پشاور۔19جون (اے پی پی)صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑانے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح صحت کا نظام ہے اس لئے صحت کےلئے تاریخی بجٹ 24ارب روپے مختص کیاہے،2020-21بجٹ میںہم نے شعبہ صحت میں settledاور ضم شدہ اضلاع کےلئے مجموعی طور پر124ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ مختص کیا ہے،setteledاضلاع میں پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال 105.9ارب روپے رکھے گئے ہیں،ترقیاتی بجٹ کی مجموعی رقم ریکارڈ24.4روپے …
خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح صحت کا نظام ہے، اس لئے صحت کےلئے تاریخی بجٹ 24ارب روپے مختص کیاہے،تیمور سیلم جھگڑا

مزید خبریں
پشاور۔19جون (اے پی پی)صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑانے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح صحت کا نظام ہے اس لئے صحت کےلئے تاریخی بجٹ 24ارب روپے مختص کیاہے،2020-21بجٹ میںہم نے شعبہ صحت میں settledاور ضم شدہ اضلاع کےلئے مجموعی طور پر124ارب روپے کا ریکارڈ بجٹ مختص کیا ہے،setteledاضلاع میں پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال 105.9ارب روپے رکھے گئے ہیں،ترقیاتی بجٹ کی مجموعی رقم ریکارڈ24.4روپے رکھی گئی ہے جس میں13.8اربsetteled اضلاع اور105.9ارب روپے ضم شدہ اضلاع کا حصہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے کےلئے وزیر اعلی محمود خان کا کلئیر ویژن ہے کورونا وباءکیوجہ سے موقع کا استعمال کر تے ہوئے ہم نے صوبے میں صحت کی فراہمی کے مراکزپر مزید پیسہ خرچ کرکے اور بہتر بناناہے،ہمارے3مقاصد ہیں صوبے کے ہر ہسپتال میں سامان، ڈاکٹروں،دوائیاں پہنچانا ہے،صحت انصاف کارڈز ہرصوبے کے ہر خاندان کو پہنچانے کےلئے اگلے مہینے کنٹریکٹ سائن کریں گے جس سے خیبر پختونخوا اس مالی سال میں پہلا صوبہ بن جائے گا جہاں ہر خاندان کو یونیورسل ہیلتھ کوریج میسر ہو گی صرف اس پروگرام کےلئے10ارب روپے مختص کئے ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز خیبر پختونخوا اسمبلی میںمالی سال2020-21کا بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کا کہنا ہے کہ شعبہ صحت کےلئے مختص رقم میں ضرورت ہوئی تو ہم مزید اضافہ کریں گے،پوری دنیا کرونا وائر س سے دوچارہے ایک ایس وباءجس کی مثال پچھلے102سال کی عالمی تاریخ میں نہیں ملتی،صرف 3ماہ میں خیبر پختونخوا کی محصولات میں160ارب روپے کی کمی آئی ہے حالات جتنے بھی مشکل ہوں انشاءاللہ کورونا وائرس کے چیلنج سے بھی کامیابی سے گزر جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ مالی سال2020-21کا بجٹ مشکل ترین حالات کے باوجود ہم نے ترقیاتی بجٹ کاحجم برقرار رکھا ہے ،بلکل ٹیکس فری بجٹ ہے نہ کوئی نیاٹیکس،نہ ہی ٹیکس ریٹ میں کوئی اضافہ اور ٹیکس ریلیف کا صوبے کی تاریخ میں سب سے بڑا اور بہترینstimulusپیکج ہے،کرنٹ بجٹ میں نمایاں اصلاحات،اخراجات میں کمی کرکے اس رقم کو بجٹ میں ایسے شعبہ جات میں مختص کیا ہے جس سے حکومےت کی سروس ڈیلوری بہتر ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ایم ٹی آئی ہسپتالوں کےلئے36ارب مختص کئے گئے ہیں جس میں سے26ارب صرف ایم ٹی آئی کا کرنٹ بجٹ،4ارب اہم منصوبوں کی تکمیل کےلئے اور مزید6ارب روپے کا خصوصی ان ڈیمانڈ فنڈ جس سے بڑی ہسپتالوں کا نظام جلد سے جلد مزید بہتر ہو سکیں گا۔انہوں نے کہا کہ اے ڈی بی کے تحت آر ایچ سیز،ٹی ایچ کیوز،ڈی ایچ کیوزاور بی ایچ یوز کے انفراسٹرکچر اور سامان کی کمی کو پورا کیا جا ئے گا اس منصوبے میں عالمی بینک13ارب روپے کی شراکت داری کریں گا،دوائیوں کی خریداری کےلئے رقم کو2.5ارب روپے سے بڑھا کر4ارب کر دیا گیا ہے تاکہ دوائیوں کی کمی نہ رہے،ہسپتالوں میں ویسٹ منجمنٹ کی کمی پورا کر نے کےلئے1ارب کی رقم سے نجی شعبے کی خدمات حاصل کی جائے گی۔صحت بجٹ کے علاوہ24ارب روپے اضافی بجٹ ہنگامی فنڈ رکھا گیا ہے جو کہ کورونا وائرس کے اخراجات ، شہداہ امدادی پیکج،حفاظتی سامان کی خریداری ،ٹیسٹنگ،LOCUMپروگرام،احساس پروگرام کے ذریعے غریب طب±ءکی امداد اور معاشی بحالی کے منصوبوںکےلئے استعمال ہو سکیں گا اس میں15ارب روپےsetteledاضلاع اور9ارب ضم شدہ اضلاع کا حصہ ہو گا۔








