وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت واضح کرے کہ این ایف سی کے تحت دہشت گردی کے خلاف مختص فنڈز اور وسائل کہاں خرچ کئے
خیبر پختونخوا حکومت واضح کرے این ایف سی کے تحت دہشت گردی کے خلاف مختص فنڈز اور وسائل کہاں خرچ کئے؟ ،پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے ساتھ، وفاقی وزیر عطاء اللہ تارڑ

مزید خبریں
اسلام آباد۔28ستمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت واضح کرے کہ این ایف سی کے تحت دہشت گردی کے خلاف مختص فنڈز اور وسائل کہاں خرچ کئے؟ ساڑھے 12 سال سے زائد عرصہ حکومت کے باوجود صوبے میں سیف سٹی نظام، فرانزک لیب، گاڑیوں کی رجسٹریشن کا موثر نظام اور پنجاب کی طرز پر کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ قائم کیوں نہیں کئے گئے؟ پولیس کو مطلوبہ بلٹ پروف جیکٹس، جدید اسلحہ و دیگر سازوسامان کیوں فراہم نہیں کیا گیا، صوبے میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے باوجود صوبائی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر بھی موثر عمل درآمد میں ناکام رہی ہے، پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے ساتھ۔ پیر کو یہاں وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کی نیت اور طبیعت دونوں خراب ہیں، یہ نہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی اونر شپ لیتے ہیں، نہ عملی اقدامات کرتے ہیں اور نہ ایسا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی، کالعدم ٹی ٹی پی کی ”بی“ ٹیم ہے، خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی گزشتہ ساڑھے 12 سال سے زائد عرصے سے حکومت میں ہے جو کسی بھی صوبے کو ٹرانسفارم کرنے کے لئے بہت طویل عرصہ ہوتا ہے مگر اس دوران وہ کے پی ایل آئی جیسے لیور ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ اور بہترین ہارٹ انسٹیٹیوٹ بھی نہیں بنا سکے۔ خیبر پختونخوا کے عوام علاج کے لئے دوسرے صوبوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ وہاں کی حکومت انتظامی طور پر ناکام اور دہشت گردوں کی سہولت کاری میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی منعقدہ ایک تقریب میں دو افغان مندوبین پاکستانی ترانے کے احترام میں کھڑے نہیں ہوئے، میں وہاں موجود ہوتا تو ان پر پابندی عائد کر کے انہیں بے دخل کر دیتا۔ ہمارے قومی ترانے کے احترام میں کوئی کھڑا نہ ہو اور آپ بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہیں، یہ ہماری غیرت گوارانہیں کرتی مگر سہیل آفریدی کو یہ گوارا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے سہیل آفریدی کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اے این پی، جے یو آئی (ف)، جے یو آئی سمیع الحق اور مسلم لیگ (ن) نے لاشیں اٹھائیں اور خون دیا۔ دہشت گردوں کی مذمت نہ کرنا بزدلی ہے، یہ پی ٹی آئی کے فنانشل انٹرسٹ کو بھی سوٹ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں مائننگ، گولڈ مائننگ، ٹمبر، ٹوبیکو میں سارا ٹیرر کرائم نیکسس ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اور بغیر نمبر پلیٹ و رجسٹریشن گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چل رہی ہیں، یہ ساڑھے 12 سالوں میں گاڑیوں کو رجسٹر نہیں کر سکے، یہ صوبے کی ذمہ داری تھی، اس سے صوبے کا ٹیکس ریونیو بڑھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا بیس بنایا جائے تو دہشٹ گردوں اور غیر قانونی گاڑیوں کا سراغ لگایا جا سکتا ہے جبکہ رجسٹریشن سے حاصل ہونے والے اربوں روپے صوبے کی فلاح و بہبود اور دہشت گردی کے خلاف جنگ پر خرچ ہو سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں لینے سے بھی انکار کر دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب میں سی ٹی ڈی فورس قائم کی جس نے موثر انداز میں کاؤنٹر ٹیررازم آپریشنز کئے اور دہشت گردی کے خاتمے میں کردار ادا کیا جبکہ خیبر پختونخوا حکومت نے نہ ایسی فورس بنائی اور نہ ہی بنانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں شہید ہونے والوں کی اکثریت عام شہریوں کی ہے، پورے صوبے کی سکیورٹی کو سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ ہنگو، ڈی آئی خان اور کوہاٹ میں لاشیں گر رہی ہیں، وہاں زخمی ہونے والوں نے کہا کہ ہمیں صحت یاب ہونے دیں، ہم ان دہشت گردوں کا بندوبست کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ پوری قوم اور افواج پاکستان مل کر ان دہشت گردوں کو نیست و نابود کریں گی کیونکہ انہوں نے ہمارے بچوں کا خون بہایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے صرف قیدی کی بات کریں گے اور اسلام آباد میں دھرنے دیں گے، یہ اپنے صوبے کی حالت دیکھیں، انہوں نے پولیس کو دہشت گردوں کے سامنے نہتا کر کے شہید ہونے کے لئے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہید کانسٹیبل فہیم اللہ کے گھر گئے جہاں ان کے والد نے ہمت اور حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ میرا ایک ہی بیٹا تھا جو شہادت کے مرتبے پر فائز ہوا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر فہیم اللہ نے بلٹ پروف جیکٹ پہن رکھی ہوتی اور اس کے ہاتھ میں جدید مشین گن ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے اسی مد میں ملنے والا پیسہ اپنے سیاسی مقاصد، دھرنوں اور جلسوں پر خرچ کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے ساتھ۔ وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کے دوران ایک افغان شہری کی تصویر صحافیوں کو دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ افغان شہری ہے جس نے دہشت گردی کی کارروائی میں حصہ لیا اور ریسکیو ٹیم پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اوپن سورس انٹیلی جنس کے مطابق سوشل میڈیا پر اس شخص کی تصویر کابل کے پشتونستان سکوائر کے سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں خون بہہ رہا ہے، لاشیں گر رہی ہیں اور لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے مگرپی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو سیاست پیاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جو ممکن ہوا کریں گے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ کوہاٹ میں افغانستان سے ڈرون آئے اور کرم میں فائرنگ ہوئی، مگر پی ٹی آئی کی کے منہ سے ایک لفظ نہیں نکلا۔ میں کوہاٹ میں چھ گھنٹے رہا، جہاں لوگوں نے دہائیاں دیں کہ صوبائی حکومت کہاں ہے؟ کل بھی یہ اپنی سیاست کے لئے ڈی آئی خان گئے اور وہاں پریس کانفرنس کرکے یہ پیغام دیا کہ ہم اکٹھے ہیں، خدارا اپنے منہ سے یہ الفاظ نکالیں کہ دہشت گردوں کا پاکستان اور خیبر پختونخوا سے خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دہشت گردوں کی سہولت کاری اس لئے کرتے ہیں کہ ان کے سیاسی و مالی مفادات وابستہ ہیں۔ لاشیں گر رہی ہیں مگر انہیں پرواہ نہیں کیونکہ انہیں اپنی سیاست عزیز ہے۔ خیبر پختونخوا میں غیر قانونی مائننگ اور ٹھیکوں سے حاصل ہونے والا مال انہیں عزیز ہے، مگر پاکستان اور خیبر پختونخوا کے شہری کٹ مریں، اس کی انہیں ذرہ برابر پرواہ نہیں۔ اگر انہیں پرواہ ہوتی تو کوہاٹ میں بیٹھ کر لا اینڈ آرڈر کی میٹنگ کرتے اور پورے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر اجلاس بلاتے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ چیک پوسٹ پر حملے میں بچی اور نوجوان شہید ہوئے جن میں اکثریت سویلین کی تھی، صوبائی حکومت کو وہاں جا کر بیٹھنا چاہیے تھا۔ یہ وسائل کی کمی کا رونا روتے ہیں حالانکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہر سال خیبر پختونخوا حکومت کو کائونٹر ٹیررازم کے لئے اضافی فنڈز دیے جاتے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بتایا جائے کئی سو ارب روپے کہاں خرچ کئے گئے اور اس فنڈ سے سیف سٹی کے کتنے کیمرے لگائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں کیپٹن مبین اور زاہد گوندل شہید ہوئے تو دہشت گردوں کے سہولت کار سیف سٹی کیمروں کی مدد سے پکڑے گئے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت حساب دے کہ کائونٹر ٹیررازم کے یہ پیسے دھرنوں اور سیاسی سرگرمیوں پر کیوں خرچ کئے گئے؟ انہوں نے کہا کہ اب پانی سر سے گزر چکا ہے کہ جہاں بچے شہید ہو رہے ہوں، وہاں سیاسی کھیل کھیلا جائے کہ بانی کو کس ہسپتال میں بھیجنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں، بطور پاکستانی میری غیرت اجازت نہیں دیتی کہ میں کسی بھی دہشت گرد کے سہولت کار سے نرمی سے بات کروں۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ سہیل آفریدی انتظامی اور سیاسی طور پر ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کل علی امین گنڈا پور کے پاس گئے جن کے بارے میں وہ ماضی میں بڑی بڑی باتیں کرتے اور انہیں حکومت کا ٹاؤٹ قرار دیتے تھے۔ سہیل آفریدی کی سیاسی ساکھ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کا سامنا نہیں کر سکتے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ ناکام حکومت کا ناکام وزیراعلیٰ سیاست اور انتظامی امور دونوں میں ناکام ہو چکا ہے، صوبے میں تباہی و بربادی پھیل چکی ہے، دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے اور صوبائی حکومت اس کی روک تھام میں ناکام رہی ہے۔ اس کے برعکس بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کئے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران سرفراز بگٹی نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت متعدد اجلاس کئے، پولیس کو جدید آلات فراہم کئے اور وفاق سے افسران بھی طلب کئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے اپنے سول افسران کو بھی مکمل سکیورٹی آلات اور وسائل فراہم کئے ہیں۔ سرفراز بگٹی دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بہادری، اہلیت اور تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہے ہیں، یہی دونوں صوبائی حکومتوں کے طرزِ عمل میں بڑا فرق ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی پالیسی دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کرنے کی تھی۔ نواز شریف کے دور حکومت میں نیشنل ایکشن پلان پر مؤثر عملدرآمد ہوا اور 2017ء تک ملک کے بیشتر علاقوں سے دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا گیا تھا تاہم 2018ء میں تحریک انصاف کی حکومت نے دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کرنے کی پالیسی اپنائی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور تحریک طالبان افغانستان کے لئے ہمیشہ نرم گوشہ رہا ہے اور ان کی پالیسی کے نتیجے میں دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کیا گیا جس کے نتائج آج سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو دہشت گردوں کے حوالے سے اپنی پالیسی کی وضاحت کرنی چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پولیس کو پی ٹی آئی کا سیاسی ونگ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ صوبائی حکومت پبلک سروس کمیشن ختم کر کے براہ راست بھرتیاں کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ صوبائی حکومت براہ راست بھرتی کا اختیار کیوں چاہتی ہے؟ صوبائی حکومت بھرتیوں، تبادلوں اور تعیناتیوں کے تمام اختیارات اپنے پاس اس لئے رکھنا چاہتی ہے کہ سیاسی بنیادوں پر پولیس میں بھرتیاں کی جا سکیں۔ اس طرح پولیس میں سیاسی افراد کو بھرتی کرکے دہشت گردوں کی سہولت کاری کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے جو شہداء کے ورثاء اور ان کی قربانیوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی اور کسی قانون کے تحت اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان الحمدللہ موثر انداز میں جاری ہے تاہم پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو اس کی کوئی پرواہ نہیں، انہیں نہ نیشنل کا پتا ہے، نہ ایکشن کا اور نہ پلان کا۔







