پشاور۔ 06 فروری (اے پی پی):معروف آئینی ماہر اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل، سیف اللہ محب کاکاخیل نے خیبرپختونخوا میں مؤثر طرزِ حکمرانی اور انتظامی تسلسل کی بحالی کے لیے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا، ارکانِ صوبائی و قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی اکثریت سیاسی احتجاج، …
خیبرپختونخوا میں گورننس بحران: ڈپٹی، ایڈیشنل وزیر اعلیٰ کی تقرری کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دائر

مزید خبریں
پشاور۔ 06 فروری (اے پی پی):معروف آئینی ماہر اور سپریم کورٹ آف پاکستان کے وکیل، سیف اللہ محب کاکاخیل نے خیبرپختونخوا میں مؤثر طرزِ حکمرانی اور انتظامی تسلسل کی بحالی کے لیے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 199 کے تحت پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وزیراعلیٰ، صوبائی وزرا، ارکانِ صوبائی و قومی اسمبلی اور سینیٹرز کی اکثریت سیاسی احتجاج، ریلیوں اور مظاہروں میں مصروف ہے، بالخصوص راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر جاری سیاسی سرگرمیوں کے باعث صوبے کے عوامی مسائل نظرانداز ہو رہے ہیں۔
درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ صوبے کا صحت کا نظام شدید ابتری کا شکار ہو چکا ہے۔ سرکاری اسپتالوں اور میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز میں بستروں اور بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے جبکہ ہنگامی ادویات اور ویکسین کی عدم دستیابی معمول بن چکی ہے۔مزید کہا گیا ہے کہ کووڈ-19 اور ڈینگی جیسی وباؤں کے دوران بھی صوبے میں مؤثر اور مربوط حکمتِ عملی کا فقدان رہا۔درخواست گزار نے ماحولیاتی مسائل پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسموگ، آلودگی، سڑکوں پر غیر فٹ گاڑیوں کی بلا روک ٹوک آمدورفت، درختوں کی بے دریغ کٹائی اور شہریوں کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی حکومتی غفلت کا نتیجہ ہے۔
درخواست میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ عوامی احتساب اور شکایات کے ازالے سے متعلق اہم ادارے، جن میں رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن، رائٹ ٹو پبلک سروسز کمیشن اور سٹیزن پورٹل شامل ہیں، غیر مؤثر ہو چکے ہیں جس کے باعث عوامی شکایات التوا کا شکار ہیں۔سیف اللہ محب کاکاخیل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی عہدے عوامی امانت ہوتے ہیں اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور ان کی کابینہ آئین، رولز آف بزنس، حلفِ عہدہ اور گڈ گورننس کے اصولوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے قانونی طور پر پابند ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبے میں گورننس کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے متبادل انتظامی بندوبست قائم کرنے کی ہدایت دی جائے، جس میں ڈپٹی چیف منسٹر، ایڈیشنل چیف منسٹر یا قائم مقام وزیراعلیٰ کی تقرری یا نوٹیفکیشن شامل ہو تاکہ انتظامی جمود کے باعث خیبرپختونخوا کے عوام مزید مشکلات کا شکار نہ ہوں۔انہوں نے مزید استدعا کی کہ عدالت صوبائی حکومت کو ہدایت کرے کہ کابینہ کے ارکان کی متعلقہ سیکرٹریٹس میں حاضری اور عدالتی احکامات پر عملدرآمد سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔








