بل اسمبلی میں لایا جائے گا۔ مجوزہ قانون کے تحت ایسے مقدمات میں فوری انصاف کی فراہمی کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کرنے اور ملزمان کے لیے سخت سزائیں تجویز کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ اور انہیں جنسی تشدد جیسے گھناونے جرائم سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر قانون سازی وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔








