گورنر خیبرپختونخوا کا خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کا دورہ

گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ کیااور ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے احتجاج میں ان سے اظہار یکجہتی کیا۔

پشاور۔ 28 ستمبر (اے پی پی):گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال کا دورہ کیااور ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے احتجاج میں ان سے اظہار یکجہتی کیا۔گورنر ہاوس پشاور تر جمان کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی کی درخواست پر ینگ ڈاکٹرز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کردیا۔اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کی صورتحال کے پیش نظر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان میں گورنر فیصل کریم کنڈی کے مثبت کردار کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔ ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ گورنر خیبرپختونخوا کی درخواست اور موجودہ صورتحال کے پیش نظر احتجاج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بعدازاں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ صوبے میں ڈاکٹرز اور یونیورسٹی فیکلٹی اپنے حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، اسلام آباد میں حق مانگنے والوں کو صوبے میں احتجاج کرنے والوں کے حقوق بھی دینے چاہئیں۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی موجودہ صورتحال لانگ مارچ کی متحمل نہیں ہو سکتی، صوبے میں دہشت گردی کے باعث جنازے اٹھ رہے ہیں، ایسے حالات میں اسلام آباد آکر احتجاج کرنا مناسب نہیں۔ صوبے میں گورننس اور کرپشن کے مسائل بھی موجود ہیں، صوبائی حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے۔گورنر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں صوبے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنائیں اور دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کریں۔ پہلے صوبے میں امن قائم کیا جائے، سیاست اور دیگر معاملات بعد میں بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ لانگ مارچ ملتوی کرکے امن و امان کی صورتحال پر توجہ دی جائے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ گورنر راج مجبوری کے تحت اس وقت لگایا جاتا ہے جب صوبے کے حالات خراب ہوں۔ صوبائی حکومت اس حد تک نہ جائے کہ گورنر راج لگانے کی نوبت آئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صوبے کے حالات خراب ہوئے تو وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں۔

مزید خبریں